لاوارث جانوں کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 113
  •  

جب پہلی بار میں نے اُس کو سڑک پر ایک گاڑی کی ٹکر کھا کر لہولہان دیکھا تھا تو تب میں مری سے واپس آرہا تھا، میں نے فیض آباد پنڈی کے قریب مری روڈ پر جب اُس کو مرتے دیکھا تو وہاں ہی رُک گیا، بائیک کو سڑک کے کنارے کھڑا کیا اور بھاگ کر سامنے کی دُکان سے پانی کی ایک بوتل لایا اور اُس کے پاس بیٹھ کر اُس کو پانی پِلانے کی ناکام کوشش کی، شاید پانی کے چند قطرے اُس کے حلق سے نیچے اُترے بھی ہوں۔

معلُوم نہیں کُچھ یاد نہیں یا شاید میں یاد نہیں کرنا چاہتا، میرے اردگرد چند لوگ اور بھی دیکھا دیکھی رُک گئے تھے اور بس تماش بینی کا کردار ادا کررہے تھے۔ اُس کی دم توڑتی آنکھوں میں عجیب سی کُچھ معدُوم ہوتی چمک سی تھی جیسے چراغ بُجھنے سے پہلے اُس کی لو بھڑکتی ہے۔ اُس کا چہرہ لہولہان تھا اور جِسم کُچلا ہُوا۔ اُس نے سر اُٹھا کر مُجھے دیکھا آخری ہچکی لِی اور مر گئی۔ اُس کی آنکھوں میں کُچھ تھا ایک دُکھ جیسے ایک شِکوہ۔

جِس گاڑی نے اُسے کُچلا تھا وُہ بھلا وہاں کیوں رُکتا! میں کتنی ہی دیر وہاں گنگ بیٹھا رہا، اُس کی دَم توڑتی آنکھیں مُجھے آج بھی یاد ہیں۔ پتہ نہیں کیوں لیکن مُجھے ایسا لگا کہ اُس کے بچے کہیں بُھوک سے نڈھال اپنی ماں کی واپسی کا انتظار کررہے ہوں گے، لیکن اب میں اُن کو کہاں سے ڈُھونڈتا؟ اُن کی ماں اب کبھی واپس نہیں آنیوالی تھی۔ آئے دِن سڑکوں پر گاڑی والوں کی بے حِسی کے نُمونے دیکھتا رہا اور کُڑھتا رہا۔

پھر میں برطانیہ آگیا سوچا تھا یہاں ایسا نہیں ہوتا ہوگا یہاں حالات الگ ہوں گے اور یہ جینے کا حق دیتے ہوں گے لیکن صاحب کہاں؟ کبھی اپنی غلطی سے اور کبھی ڈرائیورز کی جلد بازی سے سڑک کراس کرتے اُن کو میں نے مرتے دیکھا۔ کیا فرق تھا پنڈی میں اور یہاں لندن میں؟

پچھلی سردیوں میں ایک برفانی رات میں مُجھے نظر آیا کہ سڑک کے ایک کِنارے وُہ بے حِس پڑی تھی، گاڑی فوری طور پر تھوڑا آگے جاکر ایک ’بے‘ میں روکی اور نیچے اُترا کہ جا کے دیکھوں شاید زِندگی کی کُچھ رمق ہو اُس میں۔

نیچے اُترا تو برفیلی ہوا کا ایک تیز جھونکا مانو جیسے میری ہڈیوں کے گُودے تک اُتر گیا ہو بجتے دانتوں اور کپکپاتے جِسم کے ساتھ میں واپس چل کر جہاں وُہ پڑی ہُوئی تھی وہاں تک گیا مُجھے بُہت موہوم سی اُمید تھی اُس کے زِندہ ہونے کی لیکن جب وہاں گیا تو اُس کی آنکھیں کُھلی ہُوئی تھیں اور وُہ جانے کب کی مرچُکی تھی۔ مُجھے اُس وقت پھر وُہی پنڈی کی سڑک یاد آگئی جہاں اُس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہُوئے دَم توڑا تھا اور آج اِس کی آنکھیں جیسے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں اُن مُردہ آنکھوں میں خُدا سے شاید شکایت تھی، میں بوجھل قدموں سے واپس گاڑی کی طرف واپس چل پڑا اور کر بھی کیا سکتا تھا میں!

میں نے کئی بار رات میں اِنھیں بھاگ کر سڑکیں کراس کرتے دیکھا ہے اور میں بُہت جیسے مُطمئن تھا کہ میں کبھی اِن کی موت کا سبب نہیں بنا لیکن ہونی ہوکر رہتی ہے۔

دو ہفتے پہلے کی بات ہے میں سِی سائیڈ سے واپس آرہا تھا جب میں نے اُس کو سڑک کنارے اٹھکیلیاں کرتے دیکھا، وُہ بُہت پیارا تھا۔ وُہ چھوٹا سا بچہ تھا جو شاید گھر والوں سے ناراض ہو کر یا آنکھ بچا کر شام کے آخری پہر گھر سے باہر نِکلا تھا۔ میں اُس کو دیکھ کر ہلکا سا مُسکرایا لیکن اگلے ہی لمحے وُہ بھاگ کر بلکہ یُوں کہیں کہ جمپ لگا کر میری گاڑی کے آگے آگیا میں نے فوری بریک لگائی لیکن وُہ گاڑی کے فرنٹ دائیں ٹائیر کے نیچے آکر کُچلا گیا تھا میں نے اُس کی ہڈیوں اور پسلیوں کی ٹُوٹنے کی آواز اپنے کانوں سے سُنی۔

میں نے گاڑی روکی نیچے اُترا تو دیکھا کہ اُس کا مُردہ جِسم لہولہان اور چُور چُور ہو چُکا تھا اور وُہ جیسے سڑک پر چپک کر رِہ گیا تھا۔ اُس کی آنکھیں آج میں نہیں دیکھ سکتا تھا کیونکہ اُس کی موت کا ذمہ دار میں تھا بلکہ یُوں کہیے کہ میں اُس کا قاتل تھا تو آج میں کیسے اُس کی آنکھوں میں دیکھتا! آج میں اُس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتا تھا بس بھاگ کر گاڑی میں بیٹھ گیا اور دیکھا کہ کُوئی مُجھے دیکھ تو نہیں رہا اور یہ جا وُہ جا۔

آج بھی جب میں کہیں اِن میں سے کِسی کو سڑک کِنارے یا درمیان مرا ہُوا دیکھتا ہُوں تو مُجھے وُہ پنڈی میں مرنے والی بِلی، وُہ برفانی رات میں مری ہُوئی لُومڑی اور وُہ خرگوش کا بچہ جو میری گاڑی کے ٹائر تلے آکر کُچلا گیا تھا یاد آتے ہیں مُجھے ہانٹ کرتے ہیں۔ ایک بار بچپن میں ایک چھوٹا سا کُتا میں نے پتھر مار کر مار دِیا تھا مُجھے تب کُتے پسند نہیں تھے اور میں سمجھتا تھا کہ یہ بُہت پلید ہوتے ہیں، اِن کو زِندہ رہنے کا کُوئی حق نہیں لیکن وُہ کُتا تو مر گیا لیکن اُس کے ساتھ ساتھ میرے اندر کا کُتا بھی مرگیا یعنی وحشی پن اور ٹپیکل مائینڈ سیٹ۔ تب سے آج تک میں بِلیوں اور کُتوں بلکہ ہر جانور سے بُہت پیار کرتا ہُوں۔

جانوروں کو بھی جینے کا حق دیں اور گاڑی چلاتے وقت دھیان رکھیں کہ آخر وُہ بھی جاندار ہیں سانس لیتے ہیں اور جینے کی آرزو بھی رکھتے ہیں۔ خیال رکھیں، جانوروں سے پیار کریں اِس کا آپ کو صِلہ مِلے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 113
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں