ہمارے خاندانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت
اب اسی مثال کا ایک اور زاویے سے جائزہ لیں۔ دفتر یا کارخانے میں کام کرنے والی عورت سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ اِن عورتوں کی طرح آٹھ دس بچے پیدا کرے گی جن کی زندگی کا دائرہ شوہر، بچوں اور باورچی خانے تک محدود تھا۔چنانچہ خاندان میں افراد خانہ کی اوسط تعداد کم ہو گئی۔ معیار زندگی میں بہتری آئی اور مختصر خاندان کی افادیت برقرار رکھنے کے لیے فرد کوغذائیت، علاج معالجے اور تعلیم کی بہترین سہولتیں فراہم کرنا معاشرے کی ذمہ داری قرار پایا۔
دوسری عالمی جنگ میں محوری قوتوں یعنی جرمنی، جاپان اور اٹلی نے عورتوں کو گھر کے اندر رہتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کا فریضہ سونپا جبکہ جمہوری حکومتوں نے عورتوںکی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کارخانوں میں کام سنبھال کر صنعتی پیداوار کی شرح برقرار رکھیں۔ اس معرکے میں جنگجو وحشیوں کی تعداد بڑھانے کے خواہش مند نظام کو شکست ہوئی جبکہ بہتر پیداواری صلاحیت رکھنے والے ممالک بازی لے گئے۔ نازی اور فسطائی آمریتوں کے انجام سے سبق حاصل نہ کرنے والے کچھ افراد آج بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیںجنہوںنے سڑکوں پر ”بڑا خاندان۔ جہاد آسان“ جیسے نعرے لکھنے کا کام سنبھال رکھا ہے۔ ہمارے یہ دوست اس گزرے ہوئے زمانے میں زندہ ہیں جب قوموں کے مابین کشمکش کا فیصلہ جنگ کے میدانوں میں افرادی قوت کے بل پر ہوتا تھا۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں زندہ رہ سکتی ہیں جو برتر فکری معیار، اعلیٰ علمی استعداد، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل ہوں۔
خاندانی نظام کے تجزیے میں سب سے پہلے تو خاندان اور فرد کا فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خاندان ایک معاشرتی ادارہ ہے جبکہ فرد معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔جس طرح انسانوں نے مل جل کر رہنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے قانون، عدلیہ، سیاسی جماعتیں، قانون ساز ادارے اور انتظامیہ جیسے ادارے تشکیل دے رکھے ہیں اسی طرح خاندان بھی ایک معاشرتی ادارہ ہے چنانچہ معاشرے کی قانونی، اخلاقی، سیاسی اور معاشی اکائی فرد ہے، خاندان نہیں۔ جس طرح بدلتے ہوئے اجتماعی حالات میں قانونی، سیاسی اور انتظامی ڈھانچے تبدیل ہوتے ہیں اسی طرح خاندان کے ادارے میں تبدیلیوں کی ضرورت پیدا ہوتی رہتی ہے۔ دوسری طرف انسانوں کے بنیادی حقوق منسوخ کیے جا سکتے ہیں اور نہ اُنھیں ریاست اور معاشرے کو شدید نقصان پہنچائے بغیر معطل کیا جا سکتا ہے۔
البتہ قانون، سیاست اور انتظامیہ جیسے اداروں اور خاندان میں ایک فرق یہ ہے کہ قدیم معاشرتی ادارہ ہونے کے باعث خاندان ایک ڈھیلا ڈھالا ڈھانچا ہے جسے قانون یا دستور کی طرح منضبط کرنا مشکل ہے۔ خاندان کی تعریف بھی خاصی غیر متعین ہے۔ مختلف گھرانے گوناگوں حالات و واقعات کے نتیجے میں مختلف شکلیں اختیار کر سکتے ہیں۔ کہیں خاندان مختصر ہوتا ہے کہیں وسیع۔ کبھی نامساعد حالات کا شکار ہو کر دور دراز کا کوئی رشتے دار خاندان کا حصہ بن جاتا ہے تو کوئی بچہ والدین کی وفات کے بعد اجنبی گھرانوں میں پرورش پاتا ہے۔ ایسی صورت میں خاندان کو ایک باقاعدہ اور منضبط ادارے کی بجائے ایک معاشرتی قاعدہ سمجھنا چاہیے جو صرف مثالی صورت حال ہی میں اپنے فرائض انجام دے سکتا ہے۔ معاشرتی معمولات میں خلل کی صورت میں محض معاشرتی قاعدوں پر انحصار کرنے سے پچھڑے ہوئے افراد یا محروم طبقات کی حق تلفی لازم آتی ہے۔ ایسی صورت حال میں مناسب قوانین اور انتظامی ادارو ں کے ذریعے افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ماں باپ اور بہن بھائی خاندان کے نزدیک ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک ہی چھت تلے رہنے والے ان کے رشتہ داروں میں محبت، احترام، وابستگی اور ہم آہنگی کا امکان نہایت فطری امر ہے اور یہی معاشرتی قاعدہ ہے لیکن اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ معاشرتی زندگی میں شوہر کا بیوی پر تشدد، بھائی کا بہن کو قتل کرنا، باپ کی جائیداد پر بیٹے کا ناجائز قبضہ اور طلاق کی صورت میں بچوں کی تحویل پر میاں بیوی میں تنازع جیسے امکانات موجود رہتے ہیں۔ عدالتوں میں اس نوعیت کے بے شمار مقدمات ہر وقت زیرِ سماعت رہتے ہیں۔ ایسی صورت میں ان تنازعات کو اس بنا پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ یہ خاندان کے داخلی معاملات ہیں، بہن کو قتل کرنے والا بھائی عدالت میں ایک قاتل کی حیثیت سے پیش ہو گا۔ جائیداد کے تنازعے میں باپ اور بیٹے کا باہمی رشتہ غیر متعلق ہو جائے گا۔ درحقیقت قانون کی تشکیل کا ایک بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ معاشرتی معمولات اور قاعدے فرد کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں لہذا منضبط اداروں یعنی قانون اور عدلیہ کی دخل اندازی ضروری ہو چکی ہے۔ قانون کا منصب غیر جانبدار واقعاتی اور دستاویزی شہادت کی مدد سے شہریوں کو انصاف کی فراہمی ہے۔ قانون کو ناقابل ثبوت اور متنوع معاشرتی معمولات کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرے میں والدین کی اکثریت بچے کے بہترین مفاد کو مدنظر رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود قانون کی نظر میں والدین کو بچے کے بہترین مفاد کا واحدمحافظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ آخر ایسی مثالیں بھی تو موجود ہیں جن میں والدین بگڑے ہوئے عرب شیوخ کی تفریح یعنی اونٹ دوڑ کے لیے چند ٹکوں کے عوض اپنے کمسن بچے فروخت کر دیتے ہیں۔ منشیات کے عادی باپ معمولی رقم کے لیے اپنے بچے بیگار لینے والے بھٹہ مالکان کے ہاتھ رہن رکھ دیتے ہیں۔ معاشرے میں ایسی صورت پیدا ہونا بعید از قیاس نہیں جہاں والدین اور بچے کے مفادات متصادم ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں قانون والدین کے حقوق کی بجائے بچے کے بہترین مفاد کو فوقیت دیتا ہے۔ خاندان افراد خانہ کے لیے تحفظ اور محبت کی ضمانت دیتا ہے مگر جہاں خاندان کا کوئی فرد محسوس کرے کہ خاندان اس کے حقوق کی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے وہاں اُسے خاندان کے دائرہ کار سے باہر اپنے حقوق حاصل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ بے شک والدین اپنی سمجھ کے مطابق شادیاں طے کرتے وقت بچوں کی بہتری مدنظر رکھتے ہیں لیکن والدین کو شریک زندگی کے انتخاب کا غیر مشروط حق نہیں دیا جا سکتا۔ خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں اَن گنت مثالیں موجود ہیں کہ والدین مالی مفاد، جائیداد کے لالچ اور جاہلانہ رسم و رواج کی تقلید میں بچوں کی زندگیاں جہنم بنا دیتے ہیں۔جہاں اکثر مسلم گھرانوں میں بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ جہاں معاشرتی اکثریت نے سہولت کی ثقافت اختیار کر رکھی ہے۔ جہاں مذہبی احکامات پر عمل کرنے میں سہولت نظر آئے وہاں مذہب کا دامن تھام لیا جاتا ہے جہاں رسم و رواج کی پابندی میں فائدہ نظر آتا ہو وہاں رسم و رواج کا سہارا لے لیا جاتا ہے۔ جہاں قانون کی آڑ میں مطلب حل ہوتا ہو وہاں قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ ایسے معاشرے میں انسانی حقوق اور معاشرتی ترقی کے لیے درکار اجتماعی تبدیلیوں کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



باتیں تو بہت سی ہیں، مگر سردست ایک تمتماتے جملے نے کھینچ لیا، ’’ بے جا جنسی گھٹن کے بجائے صحت مند جنسی اظہار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔‘‘
یہ صحت مند جنسی اظہار کے مواقع کیا ہوتے ہیں حضرت ؟ فراہم کئے جانے پر بھی روشنی ڈالی جائے، مخاطب یقینآ ریاست ہی ہے یا ضلعی انتظامیہ ؟
تمتماتے جملے کی اصطلاح غلط ہوگی، مگر جس فقرے کو پڑھ کر چہرہ تمتما اٹھے، اسے تمتماتا جملہ کہہ لیتے ہیں، ورنہ جگمگاتا جملہ ہی تصور کر لیں۔
Piyaray Wajahat Mian, You are amazing, The insights in to our social system that you wrote about would usually be acquired by some one much older. I loved reading such pure form of Urdu. After a long time have I had the pleasure. Reading on such an important subject should reach everyone. Therefore please try writing a .little easier version of it I would love to keep in touch with someone like may please
Appreciation
خاندانی نظا م کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے سےپہلے معاشی نظام کی اصلاح فرمائییے جس معاشرے میں دو تہائی کے قریب لوگ غربت کاشکار ہوں اس معاشرے میں کیا خاندانی نظام ہوگا؟غربت کے خاتمے کی سبیل کیجیئے خاندانی نظام از خود درست ہوجائے گا جو تھوڑی بہت کسر رہ جائے گی وہ سیکولرازم اور لبرل ازم کی مالا جپنے سے نہیں قرآن کے احکامات پر عمل کرنے سے پوری ہوگی
well written,, myth busting and thought provoking,,,