مجرم کے حقوق اور ماورائے عدالت قتل


ہمارا مجموعی معاشرتی رویہ ہے کہ ہم قوانین کی پاسداری، حب الوطنی اور محترم اداروں کے بنائے گئے ضوابط کی بجا آوری میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم سزا دینے اور دلوانے کے بہت شوقین ہیں۔ گھر کی ملازمہ پہ چوری کا شک ہے سزا دینی ضروری ہے، اولاد نے آپ کے اصولوں کے مطابق بد تمیزی کی اب سب کے سامنے بے عزتی کی جائے تاکہ آئندہ وہ ایسی بدتمیزی نہ کرے، کوئی بچہ روٹی چراتا پکڑا گیا تو اب اہل محلہ مل کر اسے ماریں گے گنجا کریں گے ہو سکتا ہے برہنہ بھی کردیں کیوں کہ اسے سدھارنا ضروری ہے اور وہ نہ بھی سدھرے دوسروں کو سبق ضرور حاصل ہوجائے۔

ہمارے یہاں سزا دینے کا صرف یہی مقصد سمجھا جاتا ہے کہ باقی مجرموں کو عبرت حاصل ہو۔ کتنی عبرت حاصل ہوئی یہ کوئی نہیں بتا سکتا۔ اور جب معاملہ دہشت گردی، بچوں اور لڑکیوں سے زیادتی، غیر ملکی جاسوس اور گستاخیء رسول وغیرہ کا ہو تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے لے کر عام شہری تک ہر کوئی سزا دینا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ رونا پیٹنا تب مچتا ہے جب کوئی بہت اہم واقعہ سامنے آتا ہے۔ یعنی روٹی چرانے والے کو سر عام گنجا کرنے سے لے کر گھر والوں کے ساتھ مار دیے جانے تک ہم بالکل احتجاج نہیں کرتے اگر سامنے والے کے مجرم ہونے کے امکان واضح ہوں یا اس کی قومیت، فرقے مذہب یا معاشی حالات کی وجہ سے ہم چاہتے ہوں کہ یہ مجرم ثابت ہوجائے پھر تو منہ سے چوں بھی نہیں نکلتی۔ بڑے بڑے معاشرے کے واعظین منہ سیے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ایک ہی جیسے دو واقعات میں ایک بغیر ثبوت مجرم قرار پاتا ہے اور دوسرا معصوم کیوں کہ کسی بہت مقدس اور معزز نے ایک کے بارے میں بیان دیا ہوتا ہے دوسرے کے بارے میں نہیں۔

ایک طرف ہم احتجاج کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکی جیل میں مناسب سلوک نہیں ہوا دوسری طرف عمران کو ثبوت ملنے سے پہلے ہی مجرم قرار دے کر سزا بلکہ سب کے سامنے پھانسی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ احمدیوں کو غیر مسلم شہری کے حقوق دینے کی بھی گنجائش نہیں دی جاتی۔ اور پھر ساہیوال جیسے واقعات پہ ہم حیران ہوتے ہیں کہ ملک میں اتنی اندھیر نگری کیسی مچی ہوئی ہے۔ تو محترم ہم وطنو یہ اندھیر نگری ہمارے اندھے معیاروں کا فائدہ اٹھا کے ہی مچائی گئی ہے۔

اگر ہم طالبان کے مخالف ہیں تو طالبان اور داعش کا نام لے کر نوزائیدہ بچے کو بھی مارا جائے گا تو ہم پہلے یہی سوچیں گے کہ چلو اچھا ہوا سانپ کی اولاد تھہ سنپولیا ہی بنتی۔ اسی وجہ س ملک کے بہت سے افراد عافیہ صدیقی کو بنیادی انسانی حقوق کے تحت بحثیتِ مجرم کسی بھی قسم کی سپورٹ دینے کے قطعی خلاف تھے اور ہیں۔ جبکہ وہ مجرم ہے یا نہیں ہر صورت میں سزا سے پہلے اور بعد میں کچھ حقوق ملنا اس کا بنیادی حق تھا اور ہے۔

اور یہی اصول ہم ہر کنٹروورشل معاملے پہ لاگو کرسکتے ہیں۔ سلمان تاثیر کا قتل ہو، وہ گستاخی کا مرتکب رہا ہو تو بھی یہ عدالت میں طے ہونا ضروری تھا، اس کے جواب میں ممتاز قادری بحثیت مجرم سامنے آتا ہے تو بھی اسے ہر وہ حق ملنا ضروری ہے جو انسان اور پاکستانی شہری ہونے کی بنیاد پہ اسے ملنا ضروری ہے بغیر عدالتی کارروائی کوئی بھی اٹھ کے اسے سزا نہیں دی سکتا۔ فری ٹرائل، وکیل رکھنے کا حق، جیل میں مناسب غذا، صحت کی سہولت، اپنا بیان کسی بھی دباؤ کے بغیر دینے کی آزادی یہ ہر ملزم اور مجرم کا حق ہے۔

ایک دوسرے سے متضاد مثالیں دینے کا مقصد یہی ہے کہ میری اور آپ کی ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پہ کسی بھی شہری وہ مجرم کیوں نہ ہو اس کے حقوق ختم نہیں کیے جاسکتے۔ اور اگر آپ فل فرائی ( ماورائے عدالت قتل) ، ہاف فرائی (ماورائے عدالت زخمی کرنا) کسی ایک جرم میں مجرم ثابت نہ ہونے والے کو کسی جھوٹے کیس میں سزا دلوانے، ڈاکووں یا بلاسفیمی کے مجرموں کو سرعام جلانے وغیرہ کو آپ درست سمجھتے ہیں تو امید رکھیے کہ مرحوم خلیل، مرحوم نقیب اللہ محسود، اور مرحوم مشال خان کی جگہ میں اور آپ بھی ہوسکتے ہیں اور ان کے والدین اور اولاد کی جگہ ہمارے بچے اور والدین ہوسکتے ہیں۔

میں اور آپ ممتاز قادری کی طرح عشق رسول میں کسی ان پڑھ ملا کی باتوں سے متاثر ہوسکتے ہیں کہ اپنا ہاتھ کاٹ دیں یا کسی دوسرے کا گلا۔ آپ لبرل ہیں یا مذہبی دونوں صورتوں میں ماورائے عدالت قتل اور سزا کی حمایت کا مطلب آپ اپنے مخالفین کو موقع دے رہے ہیں کہ جب چاہو مجھے سڑک پہ پیٹو یا قتل کر دو۔ بہانہ بعد میں سوچ لینا کہ میں گستاخِ رسول ہوں یا طالبان کا ساتھی کوئی تم سے ثبوت نہیں مانگے گا۔

اگر آپ مانتے ہیں کہ ”اگر“ وہ مجرم تھے تو ان کے ساتھ ٹھیک کیا گیا تو یقین مان لیجیے آپ کا یہ اگر ہی ان کا قاتل ہے۔ جس نے اداروں کو یہ موقع دیا کہ وہ سڑکوں پہ نہتے عوام کو بھونتے پھریں اور بھپرا ہوا مجمع کسی کو بھی جلا دے کیوں کہ مرا ہوا انسان اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرسکتا تو مجرم ہی قرار پائے گا۔

کل ایک اور ماورائے عدالت قتل ہوا اور ساہیوال واقعے پہ بہت کچھ بولنے والے پھر لب سیے بیٹھے ہیں۔ کیوں کہ وجہ وہی کہ ہم کسی کو مجرم مان لیں تو پھر اسے بطور مجرم بھی بنیادی حقوق کے حصول کا حقدار نہیں گردانتے۔ نا اس کے بچوں کی یتیمی پہ دل دکھتا ہے نہ اس کے بوڑھے والدین کا سہارا چھن جانے پہ تکلیف ہوتی ہے۔

جب تک ہم سزا برائے سزا، سزا برائے عبرت اور سب سے اہم سزا برائے تسکینِ قلب کے نظریے سے نکل کر سزا برائے اصلاح کی سوچ نہیں اپنائیں گے اور بحیثیت انسان مجرم کو بھی اس کے حقوق دینے پہ زور نہیں دیں گے۔ ایسے واقعات ہوتے رہیں گے۔ مجرم کو حق دینے کا مطلب اسے سزا سے ماوراء کرنا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ کوئی معصوم سزا نہ پاسکے۔ اور مجرم کو بھی سزا اتنی ملے جتنی کا وہ سزاوار ہے۔

Facebook Comments HS

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima