نابینا افراد کے لئے بریل طریقہ تعلیم کا موجد: لوئی بریل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورج کیوں نہیں نکلا؟ آتش دان میں آگ کیوں نہیں جل رہی؟ پانچ چھ سالہ ننھا لوئی اپنے گھر والوں سے اس قسم کے سوالات کرتا رہتا تھا جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ کیونکہ اس بچے کی دنیا اب بالکل اندھیری ہو گئی تھی۔ وہ مکمل نابینا تھا۔ لیکن کسے خبر تھی کہ اندھیری دنیا میں گم یہ بچہ بڑا ہو کر اپنے بریل طریقہ تعلیم سے پوری دنیا کے نابینا لوگوں کی زندگیوں کو علم سے روشن کر دے گا۔

لوئی بریل چار جنوری 1809 کو کوئپوری میں پیدا ہوا جو پیرس (فرانس) کے جنوب میں کچھ میل کے فاصلے پر واقع چھوٹا سا اک قصبہ ہے۔ اس کے والد کا نام سائمن رینے بریل اور والدہ کا مونیخ بیرن بریل تھا۔ لوئی ان کا چوتھا اور سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔ سائمن بریل کی گھوڑے کی پشت پہ لگانے والی زرہ بکتر اور زین بنانے کی دکان تھی۔ اور وہ اپنے کام کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے گھر میں مرغیاں اور گائے پالنے کی بھی جگہ تھی۔ اس طرح یہ گھرانہ بہت حد تک اپنے گھر کے کھانے کی ضرورت کا انتظام خود ہی کرتا تھا۔ پڑھ لکھ کر کمانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں محسوس ہوتی تھی۔ لیکن لوئی کی ذہانت دیکھ کر والدین نے فیصلہ کر لیا تھا کہ بجائے دکان پر بیٹھنے کے لوئی تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر، انجینئر یا سائنسدان بنے گا۔

چمکدار نیلی آنکھوں اور سنہری گھونگھر والے بالوں والا لوئی دن بھر مسلسل سوال پوچھتا رہتا۔ تین سال کی عمر میں اس کو ہر چیز کے بارے میں معلوم کرنے کا شوق تھا۔ اس کے والد اکثر اسے اپنی دکان پر لے جاتے، جہاں لوئی چمڑے کے بنے ہوئے ننھے منے کھلونا سپاہی، گھوڑے اور ویگن وغیرہ سے کھیلتا رہتا جو اس کے ابا نے اس کے لئے بنائے تھے۔ لوئی کو چھوٹی سی عمر میں سارے اوزار اور ہتھیاروں کے نام پتہ تھے۔ جو اس کے ابا کام میں استعمال کرتے تھے۔

ایک دن اس کے ابا تھوڑی دیر کے لئے کسی کام سے گاہک کے ساتھ باہر گئے ہی تھے کہ موقع سے فائدہ اٹھا کر لوئی ایک نوکیلا تیز دھار والا اوزار ہاتھ میں لے کر اپنے ابا کی طرح چمڑے میں سوراخ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن اچانک ہی اوزار پھسلا اور اس کا نوکیلا حصہ تین سالہ لوئی کی بائیں آنکھ میں چلا گیا۔ وہ تکلیف سے بلبلا اٹھا۔ اس کے رونے کی آواز سن کر والد دوڑے ہوئے آئے۔ قصبہ میں کوئی اچھا ڈاکٹر نہ تھا۔ قریبی ہسپتال بھی بیس میل کے فاصلے پر تھا۔ لہذا اس کو قصبہ کی جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والی ایک عورت کے پاس لے جایا گیا۔ لیکن آنکھ میں جراثیم کا حملہ ہو چکا تھا۔ وہ زمانہ اینٹی بایوٹک یا اینٹی سیپٹک مرہم کا بھی نہیں تھا۔ جلد ہی لوئی کی دوسری آنکھ میں بھی جراثیم پھیل گئے۔ اس طرح آہستہ آہستہ دو سال کے عرصے میں وہ مکمل نابینا ہو گیا۔

1812 میں فرانس میں اندھے ہو جانے کا مطلب ہمیشہ کے لئے دوسروں کا محتاج ہونا تھا۔ زیادہ تر لوگ بھیک مانگ کر گزارہ کرتے تھے اور کچھ ٹوکریاں بن کر یا موسیقی بجا کر کمائی کرتے۔ لوئی کو اندھیری دنیا سے ڈر لگتا تھا۔ لیکن اس کے گھر والے اس کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ اس کو ہر کام خود سے کرنے کی تربیت دیتے۔ شروع میں اس نے گھر میں آسانی سے چلنے پھرنے کی عادت ڈالی اور پھر اعتماد کے ساتھ گھر کے باہر قدموں کو گن کر چلنے کی تربیت لی۔

اس کے ابا نے اس کے لئے ایک لکڑی کی ڈنڈی بنا دی تھی۔ جو اس کے لئے مددگار تھی۔ لوئی کی تعلیمی تربیت کے لئے انہوں نے لکڑی کے ابھرے حروف کاٹ کر انہیں کیلوں کی مدد سے ایک بورڈ پر ٹھونک دیا۔ تاکہ وہ ان حروف کو چھو کر اپنے نام کے ہجے کر سکے۔ انہوں نے چمڑے کی مختلف چیزیں بھی بنائیں جن کی مدد سے وہ چیزوں کو چھو کر ان میں فرق کرنا سیکھ رہا تھا۔ اس کی بڑی بہن اسے روز اچھی اچھی کہانیاں سناتی جو لوئی بڑی توجہ اور دلچسپی سے سنتا۔

1815 کا سال تھا اور بہار کا زمانہ تھا۔ قصبہ کے چرچ کا ایک نیا پادری جیکوز پولی کام کرنے آیا۔ لوئی کی عمر اس وقت چھ سال تھی۔ پادری جب لوئی سے ملا تو اس کی ذہانت سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے لوئی کو خود پڑھانے کا فیصلہ کر لیا۔ جلد ہی لوئی نے سائنس، ادب اور مذہب کی تعلیم حاصل کرنی شروع کر دی۔ وہ پتیوں کو چھو کر، پھول کو سونگھ کر اور چڑیا کے گا نے سن کر ان کی قسموں میں فرق کر سکتا تھا۔ شاعری، تاریخ اور بائبل کی کہانیاں اس کو سن کر ہی یاد ہو گئیں تھیں۔

لوئی کی دلچسپی اور ذہانت کو دیکھتے ہوئے پادری نے اسے قصبے کے اسکول میں داخل کرانے کا فیصلہ کر لیا۔ تاکہ لوئی دوسرے بچوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکے۔ اس کا استاد انٹونی بیچرٹ ایک نرم دل انسان تھا۔ اس نے لوئی کو اپنے اسکول میں داخل کر لیا۔ اس کی یاداشت اور توجہ دینے کی صلاحیتیں زبردست تھیں۔ وہ شوق اور توجہ سے استاد کا سبق سنتا اور اپنے دوست سے درسی کتابیں بلند آواز میں پڑھنے کہ کوشش کرتا۔

1818 میں لو ئی دس سال کا ہوا تو پادری اور اسکول کے استاد نے سائمن بریل کو مشورہ دیا کہ وہ لوئی کو نابینا بچوں کے اسکول، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار بلائنڈ یوتھ میں داخل کرا دے۔ 15 فروری 1819 کو لوئی کا اس اسکول میں داخلہ ہو گیا، بلکہ اس کو ادارے کی طرف سے تعلیمی اور رہائشی (رہنے کا) وظیفہ (اسکالر شپ) بھی مل گیا۔ یہ بہت اچھی بات تھی۔ کیونکہ اس کے والدین امیر نہ تھے۔ اب ان کو لوئی کی تعلیم پر کوئی خرچہ نہ کرنا پڑے گا۔

شروع میں لوئی کو یہ اسکول بڑا عجیب سا لگا۔ اس کی عمارت بہت پرانی تھی اور فضا میں ہر وقت سیلن کی بو اور اندھیرا سا تھا۔ تاہم آہستہ آہستہ جب اس کے دوست بن گئے۔ تو اس کا دل لگنے لگا۔ اس کی سب سے گہری دوستی گبرئیل سے تھی۔ جو اس کے کمرے میں ہی رہتا تھا۔ اسکول میں جغرافیہ تاریخ پڑھانے کے ساتھ چپلیں بنانا اور ٹوپیاں بننا بھی سکھائی جاتیں جو پیرس کی مارکیٹ میں بیچی جاتیں۔ یہ سب کچھ ٹھیک تھا لیکن لوئی کو ہاتھ میں کتابیں لے کر خود سے پڑھنے کا شوق تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفحات: 1 2