عالم گیریت کے ادبی و ثقافتی مضمرات: عصری تقاضے
مسیج اب فون میں آتے ہیں پہلے پہل تار اور خط میں آتے تھے۔ ہم نہیں بدلے medium بدل گئے ہیں۔ لیکن اخلاقی اور معاشرتی ضرورت وہ ہی پرانی ہے۔ اس سے انسانی رویوں میں فرق اتنا ہی آیا ہے جتنا ہمارے ماحول میں ؛ اب مشرق مغرب سے، امیر غریب سے، پرانے نئے سے، عمل کو تھیوری سے اور بزنس کو سوسائٹی سے رابطہ کرنا ممکن ہے۔
معاشروں کے ادل بدل میں فکری نظام بھی نشو نما پارہا ہے۔ اس نظام کے علمی اور ادبی دونوں یعنی فلسفہ، سیاست، عمرانیات اور جمالیات کے رویوں میں نئے امکانات کی گنجائش ہر دور میں موجود رہی ہے۔ ادب اس فکری نظام کا خود مختار حصہ ہے۔ ادب ہمارے معاشروں میں اخلاقی قدروں کی جڑوں کو کھاد بھی مہیا کرتا ہے۔ یعنی ادیب کا تخیل اور شعور دنیا کے راستے متعین کرتا ہے۔ انسانی فکر کی نئی جہتوں اور نئے سائنسی رجحانات کو تسخیر اور اس کی تفسیر کرتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ فلسفیوں یعنی thinkers نے دنیا کے نقشے بدلے، اجتماعی انسانی رویوں کو نئی راہوں سے متعارف کروایا۔ اب سائنس فکشن ہی کی مثال لیں آرٹسٹ ”لیو نارڈے ڈیوینشی“ تصویر اور رائٹ برادرز جہاز بناتے ہیں۔ گلیلیو کی دوربین نے نظام شمسی سے متعلق تمام قدیم حقائق کو بدل کر رکھ دیا۔ آئن سٹائن نے theory of relativity پیش کر کے زمین کے نئے زاویئے کھولے۔ ادب میں انقلاب اور تحریک بھی ہے۔ اس کی وجہ واقعہ کربلا ہے جو شاعر سے مرثیہ لکھلواتا ہے یا روس کا انقلاب اور عالمی جنگیں ہیں جو ”لیو ٹیلسٹائ“ سے ”وار اینڈ پیس“ جیسے عالمی ادب کے شاہکار ناول لکھواتا ہے۔
ادیب عام انسانوں سے زیادہ حساس ہونے کی وجہ سے اپنے ماحول سے بہت جلد اثر قبول کرتا ہے۔ یہ ماحول باطنی ہو یا بیرونی معاشرتی ہو یا سماجی، سیاسی ہو یا ثقافتی اس کی جھلک اس کی تحریر اور تصنیف میں نمایاں ہوتی ہے۔ گوئٹے، جوہین کو، لارڈ چیسٹر اپنے بیٹے کو اور غالب نے ہر گوپال تفتہ کو خطوط لکھتے ہیں۔ ان تینوں ادب کے ماہ پاروں کو ورلڈ لٹریچر یعنی عالمی ادب کی حیثیت ملی ہے۔ اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ نثر پارے اپنے اپنے پس منظر میں مختلف ادوار اور مختلف خطوں میں اس وقت کے ماحول (باطنی اور بیرونی) سے متاثر ہو کر لکھے گئے۔ ان کے ماخذ مختلف تھے مگر پیغام اخلاقیات اور انسانی رویوں کا تھا۔
ادیب پورے معاشرے کی روح کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ادب کا جمالیاتی حسن دراصل انسانی احساس کی ان مجبوریوں، تاویلوں، آرزوؤں اور منزلوں کو چھو جاتا ہے جس کا قاری شاید خیال بھی نہ کر سکتے ہوں۔ ”ادب“ دراصل تخلیق، ادیب اور قاری کے ذہنی ملاپ کے ارتقاء کی مثلث کا دوسرا نام ہے۔
ادیب میں ایک مرحلہ الہام اور خود کلامی کا بھی ہوتا ہے، عام طور پر شاعری کو اس زمرے میں رکھا جاتا ہے، خلیل جبران کی ”میرا دل“ اور صلاح الدین ایوبی کی ”خود کلامی“ اس کی مثالیں ہیں۔
دنیا بدل گئی ہے، دنیا بدلتی رہے اور دنیا بدلتی رہے گی۔ تبدیلی ہر لمحہ ہو رہی ہے وہ سیلولر لیول سے لے کر بڑے سے بڑے پیمانے پر معاشروں کے چہرے، تہذیبوں کے رخ یا رجہانات بدل دیتی ہے۔ کیا جنگل میں سب اکھٹے نہیں رہتے تھے۔ وہ بھی عالمگیریت کی ایک شکل ہے۔ پہلے عالمی تہذیبوں کے پھیلاؤ کو وسعت اور پھر اس میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی یگانگت پیدا کرنے کا رجحان عالمگیریت کا ایک قدرتی عمل ہے۔ فرض کریں زمین ایک دائرہ ہے اور اس میں ہم ایک عرصے تک زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں۔
جب ہمارے اوّل و آخر میں مماثلت ہے تو ہماری ضروریات بھی یکساں ہوں گی مگر تہذیبی ترقی خطوں کے مطابق رہی ہے۔ اب جیسے جیسے کلچر اور ادب مختلف سماجوں میں داخل ہوتا گیا وہ اپنے اپنے ماحول کے اثرات غیر ارادی طور پر لے جاتے رہے ہیں۔ اس طرح وہ ایک unique culture یا homogeneous culture یعنی یک رنگی تہذیب کے ا ثرات ظاہر ہونے لگے۔
عالمگیریت کی ایک توجہی دنیا کو فتح کرنے والا اور دنیا پر قبضہ کرنے والے کی بھی دی جاتی ہے۔ عربی میں اس سے مراد آفاقیت ہے۔ عالمگیری معاشرے کی زندہ مثال امریکہ سے لی جاتی ہے۔ موجودہ شکل جو آج کے امریکہ کی ہے وہ ایک مرحلہ وار سنگین حالات سے گزر کر اس مقام تک پہنچی ہے۔ وہ یوں کہ کولمبس نے جب اس براعظم کو دریافت کیا تو یہاں کے مقامی باشندوں یعنی Native Americans، جن کو اس نے ریڈ انڈین کہہ کر بلایا، کو ان کے حقوق سے دستبردار کر کے یہاں پر نو آبادکاری کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں انگریزوں، سکاٹش، آئرش، فرانسیسی، ڈچ، جرمن اور سویڈن کے باشندوں کی کثیر تعداد ادھر آباد ہوئی۔ امریکہ میں مختلف سول جنگوں کے بعد ”melting pot“ کا ایک ایسا معاشرہ ترتیب دیا جانے لگا جہاں پر مختلف قومیتوں کے لوگ اپنی اپنی روایات، زبان اور ثقافت کے ساتھ اس نئے مثالی آباد کاری نظام کا حصہ بننے لگے۔ اس وقت سے آج تک یہ نظام تجربوں کے مختلف مراحل اور چیلنجر سے گزر رہا ہے۔
تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ انسان معاشی ترقی کو بنیاد پر معاشروں کو ترتیب نہیں دے سکتا کیونکہ جب ایک شخص یا قبیلہ ہجرت کرتا ہے تو اس کا پورا باطنی اور بیرونی ماحول اس کے ساتھ منتقل ہوتا ہے۔ اس کی مثال ایک فرینکو امریکن باشندے Hector St۔ John Creveoeurs کی ہے، جس کو میں ”محب عالم“ کہوں تو غلط نا ہو گا۔ وہ اٹھارویں صدی میں بیک وقت فرانس، امریکہ، کینیڈا اور انگلینڈ میں رہتا تھا۔ وہ اپنے وقت کا سفارت کار، ہڈسن کے دریا کے کنارے ایک گاؤں میں کاشتکار اور سیاح اور نامور مصنف بھی تھا۔ اس نے letters from an American Farmer لکھے، یہ خطوط اس کے ذہن میں ابھرنے والے سوالات کے جواب تھے۔ امریکی ادب اور تاریخ میں ان خطوط کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ 1782 میں ہی اس نے ”امریکہ کا یہ نیا آدمی کیسا ہو گا“ لکھ کر سب کو ایک نئی فکر کے زاویے دیے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

