روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے
پروفیسروں اور فلسفیوں کی غائب الدماغی اور بد حواسیوں کے لطائف تو سبھی نے کثرت سے سن رکھے ہیں مگر جب سے ہمارے کپتان صاحب نے کارزار سیاست میں قدم رکھا ہے، بے دماغی اور حواس باختگی میں فلسفیوں اور پروفیسروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ مشاق یوسفی نے تو ناحق پروفیسروں کو بدنام کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ آدمی ایک مرتبہ پروفیسر ہوجائے تو ساری زندگی پروفیسر ہی کہلائے گا، چاہے اس کے بعد وہ عقلمندی کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔
وہ اگر کپتان صاحب کی متلون مزاجی اور غائب الدماغی کی کیفیت دیکھ لیتے تو پروفیسروں کو ان سے اور انہیں پروفیسروں سے گلہ نہ ہوتا۔ 2013 کے الیکشن کے دوران پینتیس پنکچر کا الزام ہو، علیمہ خان کے ایکسیڈنٹ کی مریم نواز کے حفاظتی پروٹوکول کی گاڑی پر تہمت ہو، پاناما سکینڈل میں نواز شریف کے نام کا معاملہ ہو، طارق کھوسہ کے ممبر الیکشن کمیشن نامزد کرنے کا مسئلہ ہو، ملک میں بارہ موسموں کا لطیفہ ہو، الیکشن مہم میں بلے کے بجائے شیر پر مہر لگانے کا دلچسپ بیان ہو یا کوئی اور ایشو ہو;کپتان صاحب نے ہر موقعے پر حقیقت سامنے آنے پر یو ٹرن کی عبرت انگیز تاریخ رقم کی ہے۔ یہ تو کل کی بات ہے کہ جب انہوں نے کہا تھا کہ اگر مجھے اہلیہ نہ بتائیں تو مجھے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ میں وزیر اعظم ہوں۔
ابھی ان کی تازہ غائب الدماغی اور بھلکڑ پن کی ایک اورمثال یہ سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے گیس کے بے تحاشا بلکہ ماضی کے مقابلے میں کئی ہزار گنازیادہ بل آنے پر عوام کی بلبلاہٹ اور تلملاہٹ دیکھ کر فوراً نوٹس لیتے ہوئے وزارت پٹرولیم سے جواب طلب کیا ہے اور اپنے افلاطو نوں کو اس کھلے ظلم پر انکوائری کا حکم دیا ہے کہ مجھے تحریری رپورٹ دیں کہ ہوشربا گیس کے بلوں کے پیچھے کس کی سازش ہے؟ اب یہ نو رتن کپتان صاحب کی دستخط شدہ چند روز پیشتر کی سمری لے کر گہری سوچ میں گم ہیں کہ انکوائری کریں تو کریں کس کے خلاف؟ ان کی یہ سادگی اور معصومیت کی ادائیں مظلوم و مفلوک الحال صارفین کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ اس حوالے سے وہ یہ معقول بہانہ تراش سکتے ہیں کہ انہوں نے تو فقط گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا بل کیسے زیادہ آ گئے؟
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
وزیر پٹرولیم نے یہ حکم صادر کر کے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے کہ عوام گیزر کے ذریعے پانی گرم کرنے کے بجائے لکڑیاں جلا کر پانی گرم کیا کریں۔ اس سادگی پر کون نہ مر جائے اے خدا! یہی حال رہا تو پٹرول و ڈیزل کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی وجہ سے لوگ گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی جگہ گدھا گاڑیوں پر سفر کریں گے۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں ماہر باورچی بڑے بڑے چولہوں میں لکڑیاں جلا کر آنکھوں میں دھوئیں کی وجہ سے آنسوؤں کی لڑیاں لے کر پھونکیں مار تے ہوئے آگ جلانے کی کوشش کر رہے ہوں گے۔
توانائی کے بحران کی وجہ سے نت نئے فرنیچر اور جدید ڈیزائن کے قیمتی برتنوں کی جگہ لوگ اگلے زمانے کی طرح مٹی کے برتنوں میں کھانا کھا کر اپنی پرانی تہذیب اور عظمت رفتہ کی بحالی پر خوشیوں کے شادیانے بجاتے ہوئے گاتے پھریں گے: روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے۔ نرگسیت کے مرض میں مبتلا جو دیوانے اپنی گزری تہذیب و روایات کہن کو بڑی حسرت سے یاد کر تے رہتے ہیں۔ وہ تو موجودہ حکومت کے صدقے واری جا رہے ہیں کہ جس نے ان کے تابندہ ماضی کو زندہ کر دیا ہے۔
دنیا کے اٹھانوے فیصد لوگ اپنے گزرے کل کے سحر میں مبتلا رہتے ہیں اور گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑانے کی جستجو میں ہوکے بھرتے رہتے ہیں۔ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبال نے بھی عظمت رفتہ کی بحالی کی خواہش کرتے ہوئے اہل نظر کو ”خیمہ“ بستیاں آباد کرنے کی ترغیب دی تھی۔ بفضل خدا ہم نے آگے کے بجائے واپس پیچھے کی طرف سفر شروع کر دیا ہے۔ اب بجلی کے قمقموں کی جگہ کسی خوشی کے موقعے پر سروِ چراغاں کا سماں ہو گا۔ شہروں کی چکا چوند اور نفسا نفسی کے بجائے کوہ و بیابان میں ڈیرے ہوں گے۔
انٹر نیٹ، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے بجائے پیغام رسانی کے لیے کبوتروں کو استعمال کیا جائے گا۔ طلبہ امتحان کی تیاری مٹی کے دیے جلا کر کریں گے۔ بجلی مہنگی ہو گی تو لوگ کنکشن کٹوا دیں گے۔ بجلی نہ ہو گی تو پانی کی موٹریں نہیں چلیں گی۔ موٹریں نہیں چلیں گی تو پانی نہیں دستیاب ہو گا۔ پانی نہیں ہوگا تو شہر و گاؤں کی حسین پنہاریاں گاگریں لے کر پنگھٹ پر جا کر قہقہہ بار ہوں گی اور گاؤں کا کوئی گبرو جوان ان سے گلاس کے بجائے ہاتھوں کے نرم و نازک پیالوں کے ذریعے دو گھونٹ پانی پلانے کی آرزو کر ے گا۔ الغرض اس حکومت کے طفیل سارا ملک ماضی بعید کے دور کی یادگار تصویر بن جائے گا۔ آج سے بیس اٹھارہ بیس سال پہلے تو ہم امریکہ کے ہاتھوں پتھروں کے دور میں پہنچنے سے ضرور بچ گئے تھے مگر اب لگتا ہے کہ یہ حکومت ہمیں سچ مچ پتھروں کے دور میں پہنچا کر ہی دم لے گی۔


