ایوان صدر کو ایوان وزیراعظم سے بالاتر بنانے کی گونج سنائی دے رہی ہے
یہ ہی ہوا، محترمہ حیران پریشان فارغ ہو گئیں، نواز شریف پھر اقتدار میں آئے، اب فارغ ہونے کی باری تھی فاروق لغاری کی۔ تیرہویں آئینی ترمیم سے اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار ختم کیا گیا جسے لغاری نے ذاتی توہین جانا۔ لیکن اب وہ کمزور پڑ چکے تھے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ مل کر انہوں نے بڑی کوششوں کے بعد آخری داؤ کھیلا مگر، جنرل جہانگیر کرامت نے ان کی طرف سے بھیجا ایک خط، وزارت دفاع کو روانہ کر دیا جس پر مایوس ہو کر وہ استعفا دے گئے۔
اب یہاں آئے محترم رفیق تارڑ، طاقت سے محروم سویلین شخص کیا کرتا اس نے تو جنرل مشرف کے اقدام پر بھی کچھ نہ کیا، بلکہ جب تک جنرل مشرف نے انہیں خود فارغ نہیں کیا وہ آرام سے ایوان صدر میں قیام پذیر رہے۔ جنرل مشرف البتہ ایوان صدر میں اسی فوجی تمکنت سے رہے جیسے جنرل ضیاء۔ اب اس ایوان کو وہی طاقت مل چکی تھی کہ سارا ملک ایک طرف اور دوسری جانب ایوان صدر۔ یعنی ساری خدائی ایک طرف جورو کا بھائی ایک طرف، 2002 کے الیکشن کے بعد آئی اسمبلی نے خود کو قتل کرنے کا اختیار سر جھکا کر صدر مشرف کے حوالے کیا۔ اس دور کے سنہری کارنامے کیا تھے وہ زیادہ پرانی بات نہیں سو دہرا کر کیا حاصل۔ اتنا کافی ہے کہ جو آگ وہ بھڑکا گئے اسے بجھاتے ہزاروں پاکستانیوں کا خون بھی کافی نہ پڑ سکا اور آج بھی وہ آگ سلگ رہی ہے۔
اس کے بعد آئے آصف زرداری، ان کا معاملہ یوں تھا کہ پارٹی ان کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے وہ حکومت کرتے رہے مگر سولیین صدر جتنا با اختیار ہو سکتا ہے اتنے ہی وہ رہے۔ اٹھارویں ترمیم کر کے انہوں نے اسمبلی توڑنے کا صدارتی اختیار خود ختم کیا اور ایسا کر کے، نواز شریف ہی کی طرح یہ سمجھا کہ آئین میں اس صدارتی طاقت کو ختم کر کے وہ جمہوریت کو مضبوط بنا دیں گے۔ اس مقصد میں وہ کتنا کامیاب رہے کتنا نہیں اس کی ایک مثال منصور اعجاز نامی ایک شخص اور میمو گیٹ سکینڈل ہی کافی ہے۔
مجھے یاد ہے جب آصف زرداری کے والد کا انتقال ہوا تو دعا کے لئے ایوان صدر جانا ہوا۔ آصف زرداری فاتحہ کے بعد محو گفتگو ہوئے، ان کی شخصیت کا کمال یہ ہے کہ وہ اچھی طرح سے واقف ہیں کہ ان کی شخصیت گویا گالی سی بنا دی گئی ہے مگر وہ خود کو اس طرح پیش کرتے ہیں ملاقاتی اسی سوچ میں گرفتار واپس جاتا ہے کہ غالباً زرداری صاحب سے مظلوم شاید ہی کوئی شخص اس ملک میں رہتا ہے۔ نہ جانے کتنے بکرے صدقوں کی نظر ہوئے جس کے بعد آئے ممنون حسین۔ ان کی صدارت کے لئے ایک یہ فقرہ ہی بہت کافی ہے کہ وہ آئے اور چلے گئے۔ پانامہ سکینڈل کے آنے پر ان کی تقریر میں موجود خدا کی پکڑ کا حوالہ اور حرام کی دولت سے مکروہ چہروں کا ذکر ان کی جان پر ایک ایسا عذاب بنا کہ وہ صفائیاں ہی پیش کرتے رہے اور بقیہ ساری زندگی یہ ہی کرتے رہیں گے۔
اسی تاریخ سے رہنمائی حاصل کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صدارتی نظام کے فیوض برکات پر جاری بحث بے معنی اور بلا وجہ نہیں۔ ہمارے ملک میں صدارتی نظام کا تعلق جمہوریت سے ہر گز نہیں ، یہاں فرانس کی یا امریکہ کی طرز کا جمہوری صدارتی نظام نہ رہا ہے اور نہ ہونے کی کوئی صورت۔ یہاں اگر آیا تو ویسا ہی صدارتی نظام آئے گا جیسا پہلے رہا۔ یعنی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان، یعنی صدر جنرل یحیی خان، یعنی صدر جنرل ضیا الحق، یعنی جنرل پرویز مشرف والا۔
یہ ہے وہ مختصر پس منظر جس کو ذہن میں لئے آپ ایوان صدر داخل ہوتے ہیں۔ سویلین صدور اور فوجی صدور کے عہد میں کتنا فرق ہوا کرتا ہے اس کی ہلکی سی جھلک آپ کو یاد کروائی ہے۔ عارف علوی اب عمران خان کی خوشی و مرضی کے محتاج نہیں رہ گئے۔ مگر وہ ایک سویلین صدر ہیں اور پارٹی معاملات ان کی دسترس میں نہیں، لہذا آپ انہیں زیادہ سے زیادہ، ممنون حسین کی بہتر کاپی کہہ لیں۔ عارف علوی کا ایوان صدر جاہ و جلال تو رکھتا ہے مگر سرکس کے شیر والا۔
اس ایوان صدر کو دوبارہ پرانی تمکنت فراہم کرنے کی بحث جاری ہے۔ مسیحاؤں کی تلاش میں دائروں کا سفر کرتی ہماری نہ ختم ہونے والی خواہش کو پہلے بھی مسیحا عطا ہوئے ہیں اور تب تک ہوتے رہیں گے جب تک ہم اس کی تلاش جاری رکھیں گے۔ تازہ ترین مسیحا، ایوان وزیر اعظم کا مکین ہے مگر لگتا یوں ہے کہ اس مسیحا کا لانا یا آنا عارضی یا بندوبستی انتظام ہے۔ جیسے کسی پرفارمنس کے اصل گلوکار کی آمد سے قبل دوسرے جونئیر گلوکار ماحول کو گرما کے تیار کرتے ہیں تا کہ اصل گلوکار کے آتے تک ماحول بن جائے۔ سیاسی ماحول کو دیکھتے آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ چند ماہ بعد اصل مسیحا کی خواہش زور پکڑ جائے گی اور ہماری تاریخ ان خواہشات کی تکمیل سے بھری پڑی ہے۔
آپ کو یاد ہے چند ہفتے قبل ہی وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ہم اپنا شکنجہ کسنے جا رہے ہیں، اب آپ کو چوروں کی چیخیں سنائی دیں گی۔ مگر یہ کیا ہوا کہ گرفتار علیم خان ہو گئے اور کگھڑ منڈی میں خطاب کرتے چیخیں چوہدری فواد کی نکل گئیں کہ ”اس ملک میں امیر اور غریب کے لئے انصاف کے معیار مختلف ہیں“ اور یہ کہ ”بے شک حکومت تحریک انصاف کی ہے مگر اس طرح یہ کامیاب نہیں ہو گی“۔ کیا آپ اس کو صرف چوہدری فواد کی چیخیں سمجھتے ہیں، شیخ رشید کیوں چیخ اٹھے کہ اگر شریف خاندان یا پی پی سے کوئی ڈیل ہو رہی ہے تو عمران خان قوم کو اعتماد میں لیں۔
اور اب عمران خان خود کیوں اور کس پر چیخ رہے ہیں کہ ”جو سوچ رہا ہے کہ یہ حکومت کسی کو این آر او دے گی وہ سن لے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ یہ غداری ہو گی“۔ وہ کس کو کہہ رہے ہیں کہ ”جمہوریت کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ ایک مجرم (شہباز شریف) جیل سے آ کر پی اے سی کا چیئرمین بن جائے“۔ وہ کس کو بتا رہے ہیں کہ ”ہم نے پارلیمنٹ چلانے کی جتنی کوشش کرنی تھی کر لی اب کسی کو رعایت نہیں دیں گے“۔ دوبارہ پڑھیں ”ہم نے پارلیمنٹ چلانے کی جتنی کوشش کرنی تھی کر لی“۔
ابھی چھ ماہ بھی پورے نہیں ہوئے اور آپ جنھجلاہٹ کا عالم دیکھ لیں۔ یہ چیخیں بلا وجہ نہیں نکل رہیں۔ نواز شریف پہلی مرتبہ اقتدار میں اسی طرح لائے گئے تھے مگر لیڈر بننے کا پہلا قدم انہوں نے 17 اپریل 1993 کو قوم سے خطاب میں اٹھایا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا، اور اگلے ہی دن 18 اپریل کو اسمبلی توڑ دی گئی تھی۔ عمران خان بھی قوم سے کسی انقلابی خطاب کی تیاری تو نہیں کر رہے۔ اب اسمبلی توڑنے کا اختیار صدر کے پاس نہیں مگر اسمبلی کے پاس نئی حکومت لانے کا اختیار تو باقی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

