عالم گیریت کے ادبی و ثقافتی مضمرات: عصری تقاضے


1908 میں برطانوی مصنف ”اسرائیل زینگوئل“ نے ایک سٹیج ڈرامہ Melting pot لکھا۔ اس وقت سے ہی امریکی سوسائٹی کو Melting pot کہا جانے لگا۔ اس کو یوں سمجھئے کہ مختلف تہذیب وتمدن کوایک کلچر کی بھٹی میں ڈال دیا جاتا ہے۔  پہلی نسل بہت تلخ تجربے سے گزرتی ہے اس میں ان فکر، شعور، زبان اور تہذیبی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتی کہ ان کے مذہبی عقائد اور ان کی نسل کو اس جمہوری نظام میں یوں پھینکا جاتا جیسے تانبے کو جلتی بھٹی میں ڈال کر پگھلا دیا جائے۔

اس دور میں امریکی باشندوں میں اینگلو امریکن، جرمن امریکن، اور فرانسیسی امریکن جیسی قومیت کے لوگ چند نسلوں سے آباد ہو چکے تھے۔  عالمی جنگوں نے دنیا کو تباہی کے دھارے پر رکھ دیا، عالمی جنگ دوئم کے بعد دنیا دو حصوں میں بٹ چکی تھی۔ دنیا میں سیاسی اور معاشی بد حالی نظر آرہی تھی۔ دنیا کے مختلف خطوں میں نو آبادیات اپنے اختتام پر تھی۔ ایسے حالات میں امریکہ نے ایک باپ یعنی فادر لایئک فگر کا کردار ادا کیا اور دیگر ممالک نے ورلڈ ٹریڈ آرگناآزیشن کے تحت تجارت سے پس ماندہ ممالک کو امداد مہیا کی جائے گی۔

مگر وقت نے یہ ثابت کیا کہ ان تجارتی معاہدوں کے ساتھ بڑے ممالک کے سیاسی مقاصد منسلک تھے۔  ایسے میں امریکہ میں امیگریشن کا احاطہ مزید وسیع کیا۔ انُ میں یہودیوں کے علاوہ چین، انڈیا اور دیگر مشرق وسطی کے باشندوں کو خوش آمدید کیا گیا۔ اب یہ عالمگیریت کا ایک نیا موڑ تھا، جہاں پر سیمویل فلپ ہمنگٹن کو clash of civilization کا مضمونforeign affair میں لکھا جاتا ہے۔  اس ہی مضمون کے عنوان سے چار سال بعد 1993 میں ان کی کتاب چھپتی ہے۔  تہذیب یا civilization بے شمار قوموں کے بعد جنم لیتی ہے، تو دنیا میں انڈسٹری، عرب، چینی اور یوروپین تہذیبیں تھیں۔  لیکن اب ان تہذیبوں کے ٹکراؤ کا وقت نازک وقت ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا میں تہلکا مچا دیا ہے۔  تب ہی تو ہمنگٹن کو 2004 میں who are we لکھنی پڑی۔

اب دنیا مغربیت westernized کا نہیں modernized کا شکار ہو رہی ہے۔  کیونکہ فکر ideology قبائلی نظام (Tribalism )اور عالمگیریت کے دونوں سروں کے درمیان ابھی بھی جھول رہی ہے۔  معاشروں میں تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان کلاس سسٹم کو ختم کر رہا ہے۔  جوں جوں عالمی ترقی ہو گی مڈل کلاس میں اضافہ ہو گا۔ بادشاہت کا خاتمہ اور جمہوری سیاسی نظام میں مزید مضبوطی ہو گی۔ معاشرے اب ایک عالمی تہذیب کی طرف بڑھ رہے ہیں۔  جن کو کہیں کہیں سامراجی قوتیں کہہ کر پکارا جاتا ہے۔  مگر سچ یہ ہے کہ آج کسی حد تک اور آئندہ آنے والے زمانوں میں ادب اور شاعری میں نثری نظم کا مقام بن گیا ہے اسی طرح معاشروں میں بہتر اخلاقی قدروں کو عالمی تہذیب میں اعلی مقام ملے گا۔

ہجہاں اس بدلتی دنیا میں ادیب کی سوچ بدلی ہے ویاں قاری اور ماحول کی وجہ ادب کے حوالے مجموعی تبدیلی کے باعث ادب میں بھی نئے رجہانات آئے ہیں۔  اس میں مائکرو فکشن یعنی سو الفاظ پر مشتمل افسانہ بہت مقبول ہوا ہے۔

ادب قاری کی کے ذہن کو ترتیب اور تفسیر بھی کرتا ہے، قاری غیر ارادی طور پر ادیب کو لکھنے کے موضوعات کی طرف توجہ مبذول کرواتا ہے اور ان دونوں کا حاصل جمع الفاظ کا لباس اوڑھ کر کاغذ، کمپیوٹر یا مائکروفون میں جنم لیتا ہے۔  A+B=C 2 فیثا غورث اس مثلث کا ہزاروں سال قبل ذکر کر چکا ہے۔

عالمگیریت کے اس دور میں عالمی ادب یعنی ورلڈ لٹیریچر کی افادیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس سے کسی طور پر بھی دور نہیں رہا جا سکتا۔ ذرائع ابلاغ کے علاوہ جب انسان خود بھی ایک ملک سے دوسرے ملک یا شہر جاتا ہے تو وہ اپنے ساتھ خیالات کو بھی منتقل کرتا ہے۔  آج کے ادیب کا قاری بڑھ چکا ہے کہ انسان بے شمار دوسرے معاشروں سے متعارف ہو چکے ہیں۔  آج کے ادب میں ان گنت نئے موضوعات آ چکے ہیں۔  استعاروں میں حوالوں کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے۔  سب اگر اردو ادب ہی کی بات کریں تو جدید نثری نظم عالمی ادب کا حصہ بن سکتی ہے جبکہ شاعری کی ملکہ غزل اب ڈولتی نظر آرہی ہے۔  وہ یوں کہ نظم اور پھر نثری نظم جو باآسانی دوسری زبانوں میں ترجمہ کر کے دور دراز پہنچایا جاتا ہے۔

ورلڈ لٹریچر در اصل وہ ادب جو مقامی موضوع ہونے کے باوجود اس میں آفاقیت اور تاریخ کو لے کر چلے۔  آج کے اس عالمی ثقافتی لینڈ دلیپ کا جو الفاظ احاطہ کر سکیں، گوئٹے، آریان پامک وغیرہ کو پڑھنا لازم ہے

ادب کے حوالے سے عصری تقاضے ہیں کہ کسی بھی تصنیف کو دوام کرنے کے لی اس کا ترجمہ کرنا بے حد ضروری ہے۔  بے شمار اعلی ادب پارے تراجم کے نہ ہونے کی وجہ سے عالمی ادب میں شامل ہونے سے قاصر ہیں۔  اسی طرح دوسری زبانوں میں لکھے گئے ادب کے تراجم اپنی زبان میں کرنے سے انسانی فکر میں اضافہ اور عقیدوں میں پختگی آتی ہے۔  تراجم کو اس بات کا خصوصی خیال رکنا چاھیئے کہ زبان کے ساتھ ساتھ متن، خیال اور مقصدیت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔

جس طرح عالمگیریت ادب پر اثر انداز ہوئی ہے، بہت حد تک ادب بھی عالمگیری معاشروں کو نئی راہیں دکھاتا ہے کہ قلم کی طاقت دہشت گرد کے ارادے کو تبدیل کر دکھاتی ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3