چڑیل – ایک سچا واقعہ

وہ گھر میں داخل ہو کر چپ چاپ لاؤنج میں پڑی کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہیں تھیں۔ پہلے تو کسی نے توجہ نہ دی لیکن اس کا خاموش بیٹھنا سب کو چونکا گیا۔ وہ اس طرح نچلی کب بیٹھتی تھی۔ یہ ہماری سب سے چھوٹی بہن آٹھ سالہ گڈی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی وہ برابر والے فلیٹ میں اپنی دوست ثمرہ سے کھیلنے گئی تھی۔

کیا ہوا، ثمرہ سے جھگڑا ہو گیا کیا؟
امی نے سوال کیا۔
جواب نہ آیا۔

Read more

گم گشتہ ستارا: کولن ڈیوڈ

  ہزاروں سال پرانی تہذیب کا امین یہ خطہ جہاں آج بھی منوں مٹی تلے دفن نوادرات آئے دن نکلتے رہتے ہیں آج اپنے ہیروں کی قدر کرنے سے قاصر ہے۔ کوئلے کی کان میں جوہری کہاں سے لائیں۔ ہم ہیروں کو بھی زندگی کے ایندھن میں جھونک کر بھول جاتے ہیں۔ شائد صدیوں بعد…

Read more

غالب اور فیض کا جائز مقام

گزشتہ روز ایک آرٹ گیلری جانا ہوا۔ دوستو! آرٹ گیلری وہ جگہ ہے جہاں ہائی پروفائل لوگ جاتے ہیں۔ یہاں پینٹنگز بکتی ہیں۔ جن کی قیمت ہزاروں سے شروع ہو کر لاکھوں تک جاتی ہے۔ ویسے تو اس قسم کی جگہوں سے ہم گھبراتے ہی ہیں اور کسی بڑے شوروم میں قدم نہیں رکھتے کیونکہ انسان اپنی اوقات کی جگہوں پر ہی جچتا ہے لیکن آرٹ گیلری میں جانا ہماری مجبوری ٹھہری، آرٹسٹ جو ہوئے۔ ( نہ جانے بچپن میں کون سا کیڑا کاٹا تھا جو اس طرف نکل آئے ) ۔

آرٹ گیلری کے بارے ایک بات اور بتاتی چلوں کہ یہاں بکنے والی اشیاء گو کہ بہت مہنگی ہوتی ہیں لیکن یہاں دروازے پر گارڈ کی چنداں ضرورت نہیں پڑتی۔ وجہ یہ ہے کہ ابھی تک چور ڈاکوؤں کو آرٹ سے شغف نہیں ہوا۔ اور اگر کوئی یہاں ڈاکہ ڈال بھی لے تو بیچنے کے لئے کہاں جائے گا۔ یوں کہہ لیں کہ یہاں جو مال بکتا ہے اس کی قدر و قیمت صرف بیچنے والے کو معلوم ہے یا خریدنے والے کو۔ باقی لوگوں کے لئے یہ ردی کباڑ سے زیادہ کچھ نہیں۔

Read more