ہمارے خاندانی نظام میں تبدیلی کی ضرورت
غیر منصفانہ ریاستی نظام کو اپنے استحکام کے لیے دیگر استحصالی اداروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر کے اندر جو اخلاقی نظام رائج ہوتا ہے گھر سے باہر بھی اسی کی وسیع تر صورت نظر آتی ہے۔ گھر کی چاردیواری میں تشدد سہنے والے دراصل سڑکوں پر، تھانوں، جیلوں اور نجی عقوبت خانوں میں اذیت جھیلنے کی تربیت پاتے ہیں۔ جنھیںخاندان میں مشاورت اور شرکت رائے کی بجائے بزرگوں کے احکامات ماننے کا درس ملتا ہے، اُنھیں ملک میں جمہوری قدروں کے فقدان کا احساس ہوتا ہے نہ ان کے لیے حریت فکر کوئی اعلیٰ انسانی قدر پاتی ہے۔ جنہیںحیاتیاتی حقیقتوں سے نظریں چرانے کی منافقانہ اخلاقیات سکھائی جاتی ہے وہ اجتماعی زندگی میں بھی قول و فعل کے تضاد کو درست اور عین فطری سمجھ کے قبول کرتے ہیں۔ جہاں گھر میں ذاتی مفاد کے لیے اُصولوں کو نظر انداز کرنا سکھایا جاتا ہے وہاں اُصولوں پرکاربند رہنے کی بجائے بدعنوانی، اقربا پروری اور لاقانونیت کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ جہاں لفظ ”خاندان“ سے ایک ایسا گروہ مراد لیا جاتا ہے جو ہر حال میں طعنہ زنی اور ٹانگ کھینچنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے گا وہاں فراخ دلی، محبت اور امن کا خواب پریشان ہوجاتا ہے۔
ہمارے مروجہ خاندانی نظام کی بنیاد دونکات یعنی جائیداد اور دیگر ملکیتی مفادات کا تحفظ نیز جسمانی تقاضوں کو جھٹلانے، دبانے اور چھپانے پر ہے۔ مروجہ خاندانی نظام میں پائی جانے والی بیشتر خرابیوں کی تہہ میں مالی مفادات کارفرما نظر آتے ہیں۔ ہمارے رسم و رواج مثلاً وٹہ سٹہ، بے جوڑ شادیاں، خاندان سے باہر شادی بیاہ سے گریز، لڑکیوں کو وراثت سے محروم کرنا، جہیز، ولور، سوارہ، لب وغیرہ کا بنیادی مقصد جائیداد اور دیگر ملکیتی مفادات ہی کا تحفظ ہے۔ قریبی افراد خانہ میں جھگڑوں کی ایک اہم وجہ مالی ناآسودگی اور معاشی عدم تحفظ ہے۔ نچلے اور متوسط طبقے پر اقتصادی دباﺅ بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان خرابیوں میں مزید اضافہ ہو گا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے خاندانی نظام میں انفرادی صلاحیت اور محنت کو بروئے کار لا کر معاشی ضروریات پوری کرنے کی بجائے دست نگری اور طفیلی رجحانات کا غلبہ ہے۔ عام طور پر ایک کمانے والے پر انحصار کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مالی دباﺅ سے گھبرا کر لوگ راتوں رات دولت ہتھیانے کے منصوبے بنانے لگتے ہیں۔ اپنے زور بازو سے رزق کمانے کی بجائے وراثتی جائیداد پر غیر ضروری انحصار کیا جاتا ہے۔ اہلیت اور محنت کی بجائے مراعات یافتہ حیثیت اور چھت پھاڑ کر ملنے والی دولت کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔ ان رویوں کو اس امر سے بھی تقویت ملتی ہے کہ معاشرے میں حقوق کی بجائے دھونس اور علم کی بجائے طاقت کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ معاشرے میں جو طبقات زندگی کی سہولتوں سے لطف اٹھاتے نظر آتے ہیں ان کی بڑی تعداد اپنی محنت اور ذاتی اہلیت کی بجائے باپ دادا کی وراثت، استحصال اور ناجائز ہتھکنڈوں کے بل پر مزے لوٹ رہی ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقے نے معاشرے میں محنت کی بجائے استحصال کے ذریعے ترقی کی مثال پیش کی ہے۔ تاریخی طور پر درمیانہ طبقہ ہمیشہ اپنی اخلاقی اقدار میں حکمران طبقے کی نقالی کرتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ چند عشروں میں درمیانے طبقے کے حجم میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے یہ درمیانہ طبقہ ہموار سیاسی اور معاشی ارتقا کی بجائے مختلف اتفاقات مثلاً متروکہ جائیداد، پیٹرو ڈالر اور افغان جنگ وغیرہ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے چنانچہ اس میں درمیانے طبقے کی روایتی خوبیاں تو غائب ہیں مگر تمام سماجی اور معاشی طبقات کی خرابیاں جمع ہو گئی ہیں۔
ان خرابیوں کو دور کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ قانونی، سماجی اور معاشی اداروں میں اہلیت، محنت اور دیانت داری جیسی قدروں کو فروغ دیا جائے۔ عورتوں کو بہتر معاشی مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں سرگرم افرادی قوت کا حصہ بنایا جائے تاکہ متوسط گھرانوں پر معاشی بوجھ بھی کم ہو اور سماجی سطح پر طفیلی رجحانات اور نقصان دہ رسم و رواج کی حوصلہ شکنی بھی ہو۔ تاہم یہ سمجھ لینا نہایت ضروری ہے کہ سماج اور معیشت کے موجودہ اخلاقی ڈھانچے میں مناسب تبدیلیاں کیے بغیر یہ اقدامات مفید نہیں ہو سکتے۔ مثال کے طور پر ہمیں ماننا ہو گا کہ خاندان میں مرد کی بالادستی کوئی الہامی اور اٹل حقیقت نہیں۔ آنے والے عہد میں سماجی اور معاشی سطح پر حاکمیت اور بالادستی کی بجائے صنفی مساوات کا دور دورہ ہو گا۔ اسی طرح ہمیں اس تصور سے بھی جان چھڑانا ہو گی کہ خاندان کی مالی کفالت صرف مرد کا فرض ہے۔ مختصر لفظوں میں ہمیں روایتی اخلاقیات کی بجائے عملی اور افادی اخلاقیات اختیار کرنا ہوگا۔ مروجہ خاندانی نظام میں مرد صدیوں سے عورتوں کو اطاعت گزار گھریلو ملازمین کا درجہ دیتے آئے ہیں۔ ان کے لیے راتوں رات نفسیاتی، ازدواجی اور سماجی سطح پر عورتوں کا مساوی درجہ تسلیم کرنا مشکل ہے۔ اس سلسلے میں ایک بڑی رکاوٹ تو یہ ہے کہ ریاستی ادارے (قوانین، عدالتیں اور تعلیمی نصاب وغیرہ) ذرائع ابلاغ، مذہبی پیشوا اوررجعت پسند دانشور بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ متبادل سماجی رویوں کی تشکیل میں مدد دینے کی بجائے امتیازی رویوں کے دفاع میں مصروف ہیں چنانچہ سوچ اور عمل کے قدیم سانچوں سے چمٹے رہنے کا نتیجہ یہ ہے کہ خاندان کا ادارہ تحفظ، محبت، اطمینان اور استحکام کی بجائے، جبر، تشدد، نفرت اور منافقت جیسی خرابیوں کے باعث ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے۔
ہمارے موجودہ خاندانی نظام کا دوسرا ستون حیاتیاتی اور جسمانی تقاضوں کو جھٹلانا، دبانا اور چھپانا ہے۔ اول تو ہم یہ حقیقت ہی تسلیم نہیں کرتے کہ تمام انسانوں کی کچھ جائز جنسی ضروریات ہوتی ہیں۔ حقائق سے آنکھیں چرانے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم اجتماعی اور انفرادی جنسی رویوں میں پیدا ہونے والی خرابیوں سے بے خبر رہتے ہیں اور پاکیزگی کی ظاہری چادر کے نیچے ہر طرح کی برائیاں پرورش پاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارے ہاں لڑکوں اور لڑکیوں کی جنسی تربیت اور تعلیم کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار موجود نہیں۔ چنانچہ نوجوان اپنے ہم عمر ساتھیوں سے پوشیدہ طور پر غیر مستند اور الٹی سیدھی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ایک طرف تو اس طریقہ کار سے نوجوانوں میں غیر ضروری تجسس اور بے جا احساس گناہ پیدا ہوتا ہے، دوسری طرف یہ نوجوان غلط تربیت اوربے ہودہ اخلاقی قدریں سیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بزرگ نسل اپنے طور پر تصور کر لیتی ہے کہ ایک خاص عمر کو پہنچنے کے بعد نوجوان جنسی حقائق سے خود بخود آگاہ ہو جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ مذہب، سائنس اور بنیادی خواندگی کے سلسلے میں تو ہم نے کبھی یہ تصور نہیں کیا کہ نوجوان خود بخود یہ معلومات حاصل کر لیں گے، جنسی معاملات میں یہ کیسے فرض کر لیا گیا کہ نوجوانوں کو باقاعدہ اخلاقی اقدار اور علمی حقائق سمجھنے کی ضرورت نہیں؟ اس غلط سوچ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر افراد علمی طور پر غلط، ناقابل عمل اور غیر اخلاقی جنسی اقدار کے ساتھ جوان ہوتے ہیں۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے



باتیں تو بہت سی ہیں، مگر سردست ایک تمتماتے جملے نے کھینچ لیا، ’’ بے جا جنسی گھٹن کے بجائے صحت مند جنسی اظہار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔‘‘
یہ صحت مند جنسی اظہار کے مواقع کیا ہوتے ہیں حضرت ؟ فراہم کئے جانے پر بھی روشنی ڈالی جائے، مخاطب یقینآ ریاست ہی ہے یا ضلعی انتظامیہ ؟
تمتماتے جملے کی اصطلاح غلط ہوگی، مگر جس فقرے کو پڑھ کر چہرہ تمتما اٹھے، اسے تمتماتا جملہ کہہ لیتے ہیں، ورنہ جگمگاتا جملہ ہی تصور کر لیں۔
Piyaray Wajahat Mian, You are amazing, The insights in to our social system that you wrote about would usually be acquired by some one much older. I loved reading such pure form of Urdu. After a long time have I had the pleasure. Reading on such an important subject should reach everyone. Therefore please try writing a .little easier version of it I would love to keep in touch with someone like may please
Appreciation
خاندانی نظا م کی اصلاح کا بیڑا اٹھانے سےپہلے معاشی نظام کی اصلاح فرمائییے جس معاشرے میں دو تہائی کے قریب لوگ غربت کاشکار ہوں اس معاشرے میں کیا خاندانی نظام ہوگا؟غربت کے خاتمے کی سبیل کیجیئے خاندانی نظام از خود درست ہوجائے گا جو تھوڑی بہت کسر رہ جائے گی وہ سیکولرازم اور لبرل ازم کی مالا جپنے سے نہیں قرآن کے احکامات پر عمل کرنے سے پوری ہوگی
well written,, myth busting and thought provoking,,,