آپ کے ذاتی تنازعات۔ چند سوال
تنازعات کے اصل متبادل حل پر مضامین کی سیریز کی دوسری قسط میں ہم نے ایسے طریق کار کے بارے میں گفتگو کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا اطلاق آپ اپنے ان تنازعات پر کر سکیں جن کا آپ کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کی اس تیسری قسط میں ہم آپ سے چند سوالات کریں گے۔ بغیر کسی تکلف اور لحاظ کے۔ اور آپ کو بھی ان کا جواب بھی بغیر لگی لپٹی کے دینا ہوگا۔ یہ آپ کے لئے اچھی خبر بھی ہے اور بری بھی۔ پہلے اچھی خبر۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب معاملہ صیغہ راز میں رہے گا۔ اگر آپ خود نہ چاہیں تو آپ کے علاوہ کسی اور کو پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا جواب کیا ہے۔ آپ کسی ندامت کے شکار نہیں ہوں گے۔ بری خبر یہ کہ صحیح جواب آپ کوخود اپنی نظروں میں قصور وار بھی ٹھہرا سکتا ہے۔
ع۔ میں الزام ان کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا
پہلا سوال یہ ہے کہ آپ کو اس تنازعے کا علم کب اور کیسے ہو ا؟ کب، پہلی مرتبہ، کن حالات میں آپ کو احساس ہواکہ اگرچہ تنازعہ کھل کر سامنے نہیں آیا لیکن دال میں کچھ کالا ضرورہے؟ کیا آپ کو یاد ہے کہ فریق مخالف کے روئیے میں کس قسم کی تبدیلیاں آپ کے مشاہدے میں آئیں جن کی روشنی میں آپ کو احساس ہوا کہ حالات حسب معمول نہیں ہیں؟ اس احساس پر آپ کا رد عمل کیا تھا؟ کیا آپ نے اسے نظر اندازکیا یا یہ فیصلہ کیا کہ اس مسئلے کو سمجھنے اور حل کرنے کی بھر پورکوشش کریں گے۔ اور اس سے پیشتر کہ رائی کا پہاڑ بن جائے کیاآپ نے صورت حال سنبھالنے کے لئے جو کر سکتے تھے وہ کیا یا نہیں؟
کیا آپ نے رشتوں کی بدلتی نوعیت کو جانچا؟ کیا آپ کو گھر میں، کام پر، کاروبار میں، سیاسی الحاق میں یا حلقہ احباب میں، باہمی گفتگو، برتاؤ اور سلوک میں فاصلے اور منفیت کا ایک ایسا احساس ہوا جس میں کسی ثبوت کے نہ ہوتے ہوئے بھی آپ کو یقین تھا کہ کوئی نہ کوئی تبدیلی ضرور آئی ہے اور حالات وہ نہیں رہے جیسے پہلے تھے، یا جیسے ہونے چاہئیں تھے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر آپ نے باہمی تعلقات اور روئیے میں یہ منفیت محسوس کی تو کیا آپ نے یہ سوچ کر اس منفیت کو جاری رہنے دیا کہ کوئی بات نہیں، ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے اور پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی حالات خود ہی درست ہو جائیں گے۔ یا آپ کا فیصلہ یہ تھا کہ آپ اس مسئلے کوحل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ؟ کوششوں کی نوعیت کیا تھیِ؟ اس وقت آپ کے ذہن میں کیا آپشنز تھیں اور ان پر عمل پزیر ہونے کا خاکہ کیا تھا؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے جو اقدامات آپ نے اب تک اٹھائے ان کی آپ کو کیا قیمت ادا کرنی پڑی؟ آپ اس قیمت کوصر ف مالی خرچ تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اس میں ہر قیمت شامل کریں چاہے وہ جذباتی ہو، نفسیاتی ہو، صحت سے متعلق ہو اور یا نازک رشتوں کے ٹوٹنے کی صورت میں ہو۔ کیا آپ نے اس تنازعے سے سرخرو ہونے کے عوض اہم اورپیارے رشتے توڑ دیے ہیں یا ان کی قربت قائم رکھی ہے؟
ع۔ دل سوا شیشے سے نازک دل سے نازک خوئے دوست
کیا آپ ابھی تک اس تنازعے کے بارے میں دوسری پارٹی سے براہ راست گفت و شنید کر سکتے ہیں یا قطع تعلقی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ بات چیت تو کیا دونوں فریق ایک دوسرے کی صورت تک دیکھنے کے روا دار نہیں رہے؟
چوتھاسوال یہ ہے کہ اس تنازعے کے حل کی تلاش میں آپ نے ابھی تک خود کیا کردار ادا کیا ہے؟ دوسرے فریق کے سامنے نہیں، عدالت کے سامنے بھی نہیں لیکن جب آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور جو صورت آپ کو دیکھ رہی ہوتی ہے تو کیا اس کے سامنے آپ بغیر کسی احساس تقصیر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں آپ بالکل بے قصور ہیں؟ کیا آپ اپنی نظر میں لالچ، انتقام یاخود غرضی جیسے پست اورگھٹیا محرکات سے پاک ہیں؟
پانچواں سوال یہ ہے کہ اب تک جو کوششیں آپ نے کی ہیں ان کے بارے میں کیا آپ پورے اعتماد سے کہ سکتے ہیں کہ جس حل کو آپ ترجیح دے رہے ہیں وہ آپ کے اپنے معیار کے مطابق عدل اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے؟ کیا ابھی تک ایسے حل کی تلاش میں آپ کا اپنا رویہ معاونانہ رہا ہے یا مخالفانہ؟ کیا آپ کا مقصد یہ رہا ہے کہ آپ اپنے حریف کی شکست اور تزلیل کو اپنی فتح سمجھتے ہیں یا آپ کے مطالبات جائز ہیں اور آپ کو صرف ان کے پورے ہونے سے غرض ہے؟
چھٹاسوال یہ ہے کہ جس حل کے آپ متلاشی ہیں، اگر آپ اپنے مخالف کی جگہ ہوتے تو کیا پھر بھی یہی حل تلاش کرتے یا آپ کی پوزیشن بدل جاتی؟ اور صرف بدلتی ہی نہیں بلکہ اس میں ایک سو اسی ڈگری کا فرق آ جاتا۔ تنازعے کے دوران کیا آپ نے یہ سوچا کہ آپ ایسا حل تلاش کریں جس میں دونوں فریقین کی بھلائی کا کوئی پہلو نکلے نہ کہ صرف ایک فریق کی، یعنی آپ کی، فتح اور دوسرے فریق کی شکست ہو؟ کیا آپ نے ان محرکات کو سمجھنے کی کوشش کی جنہوں نے فریق مخالف کے لئے وہ حالات پیدا کیے جو اس تنازعے کا سبب بنے؟
ساتواں، اور اس قسط کا آخری، سوال یہ ہے کہ اگر معاملہ کسی حل کی سطح تک پہنچ گیا ہے تو کیا آپ اس حل کو حتمی طور پر منظور کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ معاملہ مکمل طور پر اختتام پزیر ہو گیا ہے یا اس قبولیت میں ابھی بھی کچھ ہچکچاہٹ اور پشیمانی کا عنصر باقی ہے۔ قانونی اور ہر قسم کی کارروائی کے باوجود ایک ایسی کسک ہے جو اب بھی اس تنازعے کے حوالے سے آپ کو پریشان رکھتی ہے۔ آپ نے اس حل سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہر باضابطہ کارروائی کے اختتام کے بعد بھی آپ کے ذہن میں یہ تنازعہ ابھی تک موقع بموقع سر اٹھاتا رہتا ہے۔ آپ ابھی تک اس تنازعے کو اپنے ذہن میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ خالی سوچ سوائے آپ کی ذہنی پریشانی میں اضافہ کرنے کے اور کچھ نہیں کرتی آپ اس گڑے مردے کو بار بار اکھاڑتے ہیں اور اس جھگڑے کو ابھی تک خدا حافظ نہیں کہ سکے۔
ان تمام سوالات کے جواب آپ اپنے آپ کو دیجیئے۔ بہتر ہے کہ پہلی قسط والے نوٹ کو جاری رکھیں اور ان جوابات کا اضافہ اپنی اسی تحریر میں کر دیں تاکہ مکمل ریکارڈ آپ کے سامنے رہے۔ پھر اگلی قسطوں میں آنے والے تنازعات کے متبادل حل یعنی اے۔ ڈی۔ آر۔ کے تقابل میں ان کو دیکھئے۔ اور عملی پیمانے پر ناپ کر خود ہی فیصلہ کیجئے کہ کون سا حل آپ کے لئے سب سے بہتر ہے۔
ان نئی معلومات کی روشنی میں آپ اپنا لائیحہ عمل بدل سکتے ہیں۔ اگلی اقساط میں آپ اپنے لائیحہ عمل کو بدلنے کے ان طریقوں کے بارے میں جان سکیں گے جو نہ صرف آپ کے تنازعے کو آپ کی حمایت میں حل کر سکیں بلکہ ایساحل مہیا کر نے کے قابل ہوں جس میں یہ گنجائش بھی ہو کہ سب تفرقات کے باوجود آپ اپنے فریق مخالف سے اپنا رشتہ اور تعلق بھی ایک مثبت انداز میں برقرار رکھ سکیں۔
آئندہ مضامین میں ہماری گفتگو کا محور یہ ہو گا کہ اصل اے۔ ڈی۔ آر۔ کیا ہے۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اپنا تنازعہ اس طریقے سے حل کر سکیں جو نہ آپ کے فریق مخالف کا اور نہ ہی کسی تیسرے فریق کی مدد یا معاونت کا محتاج ہو بلکہ مکمل طور پر آپ کے اختیار میں ہو۔
اختتام


