سادھو اور سنہری پرندہ


تمام دن گزر گیا لیکن سم سم نہ آیا۔ میں نے محلے میں سب سے پوچھا لیکن کسی کو علم نہ تھا۔ قریب ہی ایک ویرانہ سا ہے وہاں جھاڑیوں میں تلاش کیا مگر بے سود۔ شام تک تھک ہار کر بیٹھ گیا کہ اب کیا ہوسکتا ہے۔ اگر اسے واپس آنا ہوا تو مل ہی جائے گا اب کہاں ڈھونڈوں۔

رات کا پچھلا پہر تھا کہ اچانک کہیں دور سے ایک مدھم لیکن مانوس آواز آنا شروع ہوئی جو آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی تھی۔ کچھ دیر میں یہ آواز کئی جانب سے آنے لگی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ یہ سم سم کی آواز تھی۔ اب مجھے خیال آیا کہ گذشتہ رات یہی آواز جب سم سم کے کمرے سے آئی تھی تو میں نے اس پر زیادہ دھیان نہ دیا تھا اور سم سم کو اکیلا دیکھنے کے بعد تو اس اونچی ہوتی آواز کو بالکل وہم سمجھا تھا۔ آج تو یہ آوازہرگز وہم نہ تھی اور ہم دونوں اسے سن رہے تھے۔

آخر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اٹھا کہ باہر جا کر اس آواز کی حقیقت کا پتہ چلاؤں۔ بیوی نے مجھے روکا لیکن میں نہ رکا۔ گلی میں صرف تاریکی تھی۔ وہ آواز اب بھی آرہی تھی لیکن وہاں کوئی نہ تھا۔ میں دیوانہ وار چلتا رہا۔ وہ آواز ہر جانب سے آتی تھی لیکن کوئی سامنے نہ آتا تھا۔ میرا ذہن مکمل طور پر ماؤف ہوچکا تھا۔ کافی دیر تک یونہی ڈھونڈنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ جیسے میں کہیں گرنے لگا ہوں۔ ہمت بالکل جواب دے رہی تھی جبکہ وہ آواز اب بھی جاری تھی۔

لیکن میں مکمل طور پر دیوانہ نہ ہوا تھا۔ آخر کار گھر لوٹ آیا۔ کچھ دیر تک وہ آواز آتی رہی پھر یکلخت بند ہوگئی۔ اس یکایک ہوئے سناٹے سے دوبارہ شدید حیرانی ہونے لگی۔ بیوی جو میرے کندھے دبا رہی تھی کہنے لگی کہ تمہیں بخار ہورہا ہے۔ مجھے تھکاوٹ کی غنودگی محسوس ہورہی تھی۔ کچھ دیر بعد نیند آگئی۔ سونے سے پہلے مجھے وہم ہوا کہ جیسے سم سم اپنے معمول کی مدھم آواز میں ایک بار چہکا اور پھر چپ ہوگیا ہے۔ جلد ہی میں سو گیا۔

جب مجھے ہوش آیا تو معلوم ہوا سات دن گزر چکے ہیں اور میں کومے کے بعد اب ہوش میں آیا ہوں۔ ڈاکٹروں کے مطابق میرے دماغ کی کوئی شریان پھٹ گئی تھی جس کی وجہ سے میری بینائی ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے۔ کئی دن کی بے ہوشی کے اندھیرے سے نکلتے ہی اس سچ کا سامنے میری روح تک کو تاریک کر گیا۔ مجھے لگا جیسے میں مرچکا ہوں۔ نابینا ہونا میرا شدید خوف تھا جوحقیقت میں ڈھل چکا تھا لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ میں دو ماہ ہسپتال میں داخل رہا اور پھر گھر منتقل ہوگیا۔

بیوی دن رات میرا خیال رکھتی تھی۔ وہ میرے پاس بیٹھی رہتی اور باتیں کرتی تھی۔ اولاد کوئی تھی نہیں۔ کچھ عرصہ بعد حالت بالکل سنبھل گئی اور صرف تاریکی باقی رہ گئی۔ بیوی اب مجھے کبھی کبھی اخبار پڑھ کر سناتی اور اردگرد کی دنیا سے باخبررکھتی تھی۔ ایک دن اس نے یونہی بیٹھے بیٹھے بڑی عجیب بات کی کہ جب سے تمہارے ساتھ یہ حادثہ ہوا ہے شہر میں عجیب مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ یکے بعد دیگرے تمام عمارتیں، گھر اور دکانیں خود بخود سیاہی مائل ہوگئے ہیں اور ان کی دیواروں کی سیاہی روز بروز گہری ہوتی جاتی ہے۔ دوبارہ روغن پھیرا جائے تو کچھ دن بعد پھر سے سیاہی نمودار ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ سارا مکان پھر سے سیاہ ہوجاتا ہے۔ اتنا سیاہ کہ تاریک راتوں میں محلے کے محلے دکھائی نہیں پڑتے۔ سب کچھ غائب سا ہوجاتا ہے۔

میں بھی یہ سن کر بہت حیران ہوا کہ عجیب معاملہ ہے۔ شاید فضائی آلودگی کے سبب ایسا ہوتا ہو لیکن یکایک سیاہ ہونا سمجھ نہیں آتا اور پھر روغن پھیرنے کے باوجود بھی۔ بہرحال میں حیران ہو کر بھی کیا کر سکتا تھا۔ میرے لیے تو سب کچھ پہلے ہی بالکل سیاہ ہو چکا تھا۔

اس رات مجھے کئی ماہ بعد یعنی نابینا ہونے کے بعد پہلی دفعہ کوئی خواب آیا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی سادھو پرندوں میں گھرا ہوا ہے جو چونچوں سے اس کے جسم میں سوراخ کر رہے ہیں۔ سادھو کی درد بھری چیخیں سیاہ ہیولوں کی صورت آسمان تک بلند ہو رہی تھیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3