حج سبسڈی


وزیر اطلاعات فواد چوہدری صاحب نے ارشاد فرمایا ہے کہ حج پر حکومت کی جانب سے ادا کی جانے والی سبسڈی اسلام کے فلسفہ حج سے ہی متصادم ہے، یہ عبادت صرف استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے۔ کیا یہ عبادت ہو گی کہ بیس کروڑ غریب لوگوں کی جیب سے پیسہ نکلوا کر لاکھ سوا لاکھ افراد کو حج کرایا جائے۔ انہوں نے مزید فرمایا حکومت حج کے پیسوں سے ایک روپیہ تک نہیں کماتی۔ شروع میں خبر آئی کہ کابینہ کے جس اجلاس میں سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ ہو رہا تھا وہاں وفاقی وزیر مذہبی امور نے اس سے اختلاف کیا اور اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

بعد میں ان کی زبانی بھی وہی فرمان شاہی جاری ہوا کہ جس کے پاس پیسے ہوں گے وہی حج پر جائے گا کہ حکم بھی یہی ہے کہ مذکورہ رکن اسلام صرف استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے۔ جب ان حضرت سے ریاست مدینہ کے کانسیپٹ اور وعدوں سے متعلق استفسار ہوا تو فرمانے لگے۔ ریاست مدینہ کا یہ مطلب نہیں کہ لوگوں کو مفت حج کراتی پھرے۔ ریاست کی مالی حالت ابتر ہے، وزارت مذہبی امور کی خواہش تو تھی سبسڈی دینا لیکن حالات اجازت نہیں دیتے تو ہم کیسے یہ خسارہ بھر سکتے ہیں؟ ریاست مدینہ کا مطلب پاکستان کو کامیاب فلاحی مملکت میں ڈھالنا ہے اور اس سفر پر ہم گامزن ہیں۔

تسلیم ہے کہ زکوة، حج اور قربانی صرف صاحب استطاعت شخص پر لازم ہے۔ کوئی شخص اگر اپنے اور اپنے زیر کفالت افراد کے جملہ اخراجات پورے کر سکتا ہے، اور تمام فرائض سے سبکدوش ہو کر بھی اس کے پاس اتنا پس انداز ہے کہ وہ مذکورہ عبادات ادا کر سکتا ہے وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ اس کے ذمہ واجب الادا قرض نہ ہو اور نہ ہی اس کے ذرائع آمدن حرام ہوں، تو لازم ہے۔ یاد رہے اس کے باوجود بھی حج کسی بھی شخص پر زندگی میں محض ایک بار لازم ہے اس کے بعد اگر وہ قوت و استطاعت اور شوق و جذبہ رکھتا ہے تو جتنے بھی کرے فبہا۔

لیکن بعض علما کرام کے نزدیک مذکورہ رقم کسی بیوہ کی مدد، کسی یتیم کی کفالت اور کسی غیر شادی شدہ غریب بچی کی شادی پر خرچ کر دی جائے تو الحاج کہلوانے سے آخرت میں بدر جہاں بہتر انعام دے سکتی ہے۔ یہی حکم عمرہ کے لیے ہے، جو اک نفلی عبادت ہے۔ تسلیم کہ ہر کلمہ گو شخص کی خواہش کعبہ کی اور روضہ رسولؐ کی زیارت ہے۔ لیکن یاد رکھیں اسی ذات اقدسؐ کی زبانی وبال بتلایا گیا ان لوگوں کے لیے جن کے پڑوسی بھوکے سوتے ہوں یا جہاں یتیم کا حق مارا جاتا ہو۔

آس پاس نظر دوڑائیں کتنے ہی الحاج یتیموں کا حق کھا کر فاقوں کے مارے پڑوسی کے سینے پر مونگ دلتے ہوئے تیسرے ہفتے عمرہ اور ہر سال حج پر پہنچے ہوتے ہیں۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے : (لا إِکْرَاھَ فِی الدِّینِ) یعنی ”دین کے معاملہ میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ “ پھر ہمیں کیا پڑی زبردستی اوکھلی میں سر دینے کی یا مجبور ہو کر جانے کی۔ دین میں تو اتنی سہولت ہے اگر کسی شخص نے خلوص نیت سے نیکی کا ارادہ کر لیا، پھر وہ اسے پورا نہ بھی کر سکا تو اسے ثواب مکمل ملے گا۔ مالک کائنات کی طرف سے اس سبسڈی کے بعد کیا دنیاوی حاکموں سے کسی سبسڈی کی حاجت رہنی چاہیے؟

لیکن یہ دیکھ کر بھی دل خوں کے آنسو روتا ہے ایک جوڑا جس کی کئی بچیاں ہوں۔ ذریعہ روزگار صاحب خانہ کی مزدوری سے حاصل شدہ معمولی آمدن اور خاتون خانہ کی سلائی مشین۔ تمام عمر دونوں جاں توڑ مشقت سے گھر کی معیشیت کا پہیہ رواں رکھتے ہیں۔ لقمہ حرام منہ میں نہیں ڈالتے، ایمانداری سے چلتے ہیں، یہی درس بیٹیوں کو ذہن نشیں کراتے ہیں۔ تربیت کے ساتھ تنکہ تنکہ جوڑ کر رسم دنیا نبھانے کے لیے ان کے جہیز کا بندوبست کرتے ہیں، عمر ہوتی ہے، مناسب جوڑ مل جاتا ہے۔

معاشی لحاظ سے کمر دہری ہونے کے باوجود سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے اوقات سے بڑھ کر رخصتی کا انتظام کرتے ہیں۔ جب بچیاں اپنے گھروں میں مطمئن و شاداں نظر آنے لگیں تو دونوں بوڑھوں کا عزم پھر سے جواں ہوتا ہے۔ مشقت کے اوقات بڑھ جاتے ہیں کہ کمیٹی ڈال کر مرنے سے قبل اللہ کے در پر حاضری ہو جائے۔ اپنے حساب کتاب کے مطابق کے مطابق حاصل ہونے والی رقم یہ خواہش پوری کرنے کو کافی ہو گی، لیکن جب رقم ہاتھ آتی ہے تو پتا چلتا ہے یہ پیسے تو کافی نہیں۔ حج کرنا ہے تو ڈیڑھ لاکھ مزید بندوبست کرنا ہوگا۔ پھر بتائیں اس جوڑے کے دل پر کیا بیتے گی، کس طرح انہیں قائل کریں کہ استطاعت نہیں رکھتے تو پھر گھر بیٹھ رہو۔

برادر آصف محمود نے گذشتہ روز لکھا گذشتہ حکومت کے دور میں ایک وفد سعودی عرب گیا اور حجاج کی رہائش کے اخراجات ان کی کاوش سے 3800 ریال سے کم ہو کر 1700 ریال ہو گئے۔ کیا موجودہ حکومت ایسی کوشش نہیں کر سکتی تھی؟ مزید ان کا کہنا ہے حج اور عمرہ کے شعبے سے وابستہ لوگوں کے مطابق افراط زر اور مہنگائی کے باوجود آج حج کے اخراجات 3 لاکھ 40 ہزار ہونے چاہییں۔ کیا کوئی صاحب وضاحت فرمائیں گے کہ حکومت نے ساڑھے چار لاکھ کا فیصلہ کیسے کر لیا؟

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ یہ کہاں اور کس نے طے کر لیا کہ حج اخراجات کم کرنے کا واحد راستہ سبسڈی تھا؟ حج پر پھر بھی سبسڈی نہ دیں، لیکن عوام کی اجازت کے بغیر فرٹیلائزر، ٹیکسٹائل وغیرہ کی انڈسٹری کے مالکان کو 125 ارب روپے معاف کیوں کیے؟ نیکی کے کام کے لیے پیسہ دینا گوارا نہیں لیکن سینما گھروں کی بحالی کے لیے رقم جاری ہو چکی۔ 9 ارب کا ریلیف دینا گوارا نہیں تو ایک سو پچیس ارب باپ کا مال سمجھ کر معاف کر دیا؟

درویش کا بھی ایک سوال ہے حجاج کرام سے جو مہینوں پہلے رقم جمع کی جاتی ہے اس سے حاصل شدہ بنک منافع کس کھاتے میں جاتا ہے؟ علماء کرام سے مشورہ لے کر اسی منافع کو اگر جائز بنتا ہے تو تمام نہیں تو کم از کم ایسے عمر رسیدہ افراد کو سبسڈی دی جا سکتی تھی جو زندگی میں پہلی اور شاید آخری بار اس دربار میں حاضری کی تمنا لیے بیٹھے ہیں۔ شریعت سے متعلقہ معاملات میں رہنمائی کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل نامی ادارہ موجود ہے، ان کے متعلق بے پرکی میڈیا پر کل سے اڑائی جاتی رہی کہ اس نے کوئی واضح موقف دینے کے بجائے معاملہ حکومت کی صوابدید پر چھوڑ دیا۔

اس کونسل کے رکن جناب خورشید ندیم صاحب درویش کے ساتھ بہت شفقت کا معاملہ فرماتے ہیں اور بہت نفیس شخص ہیں، ان کا میں نے موقف لیا تو انہوں نے فرمایا ہمارا دائرہ محض مشاورت تک محدود ہے اور ہم نے آپ نے جو بات کی وہ حکومت تک پہنچا دی۔ اب عمل کرنا یا نہ کرنا حکومت کا اختیار ہے۔ دعا ہے کاش حکومت زیادہ نہیں تو عمر رسیدہ افراد کو ہی سبسڈی فراہم کر دے۔

Facebook Comments HS