اسلام آباد کا موسم اور نواز شریف کی درخواست ضمانت
اسلام آباد میں رات کے پچھلے پہر سے ابر خوب برس رہا ہے۔ سردی میں شدت نہ ہونے کی وجہ سے موسم خوشگوار ہے۔ شاید اسی وجہ سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبی بنیادوں پر میاں نواز شریف کی ضمانت کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے کوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ کو کہا کہ اگلی سماعت پر آپ نہ آئیں۔ آپ کی ضرورت نہیں اور ساتھ ہی ریمارکس دیئے کہ آنا چاہیں تو بے شک آ جائیں کیونکہ اسلام آباد کا موسم دلکش ہے، اس سے لطف لے کر واپس چلے جانا۔
کمرہ عدالت کا ماحول گرم ہوتا ہے۔ بارہ بج کر چالیس منٹ پر کمرہ عدالت کی گھنٹیاں بجتی ہیں۔ گویا یہ اس بات کا اعلان تھا کہ معزز ججز صاحبان کرسی انصاف پر آنا چاہتے ہیں۔ پولیس اہلکار خبردار کرتا ہے کہ کوئی موبائل فون استعمال نہ کرے۔ اپنے اپنے موبائل فون خاموش موڈ پر لگا کر یا بند کر کے جیب میں ڈال لیں ۔
بارہ بج کر پینتالیس منٹ پر ججز صاحبان کرسی انصاف پر بیٹھ جاتے ہیں
ججز کے آنے سے قبل کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ ن لیگ کی لیڈر شپ اور وکلاء صاحبان کمرہ عدالت میں موجود ہیں ۔
نویں نمبر پر پکار سنائی دیتی ہے "میاں نواز شریف بنام سرکار حاضر ہو "۔
فریقین کے وکلا روسٹرم کے سامنے جاتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق میڈیکل رپورٹس کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ میڈیکل رپورٹس معزز عدالت میں جمع کرواتے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق رپورٹس کو دیکھتے ہیں اور جیل سپرنٹنڈنٹ سے مخاطب ہو کر ریمارکس دیتے ہیں کہ آپ مناسب فورم کی وساطت سے میڈیکل رپورٹس جمع کرواتے۔ رجسٹرار کے پاس جاتے اور اس پر مہریں بھی لگواتے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ جواب دیتے ہیں کہ مجھے گزری رات میڈیکل رپورٹس موصول ہوئیں جس کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔
جسٹس عامر فاروق میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب وکیل سے پوچھتے ہیں کہ آپ کے پاس میڈیکل رپورٹس ہیں۔ جس پر دونوں اطراف سے جواب نفی میں آتا ہے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی جیل سپرنٹنڈنٹ سے کہتے ہیں کہ آپ انھیں میڈیکل رپورٹس دیں ۔
خواجہ حارث عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ میڈیکل رپورٹس کے مطابق میاں نواز شریف کی صحت بہتر نہیں، انھیں طبی بنیادوں پر ضمانت دی جائے ۔
نیب پراسیکیوٹر کہتے ہیں کہ نئی میڈیکل رپورٹس کے مطابق ان کی صحت کافی بہتر ہے لہذا انھیں ضمانت نہ دی جائے۔
جسٹس عامر فاروق ریمارکس دیتے ہیں کہ پنجاب حکومت کا نمائندہ موجود ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ نیا میڈیکل بورڈ بنانے کے حوالے سے انھیں کہاں سے ہدایات ملی تھی؟
جسٹس محسن اختر کیانی خواجہ حارث سے مخاطب ہوتے ہیں اور ریمارکس دیتے ہیں کہ اس سے پہلے بھی آپ کی ایک سزا معطلی کی درخواست دائر ہے، کیا ان دونوں درخواستوں کو ایک بار ہی سن لیں ۔
خواجہ حارث عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ اٹھارہ فروری تو بہت دور ہے۔ آپ اس درخواست کی سماعت پیر کو کر لیں اور عدالت سے استدعا کرتا ہوں کہ پہلے والی سزا معطلی کی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں اور اس کی پیروی سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں ۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ پیر نہیں، منگل بارہ فروری اس کیس کو سن لیتے ہیں اور ساتھ ہی پنجاب حکومت اور نیب کو نوٹس جاری کر دیے کہ وہ بھی اپنا جواب جمع کروائیں ۔
کیس کی سماعت کے دوران میاں نواز شریف کے معتمد خاص عرفان صدیقی، سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف، سابق وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ، سابق گورنر پنجاب رفیق رجوانہ، سابق گورنر کے پی کے انجینیر ظفر اقبال جھگڑا، بزرگ سیاست دان راجہ ظفرالحق، سابق وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید، میاں نواز شریف کے دوست حامد میر، سردار ممتاز، سابق ممبر اسمبلی دانیال عزیز، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور دیگر لیگی کارکنان کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔
کیس کی سماعت بارہ فروری بروز منگل تک ملتوی کر دی گئی


