میری بنیادی شناخت ادب کے قاری کی ہے : آصف فرخی


اب ساری بات لوگوں پر ڈال دینے کے بجائے یہ بھی تو دیکھیے کہ خود اس شہر میں، میں جب چھوٹا تھا یا طالب علم تھا تو صدر کے علاقہ میں کتابوں کی ان گنت دکانیں تھیں۔ 20، 25 دکانوں کے نام تو میں گنوا سکتا ہوں کہ جہاں میں جاتا تھا، کتابیں دیکھتا تھا، دیکھتا زیادہ تھا کیونکہ میری قوتِ خرید کم تھی۔ طالب علم تھا۔ اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ بہت شوق سے ان کے چکر لگایا کرتا تھا۔ اب صدر کے علاقہ میں کتابوں کی کتنی دکانیں ہیں؟

دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کتابوں کی فروخت اور ان کی مارکیٹنگ کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا گیا۔ کراچی کتنی بڑی آبادی کا شہر ہے۔ اس میں اردو کتابوں کی دکانیں کتنی کم ہیں۔ اس شہر میں چرس اور ہیروئن خریدنا آسان ہے لیکن کتابیں خریدنا بہت مشکل ہے۔ مجھے اردو کی کتابیں خریدنا ہوتی ہیں تو میں لاہور یا اسلام آباد سے آسانی سے خرید لیتا ہوں، کیونکہ کراچی میں کتابوں کی دکانیں اردو بازار کے علاقہ تک محدود ہیں۔ اردو بازار آنا جانا، وہاں رکنا، ٹھیرنا بے انتہا مشکل ہے۔ (ہنستے ہوئے ) مشتاق یوسفی صاحب مجھ سے کہتے ہیں کہ اردو بازار جانے کے لیے ایک ہی سواری مناسب ہے، وہ ”ٹینک کی سواری“ ہے۔ اس لیے ہم نے کتابوں کی ترویج، ان کی فروخت اور انہیں دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔ الٹا یہ گلہ کرتے ہیں کہ ادیب مفلوک الحال نہیں رہا۔ کتاب پڑھنے والے کم ہو گئے۔ اس المیہ کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم اپنے گریبان میں بھی تو منہ ڈال کر دیکھیں۔

سوال: کیا ٹیلی ویژن اور بعد ازاں انٹرنیٹ کا آنا بھی کتابیں کم پڑھنے اور چھپنے کی وجہ بنا ہے، یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے، حالانکہ مغربی دنیا جہاں سے یہ چیزیں آئی ہیں وہاں تو پڑھنے کا رجحان آج بھی وہی ہے؟

ڈاکٹر آصف فرخی: اب مغرب میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن اور دوسرے ذرائع ابلاغ کو ہم نے کتاب سے دوری کا ایک بہانہ بنا لیا ہے۔ وہ جو غالب نے کہا تھا کہ: واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں۔ کیونکہ اصل مسئلہ شوق ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم پڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ جب ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نہیں تھا تو پڑھنے والے لوگوں کی تعداد کیوں کم ہوتی جا رہی تھی؟ ایک تو یہ بات ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ میں ٹیلی ویژن کی بات نہیں کرتا، انٹرنیٹ کی بات کرتا ہوں۔ انٹرنیٹ پر بھی بنیادی عمل ریڈنگ ہی ہے۔ انٹرنیٹ پر آپ جو صفحہ دیکھتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کتابوں سے ہمارا تعلق ہے، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن سے نہیں۔ بعض جگہ ایسی صورت حال بھی ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کتاب کے فروغ کا بھی سبب بنتے ہیں۔

امریکہ میں ٹیلی ویژن کا مشہور پروگرام ہے۔ اوپرا ونفرے جو مشہور ٹی وی اینکر ہے، اس کا پروگرام ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہر پروگرام میں ایک کتاب کا ذکر کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک چالیس پچاس سال پرانے ادیب جان اسٹائن بیک کا ذکر کیا، جو مرچکا ہے۔ اس کی کتاب East of Eden اٹھائی جو اس کی مشہور ترین کتابوں میں سے نہیں۔ اس کی اہم کتاب Grapes of Wrath ہے (یہ وہ اسٹائن بیک ہے جس کی چھوٹی سی کتاب The Pearl کا ترجمہ ممتاز شیریں نے درشہوار کے نام سے کیا تھا۔ بے حد خوبصورت ترجمہ ہے )۔ وہ کتاب اس ٹیلی ویژن شو میں آنے کے بعد بیسٹ سیلر بن گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا اور کہا کہ واہ صاحب کتنی عمدہ کتاب ہے۔ اس کتاب کو تو نظرانداز کیا گیا۔

اسی طرح ایک اور کتاب کا حوالہ دوں گا۔ آج کل امریکہ میں جس ناول کی تعریف ہورہی ہے اس کا نام ”اسٹونر“ ہے۔ یہ ناول 1965 ء میں شائع ہوا تھا۔ ناول لکھنے والا بھی مر گیا۔ اسے کئی ایوارڈ بھی ملے۔ اب نیویارک ٹائمز میں اس ناول پر تبصرہ چھپا کہ یہ تو امریکی کلاسک ہے، اسے کیسے نظرانداز کیا گیا تو ذرائع، ادب کی دریافت کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔

آپ یہ بتائیے کہ ہمارے یہاں اتنے پروگرام ہوتے ہیں، ان میں کوکنگ، بیوٹیشن، شادی کرنے اور طلاق دینے کے طریقے اور دیگر تمام چیزوں پر بات ہوتی ہے لیکن کتاب پر بات نہیں ہوتی۔ کتاب کے بارے میں ایک آدھ پروگرام ہوا بھی، میں نے بھی کچھ پروگرام کیے لیکن نہیں چلے اور بالآخر انہیں بند ہی کرنا پڑا۔ جب ہم کتاب سے دلچسپی ہی نہیں رکھتے تو گلہ کس بات کا کرتے ہیں؟ صرف انٹرویو کرنے کی خاطر ادب کا گلہ کریں، شاید یہ بہت آرام دہ صورت حال ہے۔

سوال: عام طور پر ادب اور معاشی خوش حالی۔ یہ دو متضاد چیزیں ہیں، لیکن آپ سے اور اکا دکا دوسرے ادیبوں سے مل کر یہ تاثر بالکل زائل ہوجاتا ہے کہ ادب اور معاشی خوش حالی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ برائے مہربانی اس پر اپنا نکتہ نظر بیان فرمادیں۔

ڈاکٹر آصف فرخی:(ہنستے ہوئے ) آپ نے خوب سوال پوچھا ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ انٹرویو کے ساتھ ساتھ آپ انکم ٹیکس کے محکمہ کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ آپ کہیں تو انکم ٹیکس کے محکمے کی فائل بھی پیش کر دوں۔ اصل میں ادیب کے مفلس ہونے یا مفلوک الحال ہونے کا تصور رومانوی ہے۔ آپ کو شاید اس شہر کے بہت سے ادیبوں سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا، کاش کہ ہوتا۔ آپ نے ان کے گھر دیکھے ہوتے! لیکن میں اس حوالے سے کوئی دفاعی بیان نہیں دینا چاہتا۔ میں ایک درمیانے طبقے کی زندگی گزار رہا ہوں۔ اب اگر آپ یہ سوال کریں کہ جو کچھ ہے وہ کیسے حاصل کیا؟ تو آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ سب کچھ میں نے اور میری اہلیہ نے برسوں کی محنت سے حاصل کیا ہے۔ آپ کو میں نے اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پلائی ہے، شاید اس شہر کے بہت سے ادیبوں کے گھر آپ کو اس سے زیادہ آسودگی ملے گی۔ اس کے بارے میں کیا بات کی جائے؟ یہ تو ایک عمومی سا سوال ہے۔ آپ وضاحت کے ساتھ کوئی بات پوچھ لیجیے۔

سوال: کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ایک ادیب کو ایک ادیب کی طرح زندگی گزارنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی ترجیح میں ادب ہوتا ہے، اور ادب کے بعد اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ مال کمانے یا اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے وقت نکالے۔

ڈاکٹر آصف فرخی: دیکھیے! ہم لوگوں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ ادیب بہت مفلوک الحال ہو۔ ساری زندگی روتا پیٹتا رہے۔ اس لیے کہ معاشرہ ادیب کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا۔ یہ بات میرؔ و سوداؔ سے لے کر غالب، اقبال اور پھر آج کے عہد تک آتی ہے۔ ہم ادیب سے یہ مطالبہ تو کرتے ہیں کہ فلاں چیز لکھو، فلاں رویہ ہونا چاہیے، فلاں نظریے پر کاربند ہونا چاہیے، لیکن معاشرے نے کبھی سوچا ہے کہ اس نے ادیب کو کیا دیا ہے؟ معاشرہ ادیب کو لکھنے کی فراغت اور قلم سے روزی روٹی کمانے کی سہولت بھی نہیں دیتا۔ جس آدمی نے قلم سے روزی روٹی کمائی، وہ بڑا قابلِ عزت نام ہے، مجھے امید ہے آپ اس کا نام لکھیں گے۔ کیونکہ میں اسے بہت لائقِ احترام سمجھتا ہوں۔ وہ سعادت حسن منٹو ہے اور اس معاشرے نے سعادت حسن منٹو کے ساتھ جو سلوک کیا، اسے بھی یاد کریں تو ہم معاشرے کے طور پر ایسے لوگوں سے آنکھ بند کرلینا چاہتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ معاشرہ انہیں قلم کے ذریعہ روزی روٹی بھی نہ کمانے دے اور وہ مفلوک الحال نظر آئیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3