برائے مہربانی سم سیدھی ڈالئے


نیگومبو (Negombo) ٹاؤن سری لنکا انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے چند منٹوں کی دوری پر سمندر کے ساحل پر واقع ایک مشہور سیاحتی علاقہ ہے۔ دنیا کے مختلف کونوں سے لوگ یہاں چھٹیاں گزارنے آتے ہیں، پچھلے جولائی میں وہاں ایک ہفتہ گزارنے کا موقع ملا اور اس ایک ہفتے کے دوران وہاں کافی سارے لوگوں سے مل کربہت کُچھ سیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک سہہ پہر کو جیٹ ونگ (Jetwing) ہوٹل کے عقب میں ساحل سمندر پر بیٹھا کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اچانک ایک بچے کی آواز کان پڑی تو دھیان بے ساختہ ادھر چلا گیا۔

بچہ اپنی والدہ سے کہہ رہا تھا امی یہ جوتا ٹھیک نہیں ہے یہ پیر کو کاٹ رہا ہے۔ والدہ بچے کی طرف متوجہ ہوتے ہی فورا بولی، بیٹا قصور جوتے کا نہیں آپ کا ہے، آپ اگر سیدھے جوتے میں الٹا پاؤں ڈالیں گے تو وہ کاٹے گا نہیں تو اور کیا کرے گا۔ بچے کی ماں تو اس کے پیر سیدھے کروا کے وہاں سے چل دی مگر اُس ماں کا اپنے بچے کو دیا جواب مجھے چار سال پیچھے ماضی میں دھکیل لے گیا۔

یہ دوہزار چودہ کے اوائل کا قصہ ہے اُن دنوں میں قومی ادارہ برائے انسانی ترقی (NCHD) اسلام آباد کے قانونی معاملات کی ملکی پیمانے پر دیکھ بھال کر رہا تھا۔ انہی دنوں کیو (Q) موبائل کا ایک نیا ماڈل مارکیٹ میں آیا تھا، چونکہ میرا دفتر شہید ملت سیکریٹریٹ بلیو ایریا میں ہی تھا تو میں نے واپسی پر وہیں بلیو ایریا سے ایک نیا سیٹ خرید لیا۔ دکاندار نے میرے سامنے اُس میں سم ڈالی اور موبائل کو رواں کر کے مجھے رسید کے ساتھ تھما دیا۔

گھر پہنچ کر میں نے موبائل الماری میں رکھ دیا کہ ایک دو دن میں اس پر سارا ڈیٹا منتقل کر کے ہی اس کو استعمال میں لاؤں گا۔ دو دن گزرے تو شام کو نیا موبائل نکالا اور اُس میں سم ڈال کر آن کیا مگر یہ کیا اس پر تو لکھا آ رہا تھا ”صرف ہنگامی کالز کے لئے“۔ سم نکال کر دوبارہ ڈالی مگر وہی پرانا پیغام، تھوڑی سی پریشانی ہوئی پھر سوچا کہ رسید بھی ہے اور وارنٹی بھی، کسی وقت دفتر سے واپسی پرتبدیل کروا لوں گا۔ کام کی مصروفیت میں تین دن اور گزر گئے، ہفتے کے اختتام پر دو چھٹیاں تھیں، پاس پڑوس سے دوست احباب آ گئے، پڑوس کے ایک لڑکے عماد سے کہا یہ ذرا سم ڈال کر موبائل تو چیک کرنا اور پھر اس کے سامنے سم نکال کر میز پر رکھ دی۔

عماد نے بھی دو دو بار کوشش کی مگر فون تھا کہ چلنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ پیر کا دن آیا تو فون ساتھ رکھ لیا، دوپہر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک وکیل دوست وقار احمد گوندل سے کھانے پر ملاقات ہوئی، وقار صاحب سے اپنی الجھن کا تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے کیو موبائل کا مرکزی دفترشکایات یہ چائینہ چوک میں ہی ہے، آئیئے ان سے جا کر بات کرتے ہیں۔ کافی دنوں کی الجھن تھی سو دفتر داخل ہوتے ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ ہم نے ان پر چڑھائی کر دی کہ کس طرح کے موبائل بنا کر بیچ رہے ہو، ہر نیٹ ورک کی سم ڈال کے دیکھ لی مگر یہ صرف ہنگامی کالز کا عندیہ دے رہا ہے۔

کاؤنٹر پر کھڑی خاتون نے جب ہماری آواز اونچی ہوتے دیکھی تو لپک کر فون ہمارے ہاتھ سے پکڑ لیا اور معذرت خواہانہ لہجے میں بولی، ”جناب آپ تشریف رکھیئے آپ کی شکایت ابھی دور کیے دیتے ہیں“، اور موبائل لے کر ایک کیبن میں داخل ہو گئی۔ ہم بڑے فاتحانہ انداز میں ابھی بیٹھنے ہی والے تھے کہ ہم سے دوگنا اونچی آواز سنائی دی، ”جناب قصور فون کا نہیں آپ کا ہے، آپ اگر سم الٹی ڈالیں گے تو فون سیدھا کیسے چلے گا، ایک بار سم سیدھی ڈال کر دیکھ لیتے تو آپ کو شکایت کی زحمت ہی نہ اٹھانا پڑتی“۔ ہم شرمندہ ہو کر وہاں سے چل دیے کہ قصور سچ مُچھ ہمارا تھا، ہم ہی اتنے دن سے سم الٹی ڈال کر فون کو سیدھا چلانے کی کوشش کر رہے تھے۔

مگر آج ان دونوں باتوں سے ایک تیسری بات کی سمجھ آئی۔ وطن عزیز پاکستان بھی ایک موبائل کی طرح ہے جس میں ہمارے ووٹ کی سم ڈلتی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں موبی لنک، یو فون، ٹیلی نار، زونگ اور وارد کی طرح کیریئرز کے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔ ہم ہمیشہ سے ہی موبائل کو قصور وار ٹھہراتے ہیں مگر ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ کیا اپنے ووٹ کی سم اپنے تئیں ہم درست ڈال رہے ہیں یا نہیں۔ کیریئر کوئی بھی برا نہیں ہوتا، ہاں مگر اُن کی طرف سے کُچھ آفرز (Packages) ضرور دھوکہ دہی پر مبنی ہوتی ہیں، لیکن دھوکہ دہی پر مبنی تمام آفرز کا استعمال ہمارے لئے صوابدیدی ہے۔ جب تک ہم اپنے نام کی سم یعنی اپنا ووٹ دوسروں کی دیکھا دیکھا میں دھوکہ دہی پر مبنی آفرز کے استعمال پر صرف کرتے رہیں گے، سروس پروائیڈر اور موبائل دونوں کی سمت درست نہیں ہوگی۔

بحیثیت قوم ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ ملکی انتخابات میں اپنے تئیں پوری ایمانداری سے اپنے اپنے ووٹ کی سم سیدھی ڈالیں تاکہ پاکستان نامی موبائل درست کام کر سکے ورنہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی ہمیں ہمیشہ ”صرف ہنگامی کالز کے لئے“ کا عندیہ ہی ملتا رہے گا اور ہم صرف موبائل کی خرابی کی شکایت کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS