نوحہ کناں کشمیر


کشمیر کا نام آتے ہے ذہن میں خواتین کی آہ وبکا، مردوں کی بے بسی اور بچوں سسکیوں کے مناظر اجاگر ہوجاتے ہیں۔ جنت نظیر کشمیر کی وادی آٹھ دہائیوں سے لہو لہو ہے، مگر نہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیموں کو شرم آتی ہے نہ ہی اسلامی اتحاد کوئی ٹھوس اقدامات کرتا ہے۔ وادی جنت نظیر میں، کتنی ہی مائیں، بہنیں، بیویاں اور بیٹیاں اپنے جبری گمشدہ مردوں کی آمد کی منتظر ہیں، کتنی ہی مائیں اپنے جوانوں کو کندھا دے چکی ہیں۔

کتنی ہی بہنیں، بھائیوں کے جنازوں پر نوحہ کناں ہوچکی ہیں۔ کتنے سوگ اجڑ چکے ہیں۔ کتنے بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ کتنی ہی مستوارت بے آبرو ہوچکی ہیں۔ یقینا یہ اعداد و شمار انگلیوں پر کرنا ناممکن ہے، مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ مظالم کون اور کیوں کر رہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ تقسیم ہند میں کسی ریاست کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی۔ اگر تقسیم بندی پر کوئی اعتراض سامنے آیا تو عوام سے رائے لی جائے گی۔ عوام کا فیصلہ قابل قبول ہوگا۔

برٹش حکومت کے اعلامیہ کے مطابق وادی سے دہشت گردوں کے انخلا اور حالات معمول آنے کے بعد عوام سے رائے لی جائے گی۔ بدقسمتی سے سال گزر جانے کے باوجود کشمیروں کو حق خود ارادیت سے محروم رکھا ہوا ہے۔ 1947 میں بھارت کے حکمرانوں اور کشمیر کے مہاراجوں کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے بھارتی فوج نے کشمیر پر اپنا تسلط جما لیا۔ بہادر کشمیروں نے اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر بھرپور آواز اٹھائی اور بھارتی حکمرانوں اور افواج کا مقابلہ جوان مردی سے کیا۔

کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔ اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے کشمیری لیڈروں کا بھارتی حکومت کے ساتھ جائز مطالبہ ہے کہ وہ 1947 میں اپنے لیڈروں کی طرف سے کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے تاہم اپنے تئیس دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت، مکمل آمریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیروں کے حقوق کو پامال کررہا ہے جبکہ دنیا تماشا دیکھ رہی ہے۔

ایشیا کا سوئٹزر لینڈ آج دنیا کے مشکل ترین تنازعات میں سے ایک ہے۔ اپنے کشمیری بھائیوں کو ان کے حقوق دلانے کی خواہش کے تحت پاکستان اور ہندوستان کے مابین حالات کبھی سازگار نہیں رہے ہیں۔ جس کے پیش نظر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں جبکہ آج بھی دو ملکوں کے حالات بہتر نہیں ہیں۔ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق دیا جائے اس کے برعکس بھارت کا موقف آمرانہ ہے جوکہ منظر عام پر ہے مگر اقوام متحدہ کے کان پر جوں نہیں رینگ رہی ہے۔

انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 1989 سے لے کر اب تک تقریبا 100000 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ جموں کشمیر کی سماجی تنظیموں کے اتحاد کے مطابق جھوٹے مقدمات میں پھنسائے گئے افراد کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 143185 سے زائد افراد کو حراست میں لے کر ہراساں کیا گیا ہے۔ جن میں سے تقریبا نو ہزار زیر حراست ہلاک کر دیے گئے۔ خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے 110042 واقعات سامنے آئے اور 103043 سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔

12000 سے زیادہ افراد لا پتہ ہیں۔ عالمی برادری کے اکثر حلقے ہندوستان کی جانب سے کشمیریوں کی منظم نسل کشی سے آگاہ ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود یہ حلقے چشم پوشی کا م لے رہے ہیں پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ معتدد بار اٹھا ہے۔ ہر بار اقوام متحدہ کو ان کی منظور کردہ قرارداد یاد دلائی مگر سمجھ سے بالاتر ہے کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے اقوام متحدہ بے بس مکمل بے بس جبکہ مسلم امہ کا اتحاد بھی تشہری مہم کی حد تک ہی نظر آتا ہے۔

سات لاکھ بھارتی فوجی مظلوم کشمیروں کی آ وازدبانے کی کوششوں میں مصروف ہیں دو سری جانب بھارتی میڈیا منفی پراپیگنڈہ پر عمل پیرا ہے۔ جس کا کام صرف اور صرف پاکستان کے خلاف زہر اگلنا ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی (آئی سی آر سی) کے مطابق ہندوستانی سیکیورٹی فورسز قیدیوں پر بد ترین جسمانی تشدد میں ملوث ہیں جس میں مار پیٹ، برقی کرنٹ لگانا اور جنسی تشدد شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ قیدی پاکستان سے آئے ہوئے نہیں بلکہ عام کشمیری شہری تھے۔

واضح رہے بھارت متعدد بار کشمیر میں پاکستانی مداخلت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔ اسی طرح 2010 میں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی شائع کردہ رپورٹ برائے انسانی حقوق کے مندرجات میں ہندوستانی فوج کی جانب سے عام کشمیریوں اور مبینہ حریت پسند نوجوانوں کے حراستی قتل کا حوالہ ملتا ہے۔ یہ بھی بیان کیا گیا کہ ہندوستان مختلف طریقوں سے دباؤ ڈال کر یا جسمانی تشدد کے مختلف حربے استعمال کر کے جبری حراست میں لئے گئے عام شہریوں کو اعتراف جرم کروا کر عدالتی قتل کرتا رہا ہے۔

انڈین آرمڈ فورسز اسپیشل پاور ایکٹ کے مطابق ہندوستانی قانون کسی شخص کو دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھنے کی اختیار دیتا ہے۔ اس کالے قانون کے تحت کوئی فوجی کسی مشکوک فرد پر گولی خلا سکتا ہے، مشتبہ مکان کو نذر آتش کر سکتا ہے۔ بغیر وارنٹ کس مکان میں داخل ہو سکتا ہے اور گرفتار کر سکتا ہے اور اس سب کے لئے وہ قابل گرفت نہیں۔ یہ دنیا کا سب سے زیادہ ملٹرائزڈ خطہ ہے۔ فوج کے لا محدود اختیارات کے باعث کسی کی جان و مال اور عزت محفوظ نہیں اور لوگ خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

قابض بھارتی فوجوں نے کشمیری عوام کی آواز دبانے کے لئے پیلٹ گن کا بھی بے دریغ استعمال کیا۔ خیال رہے 12 بور کی اس بندوق سے جانوروں کا شکار کیا جاتا ہے۔ پیلٹ گن کے کارتوس میں 4 سوسے 5 سو چھرے ہوتے ہیں جوکئی میٹردور تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارتی سیکیورٹی فورسزاس گن کے ذریعے نہتے کشمیری عوام کے چہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں جس کے باعث اب تک متعدد نوجوان بچے اورعورتیں بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

بھارتی فوج کی اس بے رحمی کوامریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ اورنیویارک ٹائمزنے بھی رپورٹ کیا۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں فروری کا مہینہ خاص اہمیت کا حامل ہے اس مہینے میں کشمیر کی آزادی کے خواہش مند مقبول بھٹ کو بھارتی حکومت نے سزائے موت دی تھی۔ مقبول بھٹ کشمیری آزادی کی تحریک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی تھی جنہوں کشمیری قوم کو منظم کیا۔ ان کی تحریک کی مقبولیت ہندوستان کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ تحریک پسپا کرنے کے لئے مقبول بھٹ پر بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسر کے قتل کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا بعد ازاں 11 فروری 1984 کو تہار جیل دہلی میں پھانسی دے دی جبکہ میت کو اہلخانہ کے حوالے نہیں کیا گیا۔

اس واقعہ نے بھارت مخالف جذبات کو ہوا دی۔ جس کے بعد کشمیر میں ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کشمیری مقبول بٹ کو جدوجہد آزادی کا ہیرو ماننے لگے۔ اور اس واقعہ کے چند سالوں کے اندر اندر کشمیریوں میں آزادی کی تحریک منظم اور مؤثر انداز میں ابھر کر سامنے آئی۔ اسی مہینے میں کشمیری افضل گرو کی برسی بھی مناتے ہیں۔ کشمیری نوجوان افضل گرو میڈیکل کے طالبعلم تھے۔ وہ مقابلے کے امتحان کی تیاری بھی کر رہے تھے۔

بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ مبینہ حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگا کرگرفتار کیا۔ طویل عدالتی کارروائی کے دوران ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت بھی بھارتی حکومت پیش نہ کر سکی۔ مگر انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے سزا کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ جس کا اعتراف خود بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ان الفاظ کے ذریعے کیا ”اگرچہ افضل گرو کے خلاف اس جرم میں ملوث ہونے کی کوئی ٹھوس شہادت یا ثبوت استغاثہ فراہم نہیں کر سکا مگر بھارتی عوام کے اجتماعی احساسات اور خواہشات کی تسکین کی خاطر انھیں پھانسی دینا ضروری ہے۔

۔ 9 فروری 2013 کو افضل گرو کو پھانسی دے دی گئی۔ انہیں نہ تو اہلخانہ سے آخری ملاقات کا حق دیا گیا۔ نہ ان کی میت خاندان کے حوالے کی گئی۔ مقبول بھٹ کی طرح ان کو بھی تہاڑ جیل میں ہی دفن کردیا گیا جبکہ وادی میں کرفیو لگا کشمیروں پر مزید ظالم ڈھائے گئے۔ آزادی کے متوالوں، پرعزم کشمیریوں کے لئے ماہ فروری بھی اہم ہے۔ پاکستانی عوام بھارتی ظلم و ستم کے خلاف ہے۔ اسی لئے 5 فروری کو پورے پاکستان میں کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت کے لئے یوم یکجہتی کشمیر پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS