کوئی ملک پاکستان کے خلاف سازش نہیں کرتا
پاکستان میں بہت زیادہ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ پاکستان کے خلاف بہت سارے ممالک سازش کرتے ہیں اور پاکستان کو ختم کرنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ ساری باتیں سیاسی پنڈتوں کی طرف سے کی جاتی ہیں جنہیں عوام اپنے دماغوں میں ذہن نشیں کر لیتے ہیں۔ حکمران یہ ساری باتیں اور ڈر عوام میں صرف ووٹ لینے کے لیے پیدا کرتے ہیں کہ انہیں ووٹ دے کر منتخب کیا جائے اور ہم ان ممالک کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ہمارے بھولے بھالے عوام ان کی باتیں سن کر انہیں بہادر سمجھنے لگتے ہیں اور اپنا محافظ جان کر اپنا قیمتی ووٹ دے دیتے ہیں اور پھر ہوتا یہ ہے کہ یہی حکمران اقتدار میں آکر انہی ممالک سے بھیک مانگتے ہیں اور اسی لیے آج حال یہ ہے کہ ہر پاکستانی پر تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار کا قرض ہے جو ماشا اللہ مسلم لیگ ن کی جانب سے پاکستانی عوام کو تحفہ ہے اب کیا یہ بھی یہودیوں کی سازش ہے؟
سانحہ ماڈل ٹاؤ ن ہواچودہ لوگ دن دہاڑے مار گرائے۔ حاملہ عورت کے منہ میں گولی ماردی گئی کیا یہ کسی اور ملک نے آکر پاکستان پر حملہ کیا تھا؟ لاہور سے شادی میں شرکت کرنے کی غرض سے بھوریوال جانے والی فیملی کو رستے میں ہی ساہیوال کے مقام پر دن دہاڑے ملک میں قانون رائج کرنے والی ایجنسیز نے گولیوں سے بھون ڈالا کیا یہ۔ انڈیا کی :را: ایجنسی تھی جو اس فیملی پر حملہ آور ہوئی؟
بہاولپور میں آئل ٹینکر الٹنے والا واقعہ تو یاد ہی ہوگا؟ جس عوام میں حکمرانوں نے اتنی بھوک ڈال دی کہ وہ گزر بسر کرنے کے لیے وہاں سے پٹرول اکٹھا کرنے لگے اور اچانک آگ لگنے سے 250 کے قریب زندہ انسان جل کر مر گئے۔ یہ آئل ٹینکر بھی پاکستان میں کسی سازشی ملک کی طرف سے پاکستان میں بھیجا گیا تھا؟ نہیں بلکہ اپنی ہی سازش تھی وہ اس طرح کہ وہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات ہی نہیں میسر تو وہاں بھوک نہ ناچے اور کیا ہو؟ ہاں مگر میں یاد کرواتا چلوں حکومت نے جل کر مرنے والوں کے لیے 20 لاکھ اور جلس کر ساری عمر کے لیے معزور ہونے والے افراد کے لیے 10 لاکھ کا انعام مقرر کیا تھا صاحب !
آج کل کے نوجوان حکومتی نمائندوں کے دفاتر میں نوکری کی غرض سے جاتے ہیں توپیسوں کی ڈیمانڈسن کر مایوسی میں واپس لوٹ آتے ہیں۔ کیا یہ بھی دوسرے ممالک ہمارے ملک میں آکر ہمارے ہی نو جوانوں میں مایوسی کے مائنڈسیٹ کو فروغ دے رہے ہیں؟ اسپتالوں میں لوگ ادویات کی عدم فرہمی کی وجہ سے آئے روز مر رہے ہیں کیا یہ بھی یہودی یا ہندو آکر ہمارے اسپتالوں سے ادویات چرا کر لے جاتے ہیں؟ لاہور میں پاکستانی عوام اتنی دیر سے ( ایک دوسرے ) کو گدھے کا گوشت کھلاتے رہے کیا یہ بھی امریکہ کی سازش تھی کہ پاکستانیوں کو گدھے کھلاؤ؟
یہ گزرے سال کی بات ہے جولائی 2017 کی مجھے اب تک یاد ہے کہ قصور کے علاقہ میں ایکسپائر جوس کی دوبارہ پیکنگ کر کے مارکیٹ میں فروخت کرنے والی فیکٹری پکڑی گئی لیکن سنو جناب فیکٹری کا مالک پاکستانی تھا۔ انڈیا میں بیٹھ کر فیکٹری نہیں چلا رہا تھا اور نا ہی اسرائیل سے آکر سازش کر رہا تھا۔ لاہور داتا علی ہجویری صاحب۔ کے دربار کے سامنے سڑک کے فٹ پاتھ کا بدبو سے برا حال ہے کیوں کہ وہاں ہمارے اپنے عوام پیشاب کرتے ہیں کیا یہ بھی اسرائیلی آ کر یا انڈیا والے آکر گند پھیلا کر چلے جاتے ہیں؟
مشعال خان کو عبدالولی خان یونیورسٹی کے طلبہ اور اہلکار اپنا انتقام لینے کے لیے برہنہ کرکے قتل کر دیتے ہیں اور پھر لاش کو تیسرے فلور سے گھسیٹتے ہوئے نیچے گراؤنڈ میں لاتے ہیں اور اپنی حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاش کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ کیا یہ بھی اسرائیل، انڈیا، امریکہ کی سازش تھی؟ پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنا یا مگر حال یہ ہے کہ آج تک ملک کی بجلی کی ڈیمانڈ پوری نہیں کر سکے مگر ووٹ لینے لے لیے وعدے کرتے ہیں۔ کیا یہ بھی اسرائیل پاکستان کی بجلی پوری نہیں ہونے دیتا؟ یا پھر امریکہ، پاکستان کے بجلی گھروں اور ڈیمز پر ڈرون حملے کرتا ہے جو آج تک بجلی بھی پوری نہیں کرسکے ہمارے حکمران۔ !
آخر یہ سب معاملات تو پاکستان کے اداروں کے کنٹرول میں ہے یا نہیں؟ افسوس اس بات کا ہے کہ تعلیم اور شعور کی بے حد کمی ہے مگر تعلیم پر ہماری حکومت زور نہیں دیتی کیونکہ تعلیم فراہم کرنے کے لیے کتابیں مدارس یا جامعہ میں فری دینی پڑتی ہیں ہیں لیکن بات یہ ہے کہ حکومتی نمائندوں کے کتابیں چھاپنے والے کارخانے نہیں ہیں۔ ہاں مگر لوہے بنانے کی ملز اور فیکٹریز موجود ہیں اسی لیے زیادہ بجٹ سڑکوں اور پل بنانے پر صرف کیا جاتا ہے۔
لیکن یہ شا ید نہیں دیکھتے انہیں پل اور سڑکوں پر آج بے تحاشا گداگر بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ اسی لیے میری نظر میں پاکستان کے خلاف کسی دوسرے ملک کو سازش کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ہمارے عوام اور ہمارے حکمران ہی ماشا اللہ اس کام کے لیے کافی ہیں۔ آج سپریم کورٹ یہ حکم دے یا الیکشن کمیشن بیان جاری کردے کہ جس نے کم از کم میٹرک تک تعلیم حاصل کی ہے صرف اسی کو ووٹ دینے کا حق ہے آپ دیکھیے گا پھر یہ پارلیمنٹ کی ممبرشپ انجوائے کرنے والے لوگ کیسے کھلم کھلا اس بات کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے میڈیا میں آ کر اپنے بیان ریکارڈ کروائیں گے کیونکہ یہ جانتے ہیں تعلیم پر زوردے دیا تو شعور بیدار ہونے کا خدشہ ہے اس لیے یہ افورڈ نہیں کرپائیں گے لیکن چھوڑیے صاحب ہمارے عوام پانچ سو یا ہزار روپے میں ووٹ دیتے ہیں اسی لیے پھر جس سے پیسے لے کر کھائے ہوں اس کے سامنے کیا بولنا۔
ِوہ لوگ جو چنے تھے ہم نے اپنا ووٹ دے کر۔
زبان کھولنے کی پھر سامنے، حضورکے ہمت نہ ہوسکی۔


