پاکستانی شہری کو اسرائیل کے سفر کی اجازت دینے پر واویلا کیوں؟


25 جنوری 2019 روزنامہ ”جنگ“ میں معروف صحافی عمر چیمہ صاحب کی ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کی چیدہ چیدہ باتیں ملاحظہ فرمائیں :

”آپ چاہے اسے سفارتی نرم دلی یا بچگانہ اقدام کہیں، پاکستان نے اپنے یہودی شہریوں کو نہ صرف اسرائیل جانے کی اجازت دے دی بلکہ اس اجازت کی تشہیر کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ ایسا ایک اسرائیلی طیارے کی پاکستان آمد کے تین ماہ کے اندر ہوا ہے۔ 31 سالہ فشل خالد لوگوں کے علم میں پہلا پاکستانی ہے جسے اسرائیل کا سفر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ فشل کراچی کا رہائشی ہے۔ اس کے والد مسلمان اور والدہ یہودی ہیں۔ اس نے خود یہودیت اختیار کی ہے اور نادرا میں خود کو یہودی رجسٹر کروایا ہے۔

اس کے باقی چار بھائی مسلمان ہیں۔ پاکستان میں سات سے آٹھ سو یہودی آباد ہیں۔ فشل نے ایپ کے ذریعے وزارت امور خارجہ کو اجازت نامے کے لیے درخواست دی۔ گزشتہ 2 جنوری کو وزارت امور خارجہ نے ٹیلی فون کال کے ذریعے آگاہ کیا کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر مقبوضہ بیت المقدس جا سکتے ہیں۔ ہم اسرائیلی سفارت خانے کو ویزے کی درخواست دے رہے ہیں جس پر فشل نے ترجمان وزارت خارجہ ڈاکٹر فیصل کا شکریہ ادا کیا ”۔

رپورٹ کا بقیہ حصہ بھی بوقت ضرورت نقل کیا جائے گا مگر اس سے پہلے سوال یہ ہے کہ اسرائیل جانے پر اتنا واویلا کیوں؟ سوشل میڈیا نے اس ”چائے کی پیالی“ پر اتنا شور کیوں مچایا ہوا ہے؟ رپورٹ تو لکھ ماری مگر ابھی تک تو یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ کوئی جہاز پاکستان آیا بھی تھا یا نہیں؟

اسرائیل – مصر

اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنانے کی بات کرنے والے کو قائد اعظم کے چند اسرائیل مخالف فرمان سنا کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ ایسے طبقے سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا قائد اعظم کی ساری زندگی صرف اسرائیل کی مخالفت کرنے میں گزری تھی؟ کیا وہ سچائی اور ایمان داری کے پیکر نہیں تھے؟ کیا انھوں نے دیانتداری کا درس نہیں دیا تھا؟ کیا سرکاری افسران کو ایمان داری سے کام کرنے کو نہیں کہا تھا؟  کیا وقت کے پابند نہیں تھے؟ کیا سفار شی کلچر کی مخالفت نہیں کرتے تھے؟ کیا انھوں نے نسل و صوبائیت چھوڑ کے ایک قوم بنے رہنے کا درس نہیں دیا تھا؟ مگر آج تو ہر دوسرا لیڈر کرپٹ ہے اور ہر تیسرا سرکاری افسر گھپلے مارتا ہوا پکڑا جاتا ہے۔ حکمرانوں کے پروٹو کول میں غریبوں کے بچے مرنے پر خاموش، جلسے میں لیڈروں کے گھنٹوں دیر سے آنے پر مطمئن، سفارشی کلچر کے اندھا دھند شوقین، پنجابی، بلوچی، سندھی، پٹھان، سرائیکی کے نام پہ ٹکڑوں میں بٹی اس قوم کو قائد کے فرمان کبھی یاد نہیں آئے۔ کسی نے کبھی نہیں کہا کہ قائد اعظم ایماندار تھے اور آج کے لیڈر کرپٹ ہیں، اس لیے انہیں ووٹ مت دو۔ مگر جیسے ہی اسرائیل کی بات ہو تو ایسے لگے گا کہ جیسے ”فرمودات جناح“ ہر بندہ ہتھیلی پہ لکھ کر گھومتا ہے۔

پھر وہ طبقہ آتا ہے جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی مخالفت ”مسلم اُمہ سے یک جہتی“ کی بنا پر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ باقی ”مسلم ممالک“ کے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں۔ اس طبقے کے سبھی لوگ مجھ سے زیادہ قابلِ عزت ہیں مگر وہ یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسرائیل تو خود عربوں نے بنوایا تھا؟ حجاز کے بادشاہ حسین کے برٹش گورنمنٹ سے کیے گئے معاہدے کیوں بھول جاتے ہیں؟ بھول جاتے ہیں کہ 30، 40 کی دہائی میں فلسطینیوں نے خود زمینیں یہودیوں کو بیچی تھیں۔

اسرائیل – اردن

یقین نہیں آتا تو اسرائیل کے پہلے صدر کی آٹو بائیو گرافی پڑھ لیں۔ اس نے لکھا ہے کہ میں یروشلم میں تھا جب عرب اپنی جائیدادیں بیچنے کے لیے ہماری منتیں کرتے تھے۔ لیکن ہمیں تو ایک ہی سبق پڑھایا جاتا ہے کہ ہم ایک ہزار سال سے فاتح تھے تو حضور ایک معصومانہ سا سوال ہے کہ اس دوران مفتوح کون تھے؟ جناب وہ بھی ہم ہی تھے، کیوں کہ مسلمانوں کی آدھی تاریخ تو اپنے ہی لوگوں کی گردنیں کاٹنے سے بھری پڑی ہے۔

میں ابھی جس طبقے کی بات کر رہا ہوں وہ تو اس عرب ملک کا نام بھی بھول جاتے ہیں جس سے اسرائیل اپنی تیل کی ضرورت پوری کرتا ہے، کیوں؟ دو چار کو چھوڑ کے کون سے ایسے اسلامی ممالک ہیں جن کے اسرائیل سے تعلقات نہیں ہیں؟ بہت سوں نے تو سفارت خانے کھول رکھے ہیں۔ میرے یہ قابل دوست سعودی شہزادے کی وہ کھری کھری باتیں بھی بھول جاتے ہیں جو اس نے فلسطینی صدر کو ”مسئلہ فلسطین“ پر بات کرتے وقت سنائی تھیں۔ یہ سب جاننے کے بعد ہم ایسی کون سی مصیبت سے دوچار ہیں کہ ہم نے اسرائیل سے تعلقات نہیں بنانے؟

اسرائیل – سعودی عرب

اسرائیل سے تعلقات کا مخالف تیسرا اہم طبقہ ”مذہبی جنونیت“ والا ہے۔ وہی لوگ جو کل تک ”فتویٰ“ لگاتے تھے کہ لاؤڈ سپیکر شیطانی آلہ ہے اور آج لاؤڈ سپیکر کے بنا تقریر کرنا پسند نہیں کرتے۔ کل تک یہ لوگ جہاز کو بھی حرام قرار دے رہے تھے اور آ ج فریضہ حج ادا کرنے جہاز پہ جاتے ہیں۔ یہ لوگ فتوے ایسے بانٹتے پھرتے ہیں جیسے فتویٰ نہ ہوا بازار سے ملنے والی ٹافیاں ہو گئیں۔ دعا کرتا ہوں کہ خدا مجھے ”فتویٰ فیکٹری“ سے محفوظ رکھے کیوں کہ میں تو یہ سوال کرنے کی جرأت بھی کر رہا ہوں کہ یہودیوں کی بنائی ہوئی چیزیں استعمال کرنے میں کوئی تکلف نہیں تو تعلقات سے کیوں؟ یہ ”شوربہ حلال اور بوٹیاں حرام“ کا اصول کیوں اپنایا جا رہا ہے؟

موجودہ حکومت کے فشل خالد کو اسرائیل جانے کی اجازت دینے والے فعل پر بھی یہ طبقہ سر گرم ہو گیا ہے۔ اندھا دھند تنقید کے ساتھ کچھ تو ”ہول سیل ریٹ“ پر ”فتوے“ بھی جاری کر رہے ہیں۔ ویسے یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر غور کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ”کسی سے نہ ڈرنے والا کمانڈو“ بھی انہی تعلقات کی حمایت میں للکاریں مارتا رہا ہے۔ اس وقت تو یہ سارے طبقے محوخواب خرگوش رہے۔ کیوں؟ ہزاروں فلسطینیوں کے قاتل کی تعریفیں اسی ”کمانڈو“ نے کیں جو اسرائیلی اخبار میں شائع بھی ہوئیں، اس پہ کوئی زبان درازی نہ ہوئی۔ کیوں؟ اسرائیلی وزیرِاعظم ”نیتن یاہو“ نے دورہ بھارت کے دوران کہا تھا کہ ”پاکستان سے دشمنی نہیں چاہتے“۔ اس پر کسی یہودی نے اپنے وزیرِاعظم کو ”غدار وطن“ نہیں کہا تھا تو ہمیں یہ سر ٹیفیکیٹ بانٹنے کا حق کس نے دے دیا؟

عمر چیمہ صاحب کی رپورٹ میں مزید لکھا ہے، ”فشل نے گزشتہ سال ایک پاکستانی انگریزی اخبار میں ایک مضمون بعنوان: ’میں ایک یہودی اور پاکستانی، مجھے اسرائیل جانے دیا جائے‘ لکھا، میں ایک راسخ العقیدہ یہودی اسرائیل جا کر اپنی مذہبی رسومات ادا کرنا چاہتا ہوں“۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کا یہ عمل ان لوگوں کے منہ پر ”جھوٹ“ کا زوردار تھپڑ ہے جو پاکستان کو ”مذہبی و اقلیتی“ آزادی نہ دینے والے ملکوں کی ”گرے لسٹ“ میں شامل کر رہے تھے۔ کیا یہ عمل ”اقلیتوں کے عدم تحفظ“ جیسے الزامات کو مٹانے میں مددگار ثابت نہیں ہو گا؟

Facebook Comments HS