محمود شام: کوئی ایسا بھگت سدائے


اُن کی چابک دست ہونے کے راز مجھ پر کھلنے لگے۔ ایک سال بہت سی ایسی تصاویر میری نظر سے گزری کہ جس میں بہت سے ادیب شام صاحب کی سالگرہ مناتے نظر آئے۔ کراچی آمد پر میں نے ابن آس محمد سے پوچھا ”بھئی یہ کیا سلسلہ ہے، ہر سال ایک سے بشروں والے ادیب شام صاحب کی سالگرہ پر تالیاں بجاتے ملتے ہیں، جواب ملا:۔ “ شام صاحب ایک ادارہ ہیں، جو بشرے تمہیں تالیاں پیٹتے اور شام صاحب کی جنم دن مناتے ملتے ہیں، یہ دراصل شام صاحب کی نرسریاں ہیں، شام صاحب نے اپنے پرچہ ٹوٹ بٹوٹ میں بہت سے ادبا کو متعارف کروایا، ٹو ٹ بٹوٹ ایوارڈ کا اجرا کیا، ملازمتوں کے دروازے کھولے اور بچوں کا ادب لکھنے والے بہتوں نا آموز کی تربیت و سرپرستی کی۔ یہ سب انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

”یہ سنتے ہی میں نے نیا سوال جھاڑ دیا۔ “ مگر ٹوٹ بٹوٹ تو قصہ پارینہ ہوا سالگرہ منانے کے لیے اتنی پلٹن کو جمع کر کے شام صاحب کو کیا ملتا ہے؟ ”جواب ملا“ انہیں کچھ ملتا ہے یا نہیں، مگر ہم ادیب ایک مسرت سے ہمکنار ہوتے ہیں اور یہ اہتمام ایک ہی آدمی کرتا ہے، نام ہے اُن کا علی حسن ساجد۔ ”یہ سنتے ہی میں حیرت کے سمندر میں ڈبکیاں کھانے ہی لگا تھا کہ ابن آس محمد نے ٹکڑا لگایا :۔

 ”کل شام صاحب کی سالگرہ ہے، چلیں گے۔ “ مجھے یقین نہ آیا ”یا خدا یہ کیسا سامان ہوگیا ملاقات کا اور وہ بھی جنم دن پر“ پھر کچھ ہی لمحوں بعد محبوب الہی مخمور کا بلاوا آگیا کہ کل شام صاحب کی سالگرہ ہے، تمہیں دعوت ہے، ضرور آنا۔ ”محبوب الہی مخمور انوکھی کہانیاں کے مدیر ہیں، وہ چھبیس سال سے یہ پرچہ باقاعدگی سے شائع کر رہے ہیں۔ رات پہلو بدلتے کٹی، اگلی صبح ایک مخصوص لاری آئی جس میں ادیب، کالم نگار، اخبار نویس، ڈراما نگار، مدیران رسائل و اینکر پرسن شامل تھے۔

وہ سواروں کو شام صاحب کے ٹوٹ بٹوٹ فارم ہاوس تک لے گئی، استقبالیہ پر شام صاحب خود استقبال کو موجود تھے، دیکھتے ہی بولے :۔ ”ہاں جی خیر سے پہنچ گیے۔ “ میں نے مسرت میں حیراں پریشاں سر ہلایا ہی تھا کہ بولے :۔ ”آج کل کس مدرسے میں قیام ہے۔ “ اس بات پر ایک زبردست قہقہ پڑا مگر ہاتھ چھوٹتے ہی اندر بڑھ گیا اور خود کلامیوں میں غوطے کھانے لگا، شام صاحب کو کیسے معلوم ہوا، کہ میں دو دن لاڑکانے کے ایک مدرسے میں قیام پذیر رہا، اس کا ذکر تو سوشل میڈیا پر کیا تھا، تو کیا وہ مجھ نالائق کی الٹی سیدھی سطور پڑھتے ہیں؟  

یہ سوال خود سے تھا، مگر میں ایک بھر پور تقریب میں اپنے تئیں لاجواب تھا۔ رسم شروع ہوئی۔ شام صاحب نے کیک کاٹا، تصاویر بنی اور علی حسن ساجد صاحب نے مجھے آگے کر دیا، علی حسن ساجد صاحب پاکستان ٹیلی ویژن کراچی اسٹوڈیو کے اینکر پرسن ہیں، سابق مئیر کراچی کے وہ پرسنل اسسٹنٹ بھی رہے، میری ان سے کبھی میل ملاقات نہ تھی، مگر جس محبت سے انہوں نے کہا :۔ ”شام صاحب یہ مزمل صدیقی ہیں اور مظفر گڑھ سے تشریف لائے ہیں“۔ شام صاحب نے پاس بیٹھا لیا اور مکالمہ شروع ہو گیا، انہوں نے سوشل میڈیا پر میرے جن خیالات کے حوالے دیے، میں اپنے تئیں دم بخود رہ گیا کہ شام صاحب مجھ ادنیٰ کی پوسٹ بھی توجہ سے پڑھتے ہیں، پھر بول اٹھے، میں خود سوچ رہا تھا کہ کسی طرح آپ سے رابطہ ہو اور کوئی میل ملاقات ہو، اچھا ہوا آپ آ گیے۔

بھئی دوستو محمود شام اور کراچی کے اہل سخن کے اخلاص پر دفتر کھولتے اینٹیں کم پڑ گئی ہیں۔ جذب کی کیفیت طاری ہے، واقعات لکھتے اسلوب کا کینڈا بدل گیا ہے۔ مگر آنکھوں تلے نوشاد عادل کی بے ریائی یاد آرہی ہے، ڈراما نگار مصطفیٰ ہاشمی کا کاندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت سے تصویر بنوانا یاد آ رہا ہے، ایڈیٹر سرگزشت پرویز بلگرامی صاحب کا مٹھاس سے بھرپور لہجہ کانوں کو سرور عطا کر رہا ہے، علی حسن ساجد بھائی کا یہ کہنا کہ آپ کب تک ہیں، آپ کے اعزاز میں نشست رکھنے کا سوچ رہے ہیں، محبوب الہی مخمور کا میرے پیچھے پیچھے رہنا اور تصاویر اتارنا دل کو کھب رہا ہے، اورسب سے بڑھ کررات کے اس سمے یہ منظر دل میں اتر رہا ہے جب محمود شام صاحب نے ایک ڈاکٹر صاحب سے میرا تعارف کروایا :۔

”یہ مزمل صدیقی ہیں، بہت عمدہ نثر لکھتے ہیں، مظفرگڑھ سے تشریف لائے ہیں۔ “ کیا کسی سند کی گنجائش رکھتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ بھئی دوستو شام صاحب نے اناسیویں سالگرہ منائی اور بھرپور انداز میں منائی، نئے دوستوں کے لیے شام صاحب کا اجمالی تعارف یہ ہے کہ آپ اس وقت روزنامہ جنگ کراچی کے ایڈیٹر ہیں، اطراف کے نام سے اپنا رنگدار پرچہ بھی نکالتے ییں، ٹوٹ بٹوٹ کا اجرا انہوں نے اسی کی دہائی میں کیا، آپ ہفت روزہ قندیل کے جن دنوں ایڈیٹر تھے، بچوں کے معروف ناول نگار اشتیاق احمد کی پہلی کہانی چھاپنے کا اعزاز آپ کو حاصل ہوا، آپ منفرد لب و لہجے کے شاعر بھی ہیں۔

کارڈیو اسپازم، آخری رقص، چہرہ چہرہ میری کہانی، نوشتہ دیواراور قربانیوں کا موسم کے نام آپ کے شاعری مجموعے ہیں دیگر کتابوں میں لاڑکانہ سے پیکنگ، روبرو، برطانیہ میں خزاں، کتنا قریب کتنا دور، بھٹو کے آخری ایام، نئی آوازیں، تقدیر بدلتی تقریریں، محلوں میں سرحدیں، خواتین و حضرات، شب بخیر، بھارت میں بلیک لسٹ، امریکا کیا سوچ رہا ہے اور مملکت اے مملکت وغیرہ شامل ہیں۔ شروع اول میں، میں نے صدارتی ایوارڈ کا ذکر کیا تھا۔ وجہ جانیے کہ شام صاحب نے وہ اس لیے لینے سے انکار کردیا تھا کہ وہ قارئین کی طرف سے حوصلہ افزائی کو اپنا اعزاز سمجھتے ہیں، انہوں نے کسی قسم کا سرکاری اعزاز پہلے بھی قبول نہیں کیا تھا اور اب بھی اس اعزاز کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ جنگ کے ادارتی صفحہ پر مملکت اے مملکت کے عنوان سے کالم بھی لکھتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2