صحرا تھر میں چنکارا ہرن کو بچانے کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارومل امرانی تھرپارکر دنیا کی سبز ریگستانی زون میں سے ایک ہے، جس میں منفرد اور خوبصورت جغرافیائی، زمین کی تزئین، ثقافت، روایات، پودے اور حیوانات پائی جاتی ہے، اسی وجہ سے تھرپارکرکو اوپن ایئرمیوزم سے منسوب کرنے کے ساتھ پاکستان کے پانچ اہم ماحولیاتی ایکوسسٹم میں شامل کیا جاتا ہے۔ ماحولیات کے مایرین نے ملک میں آٹھ اہم جیو ویودتا کے امیر علاقے منتخب کیے ہیں ان میں تھرپارکر بھی ایک ہے۔ بد قسمتی سے یہ خوبصورت صحرا گذشتہ دو دہایوں سے بڑتے ہوئے موسمی تبدیلی کے اثرات اور انسانی وجوہات کی وجہ ماحولیاتی خطرے میں آ گیا ہے۔ ایک طرف قحط کی بھوک اورپیاس ہے دوسری طرف شکار کی مشق جنگلی پرجاتیوں کے نسل کو ناپید کر رہی ہے۔ ان حالات نے ماحولیاتی نظام میں ماحولیاتی کشیدگی اور ماحولیاتی عدم توازن میں زیادہ تر اضافہ کیاہے

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی طرف سے بنائی گئی عالمی ریڈ ڈیٹا لسٹ میں تھرپارکر کے پودے اور حیوانات بڑتے جا رہے ہیں۔ تھرپارکر کے ماحول پے نہ صرف موسمی تبدیلی نے بڑا اثر چھوڑا ہے، اور ان کے ساتھ شکاری مشق بھی بڑتی جا رہی ہے۔ خاص طور پے چنکارا کا غیر قانونی شکار کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی مشق سے چنکاراکی نسل خطرے میں آگئی ہے۔ مقامی کمیونٹیز کی تشخیص میں انکشاف کیا ہے کہ چنکارا کی تعداد میں 80 ٪ کی کمی گزشتہ چار دہائیوں میں محسوس کی گئی ہے۔

پاکستان، بھارت اور ایران میں پائے جانے والی چنکارا ہرن کی اس نسل کو ہندی غزال بھی کہتے ہیں۔ چنکارا ہرن کے ابائی علاقے برصغیر کے میدان، خشک جنگلات، صحرا اور پہاڑ ہیں۔ آج بھی یہاں پر چنکارا ہرن کو بے خوف رہنے کی جگہ مل جائے تو اور جگہ نہیں جاتے۔ چنکارا ہرن ایک چھوٹا ہرن ہے جو 65 سینٹی میٹر تک لمبا ہوسکتا ہے جبکہ اس کا وزن 25 کلو گرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ یہ سرخی مائل رنگ کا ہرن ہے جس کا نچلا دھڑ سفید ہوتا ہے۔

پیٹ اور ٹانگوں کا اندرونی حصھ زردی مائل سفید ہوتا ہے، پیٹ کے دائیں بائیں دونوں طرف ڈارک براؤن رنگ کی پٹیاں ہوتی ہیں، ماتھا سرخی مائل براؤن یا ڈارک براؤن ہوتا ہے، آنکھوں کے کونوں سے لے کر ہونٹوں کے اوپر تک ڈارک ماحولیاتی ماہر کہتے ہیں کہ موسم کی تبدیلی سے چنکارا کی رنگت میں بھی تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ گرمیوں میں چنکارا کی رنگت سرخی مائل براؤن اور سردیوں میں زردی مائل گرے براؤن ہوتی ہے، اس کے سینگ 15 انچ تک بڑے ہو سکتے ہیں۔

سینگ کے اندر ہڈی روایتی ادوایات میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس کی کھال سے بہت چیزین بنتی ہیں۔ پرانے زمانے میں تارک الدنیا ہونے والے لوگ چنکارا کی کھال پر بیٹھ کر جھنگلوں میں عبادت کرتے تھے۔ پاکستان میں ان کی آبادی تھرپارکر، عمرکوٹ، اچھڑو تھر، چولستان میں پائی جاتی ہے لیکن مسلسل شکار کی وجہ سے ان کی نسل بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

چنکارا تین، چار کا گروپ بنا کر رہتے ہیں، چنکارا نر اور مادہ اکٹھے ہوتے ہیں۔ مادھ ایک سال میں جبکھ نر ایک سے ڈیڑھ سال میں جوان ہوتا ہے، صحرائی بکریوں کی طرح چنکارا کی سال میں دو بریڈنگ سیزن ہوتی ہیں، مارچ اپریل اور پھر ستمبر اکتوبر، زیادھ تر جنسی میلاپ ستمبر اکتوبر میں ہی ہوتی ہے، کیوں کہ اس وقت ساون کی وجہ سے اچھی خوراک مل جاتی ہے۔ ہرن صحتمند ہوتے ہیں۔ دورانیھ حمل 165 دن کا ہوتا ہے، زیادھ تر بچوں کا جنم مارچ اپریل میں ہوتا ہے، مادائیں سالانہ ایک یا کبھی کبھار دو بچے پیدا کرتی ہیں، بچھ دو ماھ تک ماں کا دودھ پیتا ہے لیکن ایک سال کی عمر تک والدین کے ساتھ ہی رہتا ہے۔

اگلے بچے کی پیدائش کے وقت الگ ہو جاتے ہیں۔ نر کی نسبت مادہ بچے دو گنا زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان کی اوسطأ طبعی عمر 12 سال ہوتی ہے۔ جھنگلی ہرن بہت کم پانی پیتا ہے۔ صحرائی لوگوں کے پاس روایت ہے کہ صحرا میں چنکارا بارش کا پانی پیتا ہے، قدرتی تالابوں (ٹوبوں ) میں بارش کا پانی جہاں ہرن پیتے ہیں ان کو ہرن واٹڑی بھی کہتے ہیں۔ جھنگلی ہرن بھاگنے میں تیز ہوتا ہے۔ موسم گرما میں پانی کی تڑپ رن کے سراب میں رلاتی ہے۔

لوگوں نے گھراور باغوں میں چنکارا پال رکھے ہیں۔ وہ روزانہ پانی پیتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں پلے ہوئے ہرن بھاگنے والی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ جھنگلی ہرن کا گوشت کم پانی پینے کی وجہ سے خشک ہوتا ہے۔ تھرپارکر میں وائیلڈ لائیف ڈپارٹمنٹ کی طرف سے کوئی وائیلڈ لائیف کلنک نہیں بنی ہوئی ہے۔ نہ کوئی ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ماہر رہتا ہے۔ ڈاکٹر جھامن جان ایک وٹنری ڈاکٹر ہیں، ان کی تھر کی وا ئیلڈ لائیف سے خاص دلچسپی رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے۔ شترمرغ کی طرح چنکارا کی فارمنگ کی جا سکتی ہے۔ اس سے ایک تو لوگوں کو روزگار کا ذریعہ میسر ہوگا اس کے ساتھ چنکارا کا نسل ناپید ہونے سے بچ جائے گا۔ شاعری کی مشھور و مقبول صنف غزل کا لفظ غزال سے نکلا ہے۔ غزل کی لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ”یا“ عورتوں کی باتیں کرنا ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق اصطلاحی معنی میں غزل اس آواز کو بھی کہا جاتا ہے جو ہرن کے گلے سے اس وقت نکلتی ہے جب وہ شکاری کے خوف سے بھاگ رہی ہوتی ہے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ غزل ہرن کی آنکھ کو کہتے ہیں جو کالی اور خوبصورت ہوتی ہے۔ چنکارا ہرن بہت خوبصورت ہوتا ہے، خاص طوراس کی آنکھیں، اس کا بھاگتے ہوئے چھال مارنا۔ شکاری پیچھے ہوتے ہوئے بھی رک کر مڑ کے دیکھنا۔ یہ سب ادائیں شعرا؛ کے دل میں اتر جاتی ہیں۔ چنکارا ہرن کا نہ صرف برصغیر کی شاعری میں ذکر ملتا ہے بلکہ ایران کی فارسی شاعری میں محبوب کے حسن اور ادا کے لئے چنکارا ہرن کی تشبیھ چنی گئی ہے۔ تھری لوگ خاص طور راجپوت قبیلے کے لوگ اور آدی واسٍی تھر کی زمین اور اس کے جانداروں کے ساتھ ہم آہنگ رہتے تھے۔

وہ بھی تھرپارکر کے دن تھے جب بکریوں اور بھیڑ کی ریوڑ کی طرح ہرن کے ریوڑ نظر آتے تھے۔ ہرن ساون کی موسم میں کھیتوں کے فصل کھا جاتے تھے۔ گھروں میں آ کر تنگ کرتے تھے۔ لیکن خواتیں و مرد ان کو گھروں سے بکریوں کی طرح نکالتے ہوئے کہتے تھے کہ ہرن تمھاری عمر بڑی ہو۔ تم بوڑھاپے کے دن دیکھو۔ تھر کے ’اصل ماہرینِ نباتات و جمادات‘ راجپوت اور آدی باسی قبیلے کے لوگ ہی ہیں۔ عالمی سطح پر ماحولیات کی تحریکوں سے برسوں پہلے تھری راجپوت جانداروں اور ان کے ماحول کے بچاؤ کی خاطر پنچائتی نظام متعارف کرا چکے تھے۔

راجپوتوں کے راج میں پرندے اور جانور بے خوف گھومتے پھرتے رہتے تھے اور انھیں انسانوں کے ہاتھوں سے کھانا کھانے کے لئے مل جاتا تھا۔ بچے ہرن سے بڑا پیار کرتے تھے۔ بیلوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح مختلف رنگوں کے موتی ’لوہے‘ پیتل اور تابنے کے زیورات کے ساتھ گاؤں کے آس پاس گھومنے والے ہرن کو پہنائے جاتے تھے۔ مگر اب صوبہ سندھ کے جنوبی مشرقی حصے میں واقع ضلع تھرپارکر میں راجپوتوں کا رائج کیا ہوا پنچائتی نظام ریگستان کے دریائے پران اور ہاکڑو کی طرح ماضی کا قصا بن گیا ہے۔

سماج کے ٹوٹے ہوئے روایتوں میں جنگلی پرجاتیوں کے تحفظ و احترام کی روایت بھی شامل ہے۔ پرندوں اور جانوروں کو زمین کا حسن قرار دیا جاتا ہے۔ جس جگہ پر یہ موجود ہوتے ہیں وہاں زندگی کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ چنکارا ہرن کے پیٹ پر بھی مشکی ہرن کی طرح مشک کی تھیلی ہوتی ہے۔ اور اس میں زائد خون جمع ہوتا رہتا ہے جو جم کر نہایت خوشبودار ہوجاتاہے۔ یہ کستوری ہے۔ کستوری بہت مہنگی ہوتی ہے۔ بیس ہزار روپے تولہ ہے

جس ہرن کی جسم میں مشک پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے بعد وہ سوتا نہیں بلکہ کھڑے کھڑے اونگ لیتا ہے اس ڈر سے کوئی شکاری میرا مشک نہ چھین لے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ چنکارا کے پیٹ پر باقاعدہ تھیلی نہیں تھوڑے مقدار میں مشک ہوتی ہے۔ ہرن کو بھی معلوم نہیں ہوتاکہ مشک اس کے جسم میں ہے۔ وہ مشک کی خوشبو پے مشک کی تلاش میں بھاگتا رہتا ہے۔ شکار کی خوشی کیا ہے؟ شکار کی تمنا کیوں جنم لیتی ہے؟ ان سوالوں کا جواب علم بشریات اور ماحولیات میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بہتر دے سکتے ہیں لیکن ہمارے یہاں اس موضوع پر کسی نے ابھی تک کام نہیں کیا ہے۔

ہرن کے شکار کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ بادشاہوں کے زمانوں سے شکار ہوتا رہا ہے۔ عام طور شکار کے دو وجوہات پائے جاتے ہیں۔ ایک شکار ضرورت کے لیْے ہوتا ہے۔ دوسرا شوق میں کیا جاتا ہے۔ سندھی زبان کے ایک محاورے کے مطابق یاری، چوری اور شکاری کا شوق چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کے شوق میں آنکھوں پے پٹی آ جاتی ہے۔ اپنے مقصد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

ضرورت کے لیْے شکار ہو یا شوق میں شکار کی سرگرمی ہو۔ انسانی ارتقا کے سفر کی کہانی میں شعور کی دھائی شروع ہونے سے شکار کے کچھ اصول بنائے گْئے لیکن اب وہ اصول دور تک نظر نہیں آتے۔ ریت کے ٹیلوں پر رات کے اندھیرے میں طاقتور جیپوں کے ذریعے چنکارا کے پیچھے گردش کرتے ہوئے شکاری اپنی بندوق کی گولی چلاتے ہوئے یہ نہیں دیکھتا کہ سامنے ہرنی ہیں یا ہرن۔ ؟ حاملہ ہے یا بچوں کو دودھ پلانے والی ہے۔ ! جب تڑپتا ہوا ہرن اس کے سامنے ہوتا ہے۔

اس کی باچھیں پھٹی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کی آنکھوں میں چمک آجاتی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس ہرنی کے بچے دودھ کے پیاسے ہیں۔ یا اس کے پیٹ میں بچے تڑپ رہے ہیں۔ صحرا کے ریت پر ہرن کے پاؤں کے نشان، بکری اور بھیڑ کے پاؤں کے نشان ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کوئْی خاص فرق نہیں ہوتا ہے۔ شکاری اور آدی واسی لوگ بکری اور بھیڑ کے پاؤں کے نشانوں میں ہرن کے پاْؤں کے نکال لیتے ہیں۔ ہرن کا پیر پتلا اور زمین پر واضح ہوتا ہے۔

ہرن کے شکار کے لیْے مقامی گائیڈ ضرور چاہیْے۔ جس کی مدد کے سوا شکار کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مقامی لوگ صباح سویرے اٹھ کر ریت کے ٹیلوں پر رات بھر کے پیروں کے نشانات دیکھتے ہیں۔ اس عمل کو مقامی زبان میں پیر اوہاڑن کہتے ہیں۔ جھنگلی پرجاتیوں سے لے کرانسانوں تک جو رات میں ریت پر گزرا سب کے پگ پہچان لیتے ہیں۔ ہرن کے شکار کے لئے کم سے کم دو لوگ ہوتے ہیں۔ ایک پیر اوہاڑن والا ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں بندوق اور دوسرا پانی اور دیگر اشیا؛ اٹھا کے چلنے والا ہوتا ہے۔

ہرن کے پیچھے شکاری قدم قدم بڑی ہوشیاری سے رکھتے ہیں۔ ایک قدم اٹھانا پھر رکنا، بھاگنا اور پھر رکنا اس طرح چلتے ہوئے جہاں پورے نشانے پے شکار آتا ہے وہاں گولی چلاتے ہیں۔ مقامی لوگ جاننے ہیں ہرن کی رہائش کہاں ہے۔ ہرن کے لئے کہتے ہیں کہ وہ ایک رات میں 200 کلومیٹر تک کھانے کی تلاش میں سفر کرلیتا ہے مگر واپس صبح ہونے سے پہلے اپنی رہاْش والی جگہ پر لوٹ آتا ہے۔ شکاریوں کے اصول میں بیٹھے ہوئے ہرن پر ہتھیار نہیں چلانا ہے۔

مگر اب وہ اصول نہیں رہے۔ سماجی کارکن علی نواز چوہان کہتا ہے کہ ہرن کی رفتار تقریباً 90 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ شکاری لوگ رات کے اندہیرے میں طاقتور گاڑی میں بیٹھ کر ہرن کی تلاش کرتے ہیں۔ جھنڈ کو دیکھتے گاڑی کی تیزروشنی ہرن کے آنکھوں پر ڈالتے ہیں۔ چنکارا خوبصورت اور پھرتیلا ہونے کے ساتھ بڑا حساس جانور ہے۔ گاڑی کی آواز اور تیز روشنی میں بھاگ نہیں سکتے، ٹانگیں کاپنے لگتی ہیں۔ چالاک شکاری ڈر کے مارے ہرن آسانی سے پکڑ لیتے ہیں۔

گوٹھوں کے شکاری لوگ سرچ لائیٹ اٹھاکر نکلتے ہیں۔ ہرن دیکھ کرکسی چیز سے خوفناک آواز پیدا کر کے اسی طریقے روشنی میں پرن قبضے میں لیتے ہیں۔ زندہ پکڑے ہوئے اکثرہرن بیچتے ہیں۔ ہرن کی جوڑی دس ہزار سے لے کر تیس ہزار تک داموں میں فروخت ہوتی ہے۔ تھر سے لوگ تحفے میں ہرن بھی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کا شکار کر کے اس کے سر کو سٹف شدہ (کیمیائی طریقے سے مردہ جانوروں کو گلنے سڑنے کے قدرتی عمل سے محفوظ بنانے کے عمل کو سٹفنگ کہتے ہیں ) کروا کے اپنے ڈرائنگ روم میں سجا لیتے ہیں۔

تھرکے شاعر شہاب نہڑیو کہتے ہیں کہ تھر کے لوک کہانھیوں میں چنکارا ہرن کا بہت ذکرملتا ہے۔ دل والوں کی دنیا میں اس ہرن سے پیار کیا جاتا رہا ہے۔ مگر وہ دنیا آباد کہاں ہے۔ جس میں فطرت سے محبت تھی۔ جس میں سچائی تھی۔ جس میں صحراؤں پر برستے ہوئے بادلوں کی رم جھم تھی، مورں کا رقص تھا، ہرنوں کے چھال تھے۔ مگر وہ تھر نہیں رہا، اب یہ ویران تھر ہے۔ صحرا کی دھوپ میں درخت کا کوئی سایا نہیں مل رہا۔ قحط کے اثرات اور شکار کی سرگرمیاں اسی طرح جاری رہی تو تھر کے ریگستان میں چھلانگے مارنے کے لیْے ایک ہرن بھی نہیں ملے گا۔

صحرا کی اڑتی ہوئی ریت میں ہم اپنے آنے والے نسل کو فطری حسناکی میں کیا دیں گے۔ ؟ خوابوں کی صحرائی ریت کے شرکش ہرن اس طرح بیدردی سے شکار ہوتے رہیں گے۔ ؟ خوبصورت آنکھوں والے غزال کے لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ کیا کارونجھر کو نیشنل پارک کا درجا نہیں دیا جا سکتا؟ ہم کارونجھر کو نیشنل پارک کا درجا دلوانے کے لئے مھم چلا رہے ہیں۔ تھری شاعر کی جذبات سن کر مجھے ایسا لگا کہ آج مجھ سے تھر مخاطب ہے۔ اے خوبصورت آنکھوں والے غزال تیرے حسن کے بغیر میں بہاروں کی سواگت کیسے کروں گا؟ تیری گرم سانسوں کے بغیرموسم سرما کیسی گزرے گی؟ ساون کی رت میں بارش کی رمجھم کے ساتھ تیرے چھال کہاں تلاش کروں گا؟

تھرپارکر میں 1980 سے رن کچھ وائیلڈ لائیف سینچری اور 2010 سے مٹھی چنکارا ہرن سینچری بنی ہوئی ہیں۔ لیکن اب تک کوئی دونوں کا مینجمنٹ پلان نہیں بنا ہے۔ تھر کے وائیلڈ لائیف کی کبھی سائنسی بنیاد پے سروے نہیں ہوئی ہے۔ وائیلڈ لائیف ڈپارٹمنٹ تھرپارکر کے نماْئندے کہتے ہیں کہ تھر میں 5 ہزار سے زیادہ ہرن پائے جاتے ہیں۔ لیکن مقامی لوگوں کے مطابق شکار اور قحط میں ہرن کی آبادی بہت کم ہے۔ تھر میں کبھی سائنسی بنیاد پے وائیلڈ لائیف کی سروے نہیں ہوئی ہے۔

وائیلڈ لائیف آرڈینیس 1972 کی 14 شق کے تحت وائیلڈ لائیف سینچری ایریا میں شکار پر پابندی ہے لیکن اس کے ساتھ وائیلڈ لائیف سینچری ایریا سے باہر 3 کلومیٹر تک بندوق، کلہاڑی جیسے شکاری ہتھیار اٹھاکے چلنا ممنوع ہے۔ وائیلڈ لائیف سینچری کو گیم سینچری بھی کہتے ہیں۔ عرف عام میں گیم سینچری کہنا ماحولیات کے ساتھ مذاق ہے۔ وائیلڈ لائیف آرڈینیس 1972 ترمیم کی ضرورت ہے۔

2010 تک تھر میں 500 میں ہرن پالنے کا پرمٹ لے کر ایک پرمٹ میں آسانی سے ہرن بیچنے کا کاروبار کرتے تھے۔ اب تھر میں مور اور ہرن کے پرمٹ پر پابندی ہے۔ لیکن با اثرلوگ وائیلڈ لائیف ڈپارٹمنٹ سے گٹھ جوڑ کر کے ہرن بیچنے کا کام کرتے رہے ہیں۔ کبھی ایسے ہوتا ہے کہ مقامی لوگوں کی نشاندہی پر ہرن کے سوداگر پکڑے جاتے ہیں تو ان پر ہلکا جرمانہ ڈال کر وائیلڈ لائیف والے مجرم کو چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم نے کبھی نہیں سنا کہ ہرن کے شکاری یا سوداگر کو ایک دو ماہ جیل میں ڈالا گیا ہو۔

19، 000 مربع کلومیٹر میں پھیلا ہوا ضلع تھرپارکر کے ریگستان میں 1 ملین افراد اور 4.5 ملین مویشیوں کی آبای پائی جاتی ہے۔ اس وجہ سے تھرپارکر کو دنیا میں گنجان آباد صحرا میں شامل کیا جاتا ہے۔ سوسائیٹی فار کنزرویشن اینڈ پروٹکشن آف انوائرمنٹ ماحول کے بقا کے لئے 2003 ع سے تھر میں کام کر رہی ہے۔ ادارے کے سی ای اوتنویرعارف کا کہنا ہے کہ تھرپارکر موسمی تبدیلی اور انسانی وجوہات کی وجہ سے ماحولیاتی خطرے میں ہے۔

تھرپارکر میں سراسری طور ایک سال میں 200۔ 250 ملی میٹربارش پڑتی ہے۔ تھر کی معیشت کا اہم ذریعہ زراعت اور لائیو سٹاک ہے۔ دونوں سرگرمیوں کا انحصار بارش پر ہے، تھر میں موسمیاتی تبدیلی کے نتائج بار بار خشک سالی اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی، مقامی لوگوں کی طرف مشینی زراعت، شکار میں اضافہ اور جھنگلات کی کٹائی نے ہرن کی نسل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ غزال یا چنکارا کی تھرپارکرمیں رہائش گاہ عدم تحفظ کا شکار ہے۔ اب تھر میں کنڈی، کونبھٹ کے ساتھ پیلوں، تھوہر، باؤری، گگرال کے درخت تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی جھنگلات چنکارا کی رہائش ہوا کرتے تھے۔ ان درختوں کے نیچے گاس چنکارا کی خوراک تھی۔

عمرکوٹ کے ریگستانی دو یونین کاؤنسل کے ساتھ تھرپارکر کی یونین کاؤنسل چھاچھرو، ننگرپارکر، پیتھاپور، ہاڑہو، سینگارو، تگوسر، جوڑؤ، چیلھار، ڈاہلی، کھینسر، تڑدوس، سارنگیار، مٹھڑیو میں چنکارا ہرن ملتے ہیں۔ تھر میں شکار کے واقعات بارش کی دن اور سردی کی موسم میں زیاہ ہوتے ہیں۔ لیکن 5 فیصد واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ باقی صحرا کی آغوش میں دفن ہو جاتے ہیں۔ شکاری منصوبا بندی کے تحت نکل جاتے ہیں۔

۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے تحفظ جنگلی حیات کے عنوان سے 1975 ع ڈاک ٹکٹوں کی ایک نئی سیریز کا آغاز کیا تھا اس سیریز کے سات مختلف سیٹ 1975 ء اور 1982 ء کے دوران جاری ہوئے۔ 1983 ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھا گیا اور اس سلسلے کے چارمزید ڈاک ٹکٹ 15 فروری 1983 ء کو، ایک ڈاک ٹکٹ 19 مئی 1983 ء کو اور ایک مزید ڈاک ٹکٹ 20 جون 1983 ء کوجاری ہوا۔ اس ڈاک ٹکٹ پر پاکستان میں پائے جانے والے ہرن چنکارا کی تصویر بنی تھی اور انگریزی میں اس کا نام تحریر تھا۔ اس ڈاک ٹکٹ کی مالیت ایک روپے تھی اور یہ ڈاک ٹکٹ میسرز سیکورا سنگاپور (پرائیویٹ) لمیٹڈ میں طبع ہواتھا۔ کیا اب ایسا نہیں ہو سکتا۔ ؟

دنیا بھر میں وائلڈ لائف کو محفوظ رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس سلسلہ میں لوگوں میں آگاہی بھی فراہم کی جارہی ہے لیکن ہمارے پاس ایسا کوئی ضابطہ اخلاق نہیں بن رہا ہے جس کے تحت لوگوں کو اس بات پر قائل کیا جا سکے کہ چنکارا جیسے جانوروں کے ناپید ہونے سے قدرتی حسن ختم ہو جائے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>