سادھو اور سنہری پرندہ
چرواہوں نے گرو کا سنا اچھی طرح یاد کرلیا۔ گرو اگلے ہی دن وہاں سے روانہ ہوگیا۔ اس کے بعد نسل در نسل یہ لوگ اسی طریقے پر عمل کرتے آئے ہیں اور اب بھی ان کے ہر قبیلے میں کم از کم ایسا ایک پرندہ ضرور ہوتا ہے اگرچہ صدیاں گزرنے کے بعد یہ روایت اب اتنی مضبوط نہیں رہی۔ صرف راسخ العقیدہ ہی اسے سنبھال پاتے ہیں اور وہ لوگ ساری رسم پر عمل کرتے ہیں۔
بوڑھے کی اس گفتگو کے دوران میں جی ہی جی میں ہنستا رہا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس دوران کافی وقت میں پنجرے کی طرف دیکھتا رہا تھا اور بوڑھے کی کئی باتیں بالکل نہ سن سکا تھا۔ یہ باتیں میرے لیے ایسی اہم نہ تھیں۔ تاریکی کا عفریت، سرخ پر، ایک کوس دور ویرانہ۔ کیا خوب بکواس تھی۔ کچھ دیر بعد اس نے رخصت طلب کی اور چلا گیا۔ اس کے بعد میں نے مزید دو دن کیمپنگ کی۔ رات کو میں اسے کھلا چھوڑ دیتا پھر دن بھر وہ پنجرہ میں رہتا۔ رات کو بھی زیادہ دور نہ جاتا تھا۔ پہلی صبح میں نے اسے کیمپ کے پاس ہی دیکھا تو اس بات پر حیران ہوا۔ بوڑھے نے مجھے اس بابت بھی کچھ بتایا تو تھا لیکن میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نے اس کی تمام باتیں نہ سنی تھیں۔ دو دن بعد میں واپس نکلا اور چوتھے روز گھر پہنچ گیا۔ پنجرہ میرے ساتھ تھا۔
اس کے بعد کی کہانی آپ سن رہے ہیں۔ جو یہ پرندہ دیکھتا حیران رہ جاتا تھا۔ کئی لوگ صرف اسے دیکھنے میری طرف آتے تھے۔ واپسی کے بعد کچھ راتوں تک میں اسے کھلا چھوڑ دیتا لیکن چونکہ وہ زیادہ اڑ نہ سکتا تھا اس لیے مجھے خوف رہتا کہ کوئی جانور اسے نقصان نہ پہنچائے یا پھر کوئی اسے چوری ہی نہ کر لے۔ اسی خدشے کے پیش نظر میں رات کے وقت اسے پنجرے سے آزاد کر دیتا لیکن کمرے کے اندر کھلا چھوڑتا اور باہر نہ جانے دیتا تھا۔
رات بھر اس کی مدھم لیکن مسلسل آواز آتی تھی۔ صبح کے وقت کچھ دیر وہ خوب چہکتا تھا۔ دن کا اکثر حصہ سویا رہتا۔ رفتہ رفتہ لوگ اس سے مانوس ہوگئے اور حیرت کی وہ فضا نہ رہی۔ مجھے بھی اب اس سے انس پیدا ہوچکا تھا۔ میں اس کے دانہ پانی کا مکمل خیال رکھتا تھا اور اب بھی رات کو کھلا چھوڑ دیتا تھا۔ بعدازاں جب مجھے کاروبار کے سلسلے میں دوسرے شہر جانا ہوتا تو بیوی کو تاکید کر کے جاتا تھا۔ یونہی وقت گزرتا رہا۔
اس دوران کافی وقت گزر گیا۔ میرے کاروبار کی مصروفیات بڑھ چکی تھیں۔ گھر بھی بدل لیا تھا۔ پرندہ اب ہماری معمولات کا حصہ بن کر رہ گیا تھا۔ یونہی آسانی کے لیے ہم نے اس کا ایک نام بھی رکھ لیا تھا۔ ”سم سم“
ایک دن صبح کے وقت یونہی میں نے غور کیا تو سم سم کے پروں کے کنارے سرخ ہو رہے تھے۔ نہایت چمکدار اور تازہ سرخ پر نکل رہے تھے۔ میں نے قریب جا کر دیکھا تو واقعی ایسا ہی تھا۔ اس وقت تک میں بوڑھے کی گفتگو شاید مکمل طور پر بھول چکا تھا یا شاید مجھے کہنا چائیے کہ میں نے اس کی مکمل گفتگو کبھی یاد ہی نہ رکھی تھی۔ مجھے یہ سرخ پر بہت اچھے لگے۔ میں اسے پیار کیا اور پنجرے میں ڈال دیا۔
اس دوران مجھے دوبار شہر جانا پڑا۔ کئی لاکھ کا سامان پھنسا ہوا تھا جس کا گھاٹا برداشت کرنا ممکن نہ تھا۔ میں نے پوری جان لڑائی اور سامان حاصل کیا۔ پھر ایک دن میری گاڑی خراب رہی جس کی وجہ سے سارا دن ورکشاپ میں نکل گیا۔ الغرض کئی دن گزر گئے۔
ایک رات میں اپنے کمرے میں لیٹا تھا۔ سم سم کی مدھم لے ساری رات جاری رہتی تھی۔ مجھے کئی بار خیال آیا کہ آج اس کا انداز بدلا بدلا سا ہے لیکن میں نے کچھ زیادہ غور نہ کیا۔ صبح بھی اس کی چہک قدے مختلف تھی۔ میں نے جا کر دیکھا کہ اس کے کمرے میں کوئی خطرہ تو نہیں۔ ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ میں نے سم سم کو دیکھا جو مسلسل چہک رہا تھا۔ اس کے پروں کے کنارے گہرے سرخ ہوچکے تھے اور گردن کے سرمئی بال کچھ جگہوں سے گر رہے تھے۔ میں نے جی ہی جی میں سوچا کہ سم سم اپنے جوبن پر ہے۔
دوسری رات مجھے واضح محسوس ہوا کہ سم سم کی آواز بدل رہی ہے۔ وہ اپنے کمرے میں تھا جہاں میں نے دن میں تسلی سے معائنہ کیا تھا۔ میں نے کچھ زیادہ غور نہ کیا اور سو گیا۔ پھر دن طلوع ہوا اور یونہی کاروبار زندگی جاری رہا
اگلی رات چاند غائب تھا اور مکمل تاریکی تھی۔ پچھلے پہر کے قریب سم سم کی آواز اتنی بلند اور عجیب ہوئی کہ میری آنکھ کھل گئی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہاں ہزاروں پرندے اکٹھے بول رہے ہوں جن کا شور مسلسل بڑھ رہا تھا۔ میں فوراً اس کی کمرے کی طرف گیا۔ سم سم وہاں اکیلا موجود تھا او ر مجھے دیکھتے ہی خاموش ہوگیا۔ پھر تیزی سے چل کر میرے پاس آیا اور کچھ دیر بے ساکت رہا۔ میں نے اسے اٹھا لیا اور پیار سے ہاتھ پھیرنے لگا۔
اس کا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ کچھ دیر یونہی اسے سہلانے کے بعد جب مجھے محسوس ہوا کہ اب سم سم بالکل ٹھیک ہے تو میں نے اسے واپس فرش پر چھوڑ دیا۔ ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور واپس اپنے کمرے میں آگیا۔ اب سم سم بالکل خاموش ہوچکا تھا۔ مجھے فوراً نیند نہ آئی۔ کچھ دیر کروٹیں بدلنے کے بعد سونے کے بالکل قریب تھا جب سم سم ایک بار پھر بولا۔ وہی پرانی مدھم لے۔ لیکن پھر وہ دوبارہ نہ بولا۔ اتنی دیر تک میں سو چکا تھا۔
صبح بیوی نے مجھے جھنجھوڑ کر جگایا اور بتانے لگی کہ سم سم اپنے کمرے میں نہیں ہے۔ میں وہاں گیا اور اسے تلاش کرنے لگا۔ کمرہ میں وہ کہیں بھی نہ تھا۔ ارد گرد بھی تمام دیکھا لیکن وہ نہ ملا۔ میں نے سوچا شاید وہ زور لگا کر کچھ قدم کی چھلانگ لگاتے ہوئے باہر نکل گیا ہے۔ رات یوں بھی وہ کمرے میں ڈر رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے وہ ابھی واپس آجائے گا۔ میں نے بیوی کو یہی دلاسہ دیا اور ہم دونوں واپس بیٹھ گئے۔ تب مجھے برسوں پرانی وہ صبح یاد آئی جب پہلی رات کے بعد میں نے سم سم کو اپنے کیمپ کے پاس بیٹھا پایا تھا۔ میں جی ہی جی میں یہ سوچ کر مسکرانے لگا کہ آج بھی وہ آجائے گا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

