نسلی اور صنفی تعصب کا شکار ہمارا معاشرہ


یہ دسمبرکی ایک ٹھٹھرتی شام تھی۔ ادھیڑعمرکی ایک سیاہ فام خاتون دن بھرکی جانکاہ مشقت کے بعدگھرجانے کے لیے بس سٹینڈپرکھڑی تھی۔ پندرہ بیس منٹ کے انتظارکے بعدبس آگئی اوروہ وہ ایک خالی نشست پربیٹھ کرعمیق سوچوں میں گم ہوگئی۔ بس چلتی رہی اورہرسٹاپ پرمسافربیٹھتے رہے۔ رش کی وجہ سے کچھ مسافراندرکھڑے بھی تھے۔ معاً ایک وجیہ و شکیل نوجوان نے خاتون کواس کے لیے نشست خالی کرنے کوکہا۔ خاتون نے خلاف روایت و خلاف توقع نشست خالی کرنے سے انکارکردیا۔

پھرکیاتھابس میں ایک ہنگامہ برپاہوگیا۔ سب گوری چمڑے والے اس خاتون پرپل پڑے اوربرابھلاکہنے لگے۔ مگرخاتون نے کمال ہمت، جواں مردی اوربہادری کامظاہرہ کرتے ہوئے نشست خالی کرنے سے انکارکردیا۔ ڈرائیوربس کومنزل مقصودکی طرف لے جانے کے بجائے سیدھاپولیس سٹیشن لے گیا۔ خاتون پرمقدمہ درج کیاگیا۔ اس پر بھاری جرمانہ کیاگیا اورجیل میں ڈال دیاگیا۔ یہ آہنی اعصاب اورعزم و ہمت کی پیکرسیاہ فام خاتون روزاپارکس تھی۔ شہرتھامنٹگمری اورواقعہ دسمبر 1953 کاہے اوراس کا یہ حرف انکارتاریخ کے چندعظیم اورٹرننگ پوائنٹ انکاروں میں شامل ہے۔

امریکی تاریخ کایہ یادگارواقعہ مجھے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفرازاحمدکی طرف سے جنوبی افریقی ٹیم کے سیاہ فام کھلاڑی پرنسلی امتیازپرمبنی جملہ کسنے پریادآیا۔ روزا پارکس نے جرمانہ کے خلاف منٹگمری سرکٹ کورٹ میں اپیل کردی۔ سیاہ فاموں نے روزا کی قیادت میں نسلی امتیاز کے رسواکن قانون کے خلاف بھرپوراحتجاجی تحریک کا آغاز کردیا۔ روزا اوراس کے شوہرکوملازمت سے ہاتھ دھوناپڑے۔ انہیں انجام سے ڈراکراس احتجاجی تحریک سے الگ رکھنے کی کوشش کی مگران کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔

1953 سے 1960 تک طوفانی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ سیاہ فام افریکی امریکیوں نے 381 دن تک بھرپوراحتجاج کیا اور اس عرصہ میں ایک بھی سیاہ فام پبلک ٹرانسپورٹ پرسوارنہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں آخرکار 1956 میں یونائیٹیڈ سٹیٹس ڈسٹرکٹ کورٹ نے فیصلہ دیاکہ بسوں میں نسلی امتیازکاقانون غیرآئینی تھابعدمیں سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کوبرقراررکھاتھا۔ منٹگمری کے پرامن احتجاج کی لہرجنوبی امریکہ میں بھی پھیل گئی۔ اس تحریک کے روح رواں انسانی حقوق کے علمبرداراورنسلی امتیاز کے خاتمے اورشہری و اقتصادی حقوق کے نقیب مارٹن لوتھرکنگ تھے جنہیں ان کی بے مثال جدوجہد کے اعتراف میں نوبل امن انعام سمیت بے شماراعزازات سے نوازاگیا۔

مارٹن لوتھر نے 1963 میں واشنگٹن کی طرف مارچ کیاجہاں انہوں نے لنکن میموریل کی سیڑھیوں پر ڈھائی لاکھ شہری و انسانی حقوق کے حامیوں کے سامنے اپنی وہ شہرہءآفاق تقریرکی جسے دنیاکی اب تک کی جانے والی پہلی تین تقریروں میں شمارکیاجاتاہے۔ ان کی تقریرکا ایک ایک لفظ جیسے خلوص ومہرکے شہدمیں گندھاہواہے۔ سوزوگدازکی بھٹی میں کندن بن کرنکلاہے۔ اخوت وبھائی چارے کی خوشبومیں رچابساہے۔ انسانی ہمدردی اوراحترامِ آدمیت کے گلدستے میں پرویاہے۔ انسانی مساوات کے منشورکاپرتوہے۔ ذرا اس لافانی تقریرکاآغازتودیکھیے ”میرا ایک خواب ہے کہ جارجیا کی سرخ پہاڑیوں پرایک دن سفیدفام آقاؤں اورسیاہ فام غلاموں کے وارث ایک دوسرے سے معانقہ کریں۔ میرا ایک خواب ہے کہ میرے چاروں بچے اپنے رنگ کے بجائے اپنے کردارکے سبب پہچانے جائیں“۔

ادھرافریکی سرزمیں پرعظیم سیاہ فام لیڈر، سیاستدان، دانشور اورمفکرنیلسن منڈیلا نے نسلی امتیازکے خلاف لازوال جدوجہدکرتے ہوئے ستائیس سال تک قیدوبندکی صعوبتیں برداشت کیں۔ آج پاکستانیوں اورپاکستان کرکٹ بورڈکوآئی سی سی کی طرف سے ملنے والی سزاپرمایوسی ہوئی ہے مگرجولوگ نسلی امتیازکے خاتمے کے لیے کی جانے والی عظیم تحریک اورجدوجہد کی تاریخ سے واقف ہیں انہیں پاکستان کرکٹ بورڈکے طرزعمل پرمایوسی ہوئی ہے کیونکہ اس جدوجہدنے عظیم رانما مارٹن لوتھرکنگ کی جان لے لی تھی۔

کروڑوں سیاہ فاموں کوانسانی تاریخ کی عظیم قربانیوں کی تاریخ رقم کرناپڑی۔ مگرجولوگ بینائی سے محروم انسانوں کو حقارت سے اندھا، کانا اورحافظ جی، ٹانگوں سے معذوروں کولولا لنگڑا، بول اورسن نہ سکنے والوں کوگونگا، بہرہ، ذہنی بیمارکوپگلا، چھوٹے قدوالوں کوٹھگنا اوربونا، پکے رنگ والوں کو کالوکہہ کرپکاریں انہیں نسلی امتیازکے خلاف کی جانے والی اس عظیم جدوجہدکے بارے میں کیامعلوم؟

ہمارے مذہب نے توچودہ سوسال قبل ہی واشگاف اعلان کردیاتھاکہ فضیلت کامعیارتقویٰ ہے نہ کہ رنگ، نسل، جغرافیہ یاکوئی اوراختصاص۔ مگراس کے باوجودذات برادری اورطبقاتی تقسیم کازہرہے کہ ہمارے رگ و پے میں سرایت کرچکاہے۔ یہی نہیں بلکہ صنفی امتیازکی سفاکی اورزہرناکی تواپنی پوری شدت سے ہم پرحملہ آورہے۔ جس مذہب نے عورت کوماں، بہن، بیٹی اوربیوی ہونے کے ناتے اس قدربلندمقام عطا کیاہے آج اس کے ماننے والے کا اعلٰی تعلیم یافتہ اوراپنے تائیں تہذیب یافتہ گردانے والا فردبھی جب کسی کوچھچھوری اورگھٹیاحرکت پرطعنہ دیتاہے تونفرت و حقارت کابھرپورزہراپنے لہجے، اسلوب اورلفظوں میں بھرکرکہتاہے کہ ”تم نے توعورتوں (زنانیوں ) والا کام کیاہے۔

کسی کوبزدلی اوراورکم ہمتی کے طعنے کی سان پررکھناہوتوعورت کی تذلیل یوں کی جاتی ہے کہ ”میں نے بھی کوئی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں“ یا مرد بنو مردکہہ کرتاریخ میں عورتوں کی بہادری کے درخشندہ کارناموں کوبھلادیاجاتاہے۔ صنفی امتیازکابدترین مظاہرہ توبیچارے تیسری جنس کے حامل افرادجس طرح برداشت کررہے ہیں اس کی کوئی مثال شایدہی معاصردنیامیں ملتی ہو۔ ان کے بارے میں توہزاروں توہین آمیزمحاورات اورقصے کہانیاں زبان زدعام ہیں۔

آج کل مختلف چینلوں پرچلنے والے نام نہادمزاحیہ شو بھی اول و آخرپھکڑ پن، ٹھٹھے، مخول اورانسانی تضحیک کامنہ بولتاثبوت ہیں۔ تمام پروگراموں میں لوگوں کے جسمانی و صوتی عیوب ونقائص کامذاق اڑاکرمزاح پیداکرنے کی بھونڈی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ ہمارے دین میں مذاق اڑاناسخت منع ہے۔ نسلی امتیازاورخاندانی وطبقاتی تفاخروعصبیت کایہ عالم ہے کہ حالی الیکشن مہم کے دوران میں مجھے ایسابینرڈھونڈنے سے نہیں ملا جس پرامیدوارکانام ذات برادری کے لاحقے اورسابقے کے بغیرلکھاہواہو۔ ان معاشرتی اورسماجی حالات کے منظرنامے میں اگرسرفرازاحمد افریکی سیاہ فام کھلاڑی پرنسلی امتیازپرمبنی تحقیرآمیزجملہ اچھالتے ہیں توحیرت اورتعجب کیسا؟

Facebook Comments HS