اخلاقی اصلاح اور ویلینٹائن ڈے کی سسٹرز ڈے میں تبدیلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل میری مادرِ علمی جامعہ زرعیہ (یونیورسٹی آف ایگریکلچر) فیصل آباد کی انتظامیہ کے 14 فروری کو ”ویلینٹائن ڈے“ کو ”یومِ ہمشیرہ یعنی سسٹرز ڈے“ کے طور پر منانے کے فیصلے کی گونج ہر سو سنائی دے رہی ہے۔ کہا یہ گیا ہے کہ اس اقدام کا فیصلہ معاشرے اور جامعہ میں اسلامی اقدار کے تحفظ و ترویج کو پیشِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ اس اعلان کو لے کر ہر کوئی اپنے دل کی بھڑاس نکال رہا ہے خواہ مقامی میڈیا ہو یا عالمی میڈیا۔ اس کے ساتھ ساتھ یار لوگ سوشل میڈیا پہ اس کے حق اور مخالفت میں تاویلیں دے رہے ہیں۔ جامعہ کے ایک سابق طالب علم ہونے کے ناتے سوچا کہ ہم بھی اس بحث میں اپنا مافی الضمیربیان کردیں۔

اس فیصلے پہ رائے زنی کرنے سے بیشتر خیال آیا کہ ”ویلینٹائن ڈے“ کی تاریخ تو جانی جائے۔ مطالعہ کرنے پہ معلوم ہوا کہ یہ دن روم کے ایک عیسائی پادری ویلینٹائن کے نام سے منسوب ہے۔ قصہ یوں ہے کہ بادشاہِ وقت نے شادی کرنے پہ پابندی لگائی ہوئی تھی۔ توجیہ اس کی یہ دی گئی کہ اس طرح سے مرد حضرات کی حربی صلاحیتوں کو گزند نہیں پہنچے گی۔ لگتا ہے کہ بادشاہ کے مشیران یا تو ناکام و نامراد عاشق تھے یا پھر بیویوں سے کچھ زیادہ ہی تنگ آئے خاوند تھے۔

خیر اس عیسائی پادری نے اس غیر فطری اور مافوق العقل فیصلے کے برخلاف لوگوں کی شادیاں خفیہ طور پر کروانی شروع کردیں۔ جب اس بات کا علم شاہی دربار کو ہوا تو اس عیسائی پادری کو پابندِسلاسل کرکے سزائے موت دینے کا حکم ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ جیل میں قید کے دوران اس عیسائی پادری کا جیلر کی بیٹی کے ساتھ معاشقہ ہوگیا۔ ویلینٹائن کو تختہَ دار پہ لٹکانے کے لیے 14 فروری کا دن مقرر ہوا۔ اس دن جیلر کی بیٹی نے ویلینٹائن کو مخاطب کرتے ہوئے اپنا محبت نامہ بھیجا۔

سو اس دن کی مناسبت سے آنے والے وقتوں میں یورپ کے مختلف علاقوں میں اسے ”یومِ محبت“ کے طور پر منانا شروع کردیا گیا۔ یوں یہ یورپی تہذیب کا حصہ بن گیا اور یورپی حکمرانوں نے جہاں جہاں نوآبادیات بنائیں وہاں وہاں اس کی تہذیب بھی پہنچ گئی۔ اس کو مزید دوام جدید مواصلاتی ذرائع بشمول سماجی روابط کی ویب سائٹس نے بخشا ہے۔ جس کی وجہ سے آج یہ دنیا حقیقتاًُ ایک عالمی دیہات یعنی گلوبل ویلیج بن کر رہ گئی ہے۔

دیہات سے یاد آیا کہ جامعہ زرعیہ کو اس کے سر سبز کھیتوں کی وجہ سے فیصل آباد والے شہر کے اندر ”پنڈ“ یعنی ”گاؤں“ کہتے ہیں۔ وہ علیحدہ بات ہے کراچی، لاہور والے ”فیصل آباد“ کو بھی ایک بڑا سا ”پنڈ“ ہی کہتے ہیں۔ خیر بات ہورہی تھی میری مادرِ علمی کی انتظامیہ کے اس فیصلے پہ کہ امسال جامعہ میں ”یومِ محبت“ کو ”یومِ ہمشیرہ“ کے طور پر منایا جائے گا۔ میرا پہلا شکوہ تو اپنی جامعہ کی انتظامیہ سے یہ ہے کہ انہیں ہمارے جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے کوئی چھ سال بعد یہ دن منانے کا خیال کیوں آیا؟

ہمارے ہوتے ہوئے ایسے دن مناتے ہوئے موت واقع نہیں ہو جانی تھی۔ دوسرا جس طرح سے آپ نے اس دن کا نام ”یومِ ہمشیرہ“ رکھا ہے اسی طرح سے ایک طلبا تنظیم اس دن کو ”یومِ حیا“ کے طور پر کئی سالوں سے منا رہی ہے۔ کہیں آپ بھی اس کے ڈگر پہ نہیں چل پڑے۔ کیونکہ اس تنظیم کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کے کارکنان لاہور کی ایک جامعہ میں اکثر شادی شدہ جوڑوں کو نفاذِ حیا کے لیے پھینٹی لگاتے پائے گئے ہیں۔ دیکھا جائے تو اُس شاہی فرمان جس کی وجہ سے یہ دن شروع ہوا تھا اور اس تنظیم کے رویے میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ جو کہ نکاح کو تکمیلِ ایمان کے لیے ضروری قرار دینے والے اور جبر سے روکنے والے دینِ اسلام کی تعلیمات کا عملی نفاذ تو نہیں ہو سکتا۔

باقی جہاں تک بات ہے اس دن کو یورپی تہذیب کا حصہ سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت کی تو اسے ”یومِ ہمشیرہ“ کے طور پر منانے سے بہتر ہے کہ آپ اس کو منائیں ہی نہ بلکہ اس سے صرفِ نظر کریں۔ جیسا کہ میرے جیسے کئی حضرات ہر سال کرتے ہیں۔ یوں ہمارے شرافت کے سرٹیفیکیٹ پہ ایک اور مہرِ تصدیق بھی ثبت ہو جاتی ہے اور پیسوں کی بچت بھی۔ سنا ہے کہ اس دن کو یومِ ہمشیرہ کے طور پر منانے کے لیے جامعہ کی طرف سے ڈوپٹے اور چادریں خریدی جارہی ہیں۔ دیکھ لیں اگر اس دن کو ہمیشہ کی طرح صرفِ نظر کر دیا جاتا تو اس پیسے کی بچت ہوسکتی تھی جسے طلبہ کی اخلاقی تربیت کے لیے کسی اور مد میں خرچہ جا سکتا تھا۔

انتظامیہ کا مقصد یقیناً نیک ہے کہ طلبہ کی اخلاقی اصلاح کی جائے۔ بقول شخصے پاکستان اس وقت جتنا اخلاقی پسماندگی کا شکار ہے شاید اتنا معاشی پسماندگی کا نہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جامعات کسی بھی معاشرے کی اخلاقی نشوونما میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن جامعات یہ کام پابندیاں لگا کر نہیں کرتی کہ یہ تو حکومتِ وقت کا کام ہوتا ہے۔ جامعات یہ کام رول ماڈلز پیدا کرکے کرتی ہیں۔ طلبہ کے لیے ماں باپ کے بعد سب سے اہم رول ماڈل ان کے اساتذہ ہوتے ہیں۔

اگر ہم اساتذہ کی صورت میں اچھے رول ماڈلز دینے میں کامیاب ہوگئے تو یقین جانیے ہمیں ایسی پابندیاں لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ دوسرا اس طرح کی پابندیاں ہمارے معاشرے میں پہلے سے موجود ذہنی تناؤ اور مایوسی کو بڑھاتی ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم بین الاقوامی سطح پہ پورن سائٹس دیکھنے والی صفِ اوّل کی اقوام میں اے ایک بن چکے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال کا حل مزید پابندیاں لگانا نہیں ہے۔ البتہ طلبہ کو صحت مند ہم نصابی و غیر ہم نصابی سرگرمیوں میں مشغول کرکے، ہاسٹل کے بند کمرے سے نکال کر بھی ان غیر اخلاقی سرگرمیوں سے باز رکھا جا سکتا ہے۔

جہاں تک بات ہے ویلینٹائن ڈے منانے کی تو بھائیوں اس سلسلے میں جامعہ کے ہی ایک استادِ محترم کی بات دہراؤں گا۔ استادِ محترم سے سوال کیا گیا کہ ویلینٹائن ڈے منانا کیسا ہے۔ جواب آیا کہ اگر تمہارے نزدیک تمہاری بہن، بیٹی کسی کی گرل فرینڈ بن کر ویلینٹائن ڈے منا سکتی ہے تو پھر یہ تمہارے لیے بھی جائز ہے۔ اگر تم اسے اپنی بہن، بیٹی کے لیے حرام سمجھتے ہو تو یہ تمہارے لیے جائز کیسے ہوسکتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •