ظفر سید صاحب اور ہم سخن فورم کے تحت ماہانہ ایک پروگرام اکادمی ادبیات میں منعقد ہوتا ہے جس میں پہلے سے منتخب کسی کتاب پر حاضرین اپنی رائے دیتے ہیں۔ کل اس سلسلے کا سترہواں اجلاس تھا اور غزالی کی مشہور کتاب تہافتہ الفلاسفہ زیربحث تھی۔ بھائی عدنان بشیر نے مجھے مدعو کیا تھا۔ پس ہم بھی وہاں موجود ہوئے اور احباب نے چند نکات ہم سے بھی پوچھا کیے۔ ہم ہنس دیے پر چپ نہ رہے۔ غزالی کا پردہ نہ رکھا۔ ہرچند کہ محفل مذکور اور لمحہ حال کے درمیان ایک پرواقعہ شب گزر چکی ہے پر کچھ باتیں جو ذہن میں آتی ہیں اور کچھ جو اس وقت ذہن میں نہ آئی تھیں اب یہاں لکھے دیتا ہوں کہ سند رہیں اور بے وقت ضرورت کام آئیں۔
ظفر سید صاحب کا مجھ سے سوال یہ تھا کہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ غزالی کی تہافتہ الفلاسفہ سے مسلمانوں میں تعقل کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور غزالی کے بعض نظریات مثلا تصور تعلیل (علت و معلول کا اصول) کے انکار کے نتیجے میں اسلامی تہذیب میں سائنسی انقلاب کا امکان ناپید ہوگیا۔ اس ضمن میں انہوں نے چند مغربی مصنفین سمیت ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کا حوالہ بھی دیا جو اسی رائے کے حامل ہیں۔
Read more