آدھے سر کے درد کی نئی دوا اور ٹیلی ویژن ڈراموں میں رونا دھونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 120
  •  

میرے نانا کہتے تھے کہ بادام کھانے سے دماغ تیز ہو جاتا ہے۔ یہ بیان کسی سائنسی ریسرچ پر مبنی نہیں تھا، صرف نسل در نسل منتقل ہوتا ایک خیال تھا۔ گزرے لوگوں کی تمام باتیں غلط نہیں ہیں۔ انسان مشاہدے سے بھی کافی سیکھ لیتے ہیں۔ کچھ تکے میں بھی صحیح‌ نکل آتا ہے۔ اس میں کچھ جادو نہیں۔ مشاہدہ درست نتائج مرتب کرتا ہے یا نہیں اس کے لیے باقاعدہ ریسرچ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ سب سے پہلے ہمارے لیے یہ سمجھنا نہایت اہم ہے کہ دنیا دو طرح کی ہے۔ ایک اصلی دنیا جو ہمارے اردگرد موجود ہے اور دوسری خیالی دنیا جو ہمارے تصورات پر مبنی ہے۔ اگر یہ بنیادی فرق سمجھ لیا جائے تو اس کی بنیاد پر مزید معلومات اور سمجھ حاصل کی جا سکتی ہے۔

اس ویک اینڈ پر میں ڈیلاس گئی جہاں ایک نئی دوا کی ریسرچ کانفرنس تھی۔ اس کے بعد میں اپنی امی سے ملنے گئی۔ یہ مضمون ان کے گھر سے ہی لکھ رہی ہوں۔ آج کے مضمون میں اس نئی دوا کی ریسرچ کی تفصیل دی گئی ہے جس سے قارئین کو یہ اندازہ لگانے میں مدد ملے گی کہ کس طرح‌ موجودہ معلومات کی بنیاد پر نئی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بہتر پراڈکٹ تخلیق کی جاتی ہے۔ تبدیلی کے علاوہ دنیا میں کچھ بھی مستقل نہیں ہے۔ کوئی بھی خیالات یا مصنوعات ہمیشہ کے لیے مستقل نہیں ہوتے ان کو بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مائگرین یا درد شقیقہ سر کے آدھے حصے میں ہونے والے سر درد کو کہتے ہیں جو کچھ گھنٹوں سے لے کر کئی دن تک رہ سکتا ہے۔ کچھ لوگوں کو سردرد کے ساتھ متلی اور الٹیوں کی شکایت بھی ہوتی ہے۔ مائگرین اکثر بچپن سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں مائگرین کی جو دوائیں دستیاب ہیں، ان میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی دواؤں میں ٹرپٹین کلاس کی ایک بڑی جگہ ہے۔ ٹرپٹین دواؤں سے مریضوں کو مزید متلی ہوتی ہے یا نہیں- یہ کہنا مشکل ہے کیونکہ یہ سردرد کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔

کچھ کیس رپورٹس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب ٹرپٹین دوائی انجکشن سے دی گئی تو ان مریضوں کو متلی نہیں ہوئی۔ بہرحال اس انفارمیشن کو استعمال کر کے ایک نئی دوا فیز تھری کلینکل ٹرائل میں ‌آئی ہے جو کہ نئی ٹیکنالوجی استعمال کرکے بہتر جذب ہونے والے ذرات کے کیپسول کی شکل میں ایجاد کی گئی ہے۔ اس کو ابھی کوئی نام نہیں دیا گیا ہے۔ یہ دو دواؤں کا مرکب ہے جس میں سوما ٹرپٹان اور پرومیتھازین شامل ہیں۔ یہ دونوں دوائیں پہلے سے مارکیٹ میں موجود ہیں لیکن اس طرح‌ ملا کر نہیں۔ پرومیتھازین متلی اور الٹیوں کی دوا ہے۔

اس اسٹدی کے چھ بازو ہیں۔ ہر بازو میں شامل مریضوں کو مختلف دوا یا پلاسیبو دی جائے گی۔ مریض کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس کو سوما ٹرپٹان ملی ہے یا پرومیتھازین یا ان کا مرکب یا پھر پلاسیبو اور کون سی ڈوز۔ کیونکہ دیکھنے میں سارے کیپسول ایک جیسے لگتے ہیں۔ صرف ان کے نمبر سے سینٹرل سپلائی کو معلوم ہے کہ کس میں کیا ہے؟ مجھے بھی یہ پتا نہیں ہے کہ کون سے مریض‌ کو کون سی دوا ملی ہے۔ اس طریقے سے ریسرچ کرنے کو ڈبل بلائنڈ ٹرائل کہتے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے تعصب سے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کریں۔

پہلے سے طے شدہ نتائج پر پہنچے کے لیے کی گئی ریسرچ ایک دائرے کا سفر ہوتی ہے جس پر سرمایہ کاری کرنا بے کار ہے۔ امریکہ میں چالیس مختلف سائٹس میں 400 مریضوں پر اس ریسرچ کے بعد ان کی اسٹیٹسٹکل انالسس کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ نئی دوا پہلے سے موجود علاجوں سے بہتر ہے یا نہیں۔ اس ریسرچ میں شامل تمام مریض ایک سیل فون کی طرح‌ کے آلے سے سر درد کی ڈائری میں اپنی علامات کا اندراج کریں گے جو کہ ایک سینٹرل پورٹل میں خود بخود وائی فائی سے انٹرنیٹ پر منتقل ہوجائے گی۔

ایک نئی دوا کے امریکی مارکیٹ میں آنے میں تقریباً 12 سال لگتے ہیں اور اس پر 2 بلین ڈالر لاگت بھی آتی ہے۔ اس میں بہت سارے لوگ مل کر توجہ سے کام کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ کلینکل ریسرچ میں حصہ لینے والے مریضوں کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔ ہارورڈ میں کولیسٹرول کی نئی فائبریٹ دوا کو دریافت کرنے میں سائنسدانوں نے ایک ہزار مختلف کیمیائی مرکبوں پر تحقیق کر کے یہ سب سے فائدہ مند اور سب سے کم سائڈ افیکٹ والا مرکب تلاش کیا۔ اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی دنیا پر غور کرنے اور مٹی میں ہاتھ ڈالنے سے ہی ہم ایسا کر سکتے ہیں۔

میڈیسن کی دنیا میں مستقل تحقیق جاری ہے۔ جب ایک نئی دوا ایجاد ہوتی ہے اور اس کو جانوروں میں ٹیسٹ کرنے کے بعد انسانوں میں ٹیسٹ کرنے کا موقع آتا ہے تو نجی ادارے یہ گرانٹ حاصل کرنے کے لیے اس میں حصہ لیتے ہیں۔ مریضوں کے لیے اس میں کیا ہے؟ ریسرچ میں حصہ لینے والے مریضوں کا مفت معائنہ ہوتا ہے، ان کو تھوڑے بہت پیسے بھی ملتے ہیں جو اتنے زیادہ نہ ہوں کہ رشوت یا رجھانے کا تاثر دیں اور ان کے فری لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتے ہیں۔

جو بھی خواتین ڈاکٹرز تعلیم حاصل کرنے کے بعد پریکٹس نہیں کر رہیں وہ اپنی ریسرچ کمپنی کھولنے پر غور کریں جس سے نہ صرف آپ کو سائنس کے میدان میں آنے والی تبدیلیوں اور نئی ایجادات کا علم ہو گا بلکہ یہ ایک منافع بخش کام ہے۔ تمام بڑی کمپنیاں جیسے للی، نووو نورڈکس، ایبٹ وغیرہ مستقل تحقیق میں مصروف ہیں اور ایک دوسرے سے سخت مقابلے میں ہیں۔ جب ہم جونئر کالج یا میڈیکل کالج میں ہوتے ہیں تو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اداروں کو پیسے دینے پڑتے ہیں لیکن ڈاکٹر بننے کے بعد ریسرچ کمپنی کے لیے کام کریں تو وہ آپ کو پڑھا بھی دیں گے اور آپ کے وقت کا معاوضہ بھی ادا کریں گے۔

دنیا کے تمام افراد کو اپنے تعلیمی اداروں پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی کہ جب وہاں سے تعلیم حاصل کرکے ایک فرد نکلتا ہے تو وہ دنیا میں کیا تخلیق کرتا ہے؟ اس سے کتنے افراد کو نوکریاں ملتی ہیں اور آنے والے لوگوں کے لیے، ان کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے وہ کس طرح‌ حصہ بٹاتا ہے؟ کسی بھی تعلیم یا نظام کو جانچنے کا یہی طریقہ اپنانا ہوگا کہ اس کی پراڈکٹ کیا ہے اور وہ ہمارے لیے کس طرح‌ فائدہ مند ہے؟

میری امی کے صحن میں بطخیں ہیں۔ ان کا پنجرہ کافی نیچا سا ہے اور امی نے شکایت کی کہ اس میں جھک کر ان کو کھانا ڈالنے میں بہت مشکل ہوتی ہے۔ میں نے ایمازون کی ویب سائٹ پر جاکر ڈک ہاؤسز دیکھے اور ایک چھ فٹ اونچا ماڈل پسند کیا جس پر دروازہ بنا ہوا ہے۔ اس کو کھول کر امی آرام سے بطخوں کو کھانا دینے اندر جا سکیں گی۔ ریسرچ کانفرنس سے ملے چیک کو میں نے اس طرح‌ استعمال کیا۔ اس وقت امی کے کمرے سے دیسی ڈرامے کی آواز آ رہی ہے۔ کوئی آدمی بہت دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہے اور کوئی خاتون اس کو لیکچر پلا رہی ہیں۔ اس کو سن کر مجھے بہت گھبراہٹ محسوس ہوئی۔ میں سمجھتی ہوں کہ نوکری کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ سوپ آپرا سے جان بچی رہتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 120
  •