جنگل کا ننگے پاؤں شکاری اور غار کی مالک
پچھلے زمانوں میں جب حضرت انسان جنگلوں میں دوڑا پھرتا تھا، نہ تن ڈھانپنے کا شوق، نہ ننگے پاؤں کی فکر۔ فطرت نے ہر غم زندگی سے آزاد رکھا ہوا تھا۔ مرد شکار کے پیچھے دوڑتا اور عورت لائے ہوئے شکار کو نظام ہضم کا حصہ بنانے میں مدد کرتی۔ طاقت کے استعمال نے مرد کو اپنے طور ہی باور کروایا کہ نیزہ لے کے دوڑنا ہی بنیادی کام ہے سو فطرت کے اس نظام کی ڈور اس کے ہاتھ میں ہے۔
لکڑیاں کیسے اکٹھی ہوتی ہیں، آگ کیسے جلتی ہے، غار کا فرش پتوں سے کیسے ڈھانپا جاتا ہے، لایا ہوا شکار کیسے استعمال ہوتا ہے،
مرد کے جبلی تقاضوں میں کون ساتھ دیتا ہے، نئی زندگی کی نشو ونما کون کرتا ہے، اور نئی روح کو اس زندگی میں لاتے لاتے کس کے ہاتھ سے زندگی کی ڈور پھسل جاتی ہے، یہ سب مرد کے سوچنے کی بات نہ تھی وہ تو ایک ہی بات جانتا تھا کہ وہ شکاری ہے
وقت نے کروٹ بدلی، اور تہذیب کے نام پہ انسان کی جون بدلی، وحشیانہ پن اور جنگلی فطرت کہیں اندر دبا لی گئی اور اب ہر چہرے پہ نقاب تھا، بدن پہ خوب صورت لباس اور پاوں میں جوتا یا جوتی،
غاروں کی جگہ خوب صورت گھروں نے لے لی، شکار ابھی بھی کیا جاتا تھا مگر کرنسی کا اور کرنسی کا پلڑہ بھاری ہونے کی وجہ سے مرد پہ ابھی بھی طاقت کا نشہ طاری تھا
پھر کچھ سر پھری عورتوں نے مقابلہ کرنے کا سوچا، طاقت، اختیار اور ذمہ داری میں توازن کی بات چلی، وہ نشہ جو صدیوں سے مرد پہ طاری تھا اس کو ہرا کرنے کی کوشش کی، مگر یہ دنیا مرد کی دنیا تھی، آقا کا میدان جنگ تھا اس لئے ہار کیسے مان لی جاتی، مروجہ رسوم ورواج پہ معاشرتی ضروریات کا لیپ کیا گیا اور اس پہ بھی بات نہ بنی تو اپنی خواہشات پہ مذہب کا تڑکا لگایا گیا اور ہر مذہب کی رو سے یہ ثابت کیا گیا کہ عورت کمتر ہے، اس کی ذمہ داریاں دوسرے درجے کی ہیں اور وہ ملکیت ہے مرد کی، کسی بھی اور چیز کی طرح، جیسے زمین، مال مویشی، گھر اور جیسے جوتی،
جی ہاں، پاوں کی جوتی، جس کے بنا آپ زندگی کے اونچے نیچے راستوں پہ نہیں چل سکتے، جو آپ کے پاؤں کو پتھروں سے بچاتے بچاتے خود جان دے دیتی ہے، جس کی موجودگی آپ کے جبلی تقاضوں کو مطمئن کرتی ہے، جس کا وجود آپ کی زندگی میں آسانیاں لاتا ہے، جو آپ کی نسل کی امین بنتی ہے اپنی جان پہ کھیل کے، جو اپنے خونی رشتوں کو تج کے معمور ہو جاتی ہے آپ کے خونی رشتوں کی خدمت پہ، جو زندگی کی ہر اونچ نیچ میں آپ کی پشت پہ رہتی ہے جو اپنی جوانی کے دن آپ کی جدوجہد پہ وار دیتی ہے، جو اکیلے پن کا عذاب سہتی ہے جو سورج مکھی بن کے آپ کے گرد رہتی ہے
مگر کیا کہیں، کہ آپ کے اندر کا مرد اسے ساری عمر جوتی گردانتا ہے جسے پرانا ہونے پہ کوڑے کے ڈھیر پہ پھینکا جاتا ہے اور نئی جوتی آپ کی ہم سفر بن جاتی ہے
اب جب عورت ہے ہی جوتی تو کیا حق اور کیا حقوق، پاؤں کی چیز ہے، پاؤں میں رہنے دینا چاہیے، سر کا تاج تو نہیں بنایا جا سکتا نا
اور جب مرد کو مذہب ہی اجازت دے دیتا ہے، دوسری لانے کو، تیسری لانے کو اور اگر اتنا جنجھٹ نہ پالنا ہو تو تین حرف بول کے گھر سے نکالنے کا تو آپ ایسے مالک کو کیسے بتائیں کہ ہم نے اس چھت کے نیچیزندگی بتائی ہے، اگر تم نے پیسہ کمایا ہے تو میں نے جسم و جان جلائی ہے اگر زندگی کی رہ گزر پہ تم نے محنت کی ہے تو میں نے مشقت کی ہے، اگر تم نے چھت بنائی ہے تو تمہارا پسینہ میں نے پونچھا ہے اگر تم نے دن ایک کیا ہے تو میں نے راتیں تمہارے بچوں کے لئے کالی کی ہیں
اب جب زندگی کا سفر آگے بڑھ چکا، نظر پہ چشمہ لگ چکا، بالوں میں چاندی اتر آئی، اب جسم میں وہ توانائی نہیں، جذبات میں وہ شدت نہیں، اب سورج مکھی کا پھول مرجھانے کو ہے اور تم کو ابھی بھی سودا ہے، نئی منزلیں سر کرنے کا، نئے انجانے سفر کا، تمہارا دل ہمکتا ہے ایک نئے ایڈونچر کے لئے اور میرا، میرا کیا۔ تین بول اور خدا حافظ، یہ کہہ کہ
تم خالی کر دو میرا گھر کہ میرے دل کا مکیں اب کوئی اور ہے اور مجھے معاشرہ اور مذہب اس کی اجازت دیتا ہے اور مجھے تمہارے ساتھ گزرے ہوئے سب برس بھول چکے ہیں مجھے اب تم سے کوئی انس نہیں
، میں کیوں یاد رکھوں کہ تمہارے ماں باپ گزر چکے اور تمہارے سر پہ چھت ہے یا نہیں اور اب اس عمر میں تم کہاں جاؤ گی، یہ میرا مسئلہ نہیں کیوں کہ میرا معاشرہ اور میرا مذہب بھی مطلقہ کی پرواہ نہیں کرتا
تمُ کو میں استعمال کر چکا، تمہاری چمک دمک ماند پڑ چکی، تمہاری قوتیں زائل ہو چکیں اب تمہارا ٹھکانا میرا دل اور اور میرا گھر نہیں وہ تو نئی الفتوں کا متمنی ہے، یہ مرد کا جہاں ہے ایک شکاری کا جہاں، تم شکار ہو چکیں
تم جاؤ، اے پاؤں کی جوتی

