فل کورٹ ریفرنس، تعزیتی ریفرنس اور کتابی ریفرنس


جب کبھی بھی سال دو سال بعد فل کورٹ ریفرنس کی کوئی خبر نظر سے گزرتی ہے تو نہ چاہتے ہوئے بھی ذہن ایک بار ’تعزیتی ریفرنس‘ کی طرف ضرور چلا جاتا ہے حالانکہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ’فل کورٹ ریفرنس‘ اور ’تعزیتی ریفرنس‘ کا آپس میں دور دور کا بھی کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ آج کل تو ریفرنس کا نام سنتے ہی احتساب عدالت کے ریفرنس زیادہ ذہن میں آنے لگتے ہیں اور ساتھ ہی العزیزیہ ریفرنس اور فلیگ شپ ریفرنس، نواز شریف کی جیل یاترا اور احتسابی ریفرنس کی زد میں آنے والے شہباز شریف کی جیل اور جیل سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ’اونیاں جانیاں‘ کی تصویریں بھی سامنے آ جاتی ہیں۔

پچھلے دنوں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس ہوا یعنی سپریم کورٹ کے سب منصفین کورٹ نمبر ون میں ایک ہی رو میں اونچے سٹیج پر براجمان ہوئے۔ میاں ثاقب نثار کی خدمات کو سلام پیش کیا، ان کی تعریف و توصیف کی گئی۔ اس ساری کارروائی کا مگر جسٹس منصور علی شاہ کو عدالتی ذرائع اور ذرائع ابلاغ کی وساطت سے ہوا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اسی عدالت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی فل کورٹ ریفرنس میں شریک نہیں ہوئے۔

کیوں شریک نہیں ہوئے، یہ ہمیں ذرائع ابلاغ نے نہیں بتایا۔ جان کر کرنا بھی کیا تھا۔ اس موقع پر نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے حسب روایت خطاب فرمایا۔ خطاب کیا فرمایا، اپنا پورا اصلاحاتی ایجنڈا دیدیا اور وہ بھی پہلے ہی دن۔ اور پھر ایجنڈا بھی ایسا کہ 72 سالوں سے ملکی سرحدوں پر مامور مقدس ادارے کے ایک ذیلی ادارے کی طرف سے بیان آنا لازم ہو گیا۔ جب کبھی اور کہیں بھی کوئی کام روٹین سے ہٹ کر ہو جائے تو رد عمل تو آنا ہی ہوتا ہے۔

ہوا یوں کہ نئے چیف جسٹس صاحب نے کہہ دیا کہ حکومتی معاملات میں فوج اور ایجنسیوں کے کردار پر بات ہونی چاہیے، فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی گنجائش ہونی چاہیے اور یہ بھی کہا کہ سویلین بالا دستی جمہوری استحکام کے لئے ضروری ہے۔ ایک ہی سانس میں یہ بھی کہہ دیا کہ فوجی عدالتوں کا ٹرائل پوری دنیا میں برا سمجھا جاتا ہے اور تمام خصوصی عدالتیں ختم کر دینی چاہئیں۔ اس ’اکڑ دکڑ‘ نظام انصاف پر اپنی رائے زنی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا تنظیمی ڈھانچہ تین درجاتی ہونا چاہیے :ضلعی، ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ۔

گویا کہا کہ عدالتیں تین قسم کی ہی ہوتی ہیں باقی سب مایا ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ لاکھوں مقدمات زیرا لتوا پڑے ہیں، ان کا بھی کچھ کرنا ہے۔ بات ٹھیک بھی ہے ورنہ لوگ کہیں گے کہ اپنا گھر تو ٹھیک نہیں ہو رہا۔ میاں ثاقب نثار کی فنڈ ریزنگ مہم پر لوگوں نے کچھ اس طرح ہی کی باتیں کی تھیں۔ آصف سعید کھوسہ ’دانشور جج‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ان کی دانست میں ملک میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رکھنے کے لئے انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ، فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کے درمیان ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔

میجر جنرل آصف غفورنے جب سنا کہ نئے چیف جسٹس صاحب فوجی عدالتوں کو ختم کرنے کے حامی ہیں، انہوں نے سوال اٹھا دیا کہ اچھا تو کیا ملک کا فوجداری نظام اب موثر ہو گیا ہے؟ ہمیں اس نظام کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے فوجی عدالتوں کے فوائد ایک ایک کر کے گنوانے کے بعد کہا کہ 21 ویں ترمیم کے تحت دو دو سال کے لئے فوجی عدالتوں کی منظوری پارلیمنٹ نے دی تھی اوراگر تیسری بار فوجی عدالتیں قائم رہنی ہیں تو یہ بھی پارلیمنٹ ہی طے کرے گی، اب اس کی مرضی منظوری دے نہ دے۔

چیف جسٹس کی تجویز اور خواہش اور میجر جنرل آصف غفور کی رائے اور تجزیے کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری پارلیمنٹ کیا کرتی ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں میں پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کی توسیع کے خلاف ووٹ ڈالنے کا اعلان کر چکی ہے، پی ٹی آئی فوج کے ساتھ جائے گی، رہ گئی ن لیگ تو اس کی مشکلات سمجھ میں آتی ہیں، چنانچہ اس کی رائے منقسم ہے۔ نئے چیف جسٹس کی تقریرکا دوسرا اہم حصہ جو موضوع بحث بنا وہ خودعدلیہ کے بارے میں ان کی سوچ اور ارادے پر مبنی ہے۔

میاں ثاقب نثار کہا کرتے تھے کہ ان کی زندگی کے بس دو ہی مشن ہیں : ڈیم بنانا اور ملک کو قرضوں سے نجات دلانا۔ جا تے جاتے انہوں نے آبادی کی منصوبہ بندی کو بھی تیسرا منہ بولا مشن قرار دیدیا تھا۔ (یاد آیا، بابا رحمتا آج کل ہے کہاں )۔ مگر نئے چیف جسٹس مختلف ٹھہرے۔ فرمانے لگے میں بھی کچھ ڈیم بنانا اور قرض اتار نا چاہتا ہوں۔ مقدمات میں غیر ضروری تاخیر، غیر سنجیدہ قانونی چارہ جوئی، جعلی گواہوں کے خلاف ڈیم بنانا (بند باندھنا) چاہتا ہوں۔ اور زیر التوامقدمات کو جلد نمٹا کر قرض اتارنا چاہتا ہوں۔ لوجی ’ڈیم‘ اور ’قرض‘ کا مفہوم ہی بدل گیا!

نئے چیف جسٹس نے جو منجمد پانیوں میں پتھرپھینکا تو کچھ ’ہل جل‘ ہوئی اور دعویٰ جواب دعویٰ کے مصداق پاک فوج کی طرف سے جواب آگیا جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ جاتے جاتے قارئین کو مگر یہ بھی بتاتے چلیں کہ آصف سعید کھوسہ وہی جج ہیں جو دو منتخب وزرائے اعظم کو نا اہل کرنے والے بنچوں میں شامل تھے۔ یہی نہیں یوسف رضا گیلانی کے خلاف مقدمہ میں خلیل جبران کی نظم ’قابل رحم قوم‘ اور نواز شریف کے خلاف مقدمہ میں ماریو پوزو کی کتاب ’گاڈ فادر‘ کا ریفرنس بھی دیا۔

 ’سسلین مافیا‘ کا ریفرنس بھی دیا گیا۔ ان حوالوں کاسیاسی و قانونی حلقوں میں خوب چرچا رہا۔

ن لیگی نہال ہاشمی کو بھی آصف سعید کھوسہ ہی نے ایک ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ تین بار وزیراعظم بننے والے نواز شریف کا کیس عدلیہ کے سامنے ہے۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ خواجہ حارث کے قانونی کتابوں کے سارے ریفرنس کسی کام نہ آئیں اور نئے ڈیم بنانے اور قرض اتارنے کا مفہوم مزید کچھ اور ہی بدل جائے۔ یہ الگ بات کہ ن لیگ حفظ ماتقدم کے طور پر عدلیہ کے بارے میں کچھ خاموش خاموش سی بھی ہے اوراپنے قائد کی بریت کا خواب دیکھ رہی ہے۔

سزا کی تبدیلی یا بریت کا خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں مگرخواجہ حارث کے بھانت بھانت کے کتابی ریفرنس کے سامنے سزا دینے کے لئے کسی تکڑے کا ایک ہی ریفرنس کافی ہے۔ آصف سعید کھوسہ کا فل کورٹ ریفرنس کے موضوع پر کیا گیا خطاب بتاتا ہے کہ وہ بہت کچھ بدلنا چاہتے ہیں۔ اچھی بات ہے، مگرمسئلہ یہ ہے کہ شروعات کہاں سے کریں گے؟

Facebook Comments HS