پشتون تحفظ موومنٹ کے شہید رہنما ارمان لونی کون تھے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کے شہر لورالائی میں پشتون تحفظ موومنٹ کی کور کمیٹی کے رکن ارمان لونی کی ہلاکت موومنٹ کے قیام کے ایک سال پورا ہونے کے دن ہی ہوئی ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے قیام کے ایک سال کے دوران ارمان لونی نے اپنا زیادہ وقت گھر پر نہیں بلکہ یا تو دھرنوں میں یا جلسوں کی تیاری میں گزارا ہے۔

پی ٹی ایم کا لاہور سے لے کر سوات، پشاور، کراچی، لاہور، بنوں، ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ژوب، قلعہ سیف اللہ غرض کوئی ایک ایسا جلسہ نہیں ہے جس میں ارمان لونی نے شرکت نہ کی ہو۔ وہ جلسے سے ایک ہفتے پہلے پہنچ کر لوگوں میں پمفلٹ بانٹتے اور جلسے میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتے۔

باقی ساتھیوں سے ان کا سٹائل اس لئے مختلف تھا کہ وہ تبلیغیوں کی طرح اپنا بستر کاندھے پر رکھ کر جلسے کے شہر پہنچ جاتے۔

لیکن مزاج ایسا پایا کہ ایک آدھ جلسے کے سوا وہ سٹیج پر آنے اور اپنی محنت کا کریڈٹ لینے سے کتراتے رہے۔

ان کی شخصیت کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ قبائلی معاشرے میں پرورش پانے کے باوجود وہ اپنی بہن وڑانگہ لونۍ کے شانہ بشانہ پی ٹی ایم کے جلسوں میں شرکت کرتے۔ بہن تقریر کرتیں اور بھائی سامع ہوتا۔

ہلاک ہونے سے ایک دن پہلے وہ کراچی میں عالمزیب محسود کی رہائی کے حوالے سے جاری دھرنے میں شرکت کرنے کے بعد پی ٹی ایم کے لورالائی کے دھرنے میں شرکت کرنے پہنچے تھے۔

ان کی ذاتی زندگی المیوں سے بھرپور رہی۔  وہ بلوچستان کے ضلع سنجاوی میں پلے بڑھے۔ ان کے والد ڈرائیور تھے اور خود انہوں نے کئی سال تک کوئلے کی کانوں میں گاڑیوں کے منشی کے طور پر نوکری کی۔

لیکن پشتو شعر و ادب سے شغف رکھنے کی وجہ سے وہ ادبی حلقے میں داخل ہوئے جہاں پر ان کی شعری اور فکری آبیاری ہوئی۔  اس دوران انہوں نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کیا اور ڈگری کالج کوئٹہ میں پشتو زبان کے لیکچرر تعینات ہوئے۔

وہ اس وقت بلوچستان یونیورسٹی سے ایم فل بھی کر رہے تھے۔ حال ہی میں انہوں اپنے سپروائزر کے پاس اپنے دو تحقیقی مقالے جمع بھی کرا لیے تھے۔

ان کی تحقیق کے موضوع بھی ایک ندرت تھی “ پشتو فوکلوری ادب میں نوابادیاتی دشمن کے خلاف علامتوں کا استعمال “

لیکن پی ٹی ایم کا سرگرم رکن بننے کے بعد سے ان کو معلوم اور نامعلوم افراد کی طرف سے دھمکیاں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔

ان کے انتہائی قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے پہلے ان کے قبیلے کے سردار نے انہیں پی ٹی ایم سے کنارہ کش ہونے کا کہا تھا لیکن جب وہ نہ مانے تو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔

اس کے بعد کئی لوگ ان کا پیچھا کرتے رہے اور مجبور ہو کر انہوں نے اپنی فیملی کے ہمراہ ضلع قلعہ سیف اللہ جا کر ایک قبائلی اور سیاسی رہنما کے ہاں پناہ لی۔

ان کے دوستوں کے مطابق وہ انتہائی پرعزم، مخلص اور مالی اور انتظامی معاملات میں شفاف انسان تھے۔ پختہ سیاسی شعور کے مالک اور عدم تشدد کے داعی تھے۔

سیاسی صعوبتیں بھی ہنسی خوشی قبول کرتے تھے۔ بقول ان کے ایک دوست کے انہیں پچھلے سال کراچی پولیس نے گرفتار کیا۔  جب آزاد ہوئے تو میں نے فون کر کے جوں ہی سلام کیا تو اس نے ہنس کر کہا “ زویہ ( بیٹے) سخت مار پیٹ پڑی ہے”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •