سیاحت اور حنوط شدہ لاشیں
ابھی الجزیرہ نیوز بتا رہا ہے کہ مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے ایک مزید مقبرہ ( 323۔ 30 قبل مسیح) المنیا کے صحرا میں کھوج نکالا ہے جس میں 50 حنوط شدہ لاشیں (ممیز) دفن تھیں۔ یہ لاشیں متوسط گھرانوں کی لگتی ہیں جن میں 12 لاشیں بچوں کی ہیں۔
ان ممیز کو ایک تقریب میں رکھا گیا جن میں سے کچھ لاشیں لینن کی پٹیوں میں لپٹی ہوئی تھیں اور کچھ پتھر اور لکڑی کے تابوتوں میں بند۔ اس تقریب رونمائی مین 11 ممالک کے سفارتکار اور ثقافت سے منسلک افراد موجود تھے۔
یہ سارا کچھ بھاری بھرکم اخراجات اٹھا کر اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ اپنی زبوں حال سیاحت کی صنعت کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ آئے روز مقبرے تلاش کرنا اور ان میں سے مردے نکالنا اور ان مردوں کی نمائش کرنا اسی تسلسل کا ایک حصہ ہے لیکن نام آثار قدیمہ اور تحقیق کا ہے۔ بہرحال مقصد صرف زرمبادلہ کمانا ہے۔
مجھے علم نہیں کہ آپ یا دنیا ’مُردوں کی نمائش‘ کے بارے میں کیا رائے رکھتی ہے لیکن یہ سالہا سال سے ہو رہا ہے اور مقصد سیاحت کا فروغ اور زر مبادلہ کمانا ہی ہے۔ یہ مُردے، ان کے تابوت، مقبروں سے ملنے والے چکنی مٹی کے مٹکے اور مرتبان مہنگے داموں یقیناً فروخت بھی کیے جاتے ہوں گے۔
اگر اپنے ملک پاکستان کی بات کی جائے تو اس ملک میں یہاں باغات ہیں وہیں صحرا بھی ہیں، ایک طرف سمندر تو دوسری طرف شمالی علاقہ جات کے بلند و بالا خوبصورت پہاڑ ہیں، ان کے درمیاں مختلف ادوار کی تہذیبیوں کے آثارموجود ہیں جیسا کہ سندھ میں موہنجو دڑو، پنجاب میں ہڑپہ اور ٹیکسلا۔
بات ہورہی تھی مقبروں اور ان میں دفن لاشوں کی تو ہماری سر زمین مقبروں اور قبرستانوں کے لحاظ سے بھی خود کفیل ہے مطلب کہ ہر دور کی تہذیب کے حساب سے ایک سے بڑھ کر ایک قبرستان موجود ہیں۔ وادی کیلاش سے لے کر کراچی تک عجائبات کا سحر طاری کردینے والا عالم ہے۔
کیلاش کے مدفون اور وہاں کے رسم رواج کشش رکھتے ہیں اور دیکھنے والوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ گندھارا کی تہذیب اور گوتم بدھ کے مجسموں کا اپنا ہی ایک سحر ہے۔ گجرات کے تاریخی مقبروں، مندروں اور قلعوں کے طلسماتی مناظر انسان کو ساکت کر دیتے ہیں۔ لاہور میں مغلیہ دور کے مقبرے بڑے بڑے دالانوں اور باغات کے ساتھ آج بھی پرکشش ہیں۔ اُچ شریف اپنے آپ داستان گو ہے۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی اپنی ایک ٹھوس تاریخی اہمیت ہے۔
مَکلی کا قبرستان تو عجائبات کی ایک الگ ہی نگری ہے، ایک ایک مقبرہ اور قبر دیدہ زیب اور فن تعمیر کا نادر نمونہ ہے، ان کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ مزید آگے چلتے ہیں تو کراچی میں چوکنڈی کے نام سے قبرستان موجود ہے جو مَکلی کے قبرستان جتنا بڑا تو نہیں لیکن یہ اپنی دنیا آپ ہے اور دیکھنے والے پہ طلسماتی سحر طاری کر تا ہے۔ یہاں ہر قبر کے نقوش و نگار منفرد ہیں، جیومیٹری کے بیش بہا ڈزائن دیکھنے کو ملتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے قبروں کی ڈرائنگ اور ڈیزائن کا مقابلہ سجایا گیا ہو۔ کراچی میں ایک گورا قبرستان بھی ہے اور اس مین بنی قبریں اور اس میں لگے مجسموں کا اپنا الگ ہی رنگ اور اہمیت ہے۔
اگر سیاحت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو کتنا کچھ ہے ہمارے پاس لیکن ہم نے تو اپنے زندہ شہروں کو کھنڈر اور کوڑے کا ڈھیر بنا ڈالا ہے۔ اگر ہمارے شہروں کا حال یہ ہے تو پھر قبرستانوں اور تاریخی ورثے کیا حال ہوگا۔
مصر صرف ممیز اور مرتبان دیکھا کر اپنی سیاحت کی صنعت کو فروغ دے رہا ہے اور ہم سب کچھ منفرد رکھتے ہوئے بھی اس صنعت کی طرف سوچ نہیں رہے۔ ہمیں شمالی علاقہ جات کے علاوہ آثار قدیمہ اور تاریخی ورثے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ ہمیں ان مقامات کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، انہیں محفوط بنانا چاہیے اور وہاں سیاحت کے فروغ کے لئے تمام ممکنہ سہولتیں مہیا بھی کرنی چاہئیں تاکہ سیاحوں کے لئے کسی بھی قسم کی مشکلات پیدا نہ ہوں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ تمام مقامات سیاحت میں اپنی اہمیت رکھتے ہیں اور بیرونی ممالک کے لوگ ان میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔
مصر اور دوسرے ممالک کی طرح ہمیں بھی سیاحت کی صنعت کو فروغ دینا چاہیے۔ یقیناً یہ مقامات زرمبادلہ کا بہتریں ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔





