ایوان صدر کو ایوان وزیراعظم سے بالاتر بنانے کی گونج سنائی دے رہی ہے
نواز شریف کے پہلے دور اقتدار اور عمران خان کے پہلے اور رواں دور حکومت، میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نواز شریف بیساکھی تو کیا، سٹریچر پر لائے گئے تھے اور ان کی بیک گراؤنڈ میں نہ تو شہرت تھی، نہ ہی کوئی کارنامہ جو ان کی طاقت بنتا۔ وہ تقریر کرتے ہوئے شرمائے سے رہتے تھے اور ایک ایک تقریر کی تیاری میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے۔ اس لئے یہ قابل فہم ہے کہ انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہوتے قریب دو سال کا عرصہ لگا، جس کے بعد بے چینی کے آثار واضح ہونا شروع ہوئے جس کے بعد 17 اپریل کی تقریر کی نوبت آئی۔
شخصیت کے اعتبار سے عمران خان کا معاملہ قطعی مختلف ہے۔ وہ دہائیوں سے دنیا بھر میں اپنے مداحوں کا ایک قافلہ لئے چل رہے ہیں۔ عددی اعتبار سے ان کے چاہنے والے، ہندوستان میں خود پاکستان سے زیادہ رہے ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی ان کے کارنامے ہیں۔ برطانیہ کی اشرافیہ میں ان کو بطور داماد قبول کیا گیا۔ وزیر اعظم بننے سے قبل وہ دنیا کے اہم ترین اجلاسوں میں شرکت کرتے رہے تھے۔ لوگ ان کے دیوانے بن کر سامنے رہے۔
یہ وہ بنیادی فرق ہے جس کی وجہ سے بلا خوف خطر کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی بے چینی ڈھائی سال کی قید میں بند نہیں رہے گی۔ اور عین وہی ہوتا ہم دیکھ بھی رہے ہیں سن بھی رہے ہیں۔ یاد رہے یہ صرف ہم نہیں ہیں جو سن رہے ہیں۔ جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے ان کی تو پیشہ ورانہ تربیت ہی سننے کی ہے لہزا وہ تو وہ گفتگو بھی سنتے ہیں جو ان کی لئے نہیں ہوتی۔ مسئلہ مگر یہ ہے کہ بات یہاں ختم نہیں ہوتی جن کو مخاطب کیا جارہا ہے وہ صرف سنتے ہی نہیں، جواب بھی دیتے ہیں مزید یہ کہ ان کے جواب دکھائی دیتے ہیں سنائی نہیں دیتے۔
وہ اپنی تیاری بھی بھرپور انداز میں کیے رکھتے ہیں۔ آئے دیکھتے ہیں، خان صاحب کی تیاری کسی ممکنہ اپ سیٹ پر کیا ہو سکتی ہے۔ تیس اکتوبر 2011 کے لاہور کے جلسے کے بعد وقت آگیا تھا کہ خان صاحب سنجیدگی سے انتخابی سیاست کے لئے خود کو اور اپنی پارٹی کو تیار کرتے، انہوں نے نہیں کیا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد وقت تھا کہ وہ خیبر پختونخوا میں حکومت چلانے کے طور طریقے سیکھنے کی تیاری شروع کرتے۔ انہوں نے نہیں کی۔
قومی اسمبلی میں ان کے پاس وقت تھا کہ وہ جان پاتے کہ اسمبلی میں کمیٹیاں کیسے کام کرتی ہیں۔ روز مرہ کی قانون سازی کیسے ہوتی ہے، ان کے پاس وقت تھا کہ وہ اپنی پارٹی کی ایک شیڈو کیبنیٹ بناتے تاکہ حکومت ملنے پر ان کی ٹیم مکمل طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے قابل ہوتی۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ ماضی رکھنے والا شخص آپ کے خیال میں آج اس قابل ہو گا کہ طاقت کے مرکز کے کسی ایکشن پر کوئی موثر جواب دے سکے۔ کیا آپ ایسا سمجھتے ہیں کہ جذبات کی حدت کے علاؤہ عمران خان کے پاس کوئی بھی پلان موجود ہے کہ جس پر چلتے وہ کوئی انقلاب برپا کر سکیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا اتحاد کتنا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ جس دن علیم خان گرفتار ہوئے اسی دن شام سے سوشل میڈیا پر نعرہ گردش کرنے لگا کہ ”انشاء اللہ نیا سینئر وزیر محمود الرشید، محمود الرشید“۔

