مار نہیں پیار ۔ سدرہ کی کہانی
ہر ماہ کسی نہ کسی بچے کی سالگرہ ہوتی۔ مہینے میں دو دو تین تین بار بھی ایسا ہوتا میں بچوں کے ساتھ ان کی سالگرہ مناتے۔ ہیپی برتھ ڈے کرتے۔ اس دن لنچ مل کر کرتے۔ سالگرہ کے کارڈ ہاتھ سے بنائے جاتے۔ میں بچے کے لئے گھر سے کوئی نہ کوئی گفٹ لے کر آتی۔ وہ بھی ایسا ہی دن تھا جب مس انجم پرنسپل کے ساتھ میری کلاس میں آئی۔ اور پرنسپل کی موجودگی میں مجھے اور بچوں کو ڈانٹا۔ بچے سہم گئے۔ پرنسپل نے مجھے وارننگ دیتے ہوئے کہا مس اپنا ڈسپلن ٹھیک رکھو۔
انہی دنوں میری شادی طے ہو گئی۔ طارق میرا کزن تھا۔ ماموں کا بیٹا۔ ہم ایک ہی سکول اور یونیورسٹی میں پڑھے تھے۔ میں نے کمیوٹر سائنس میں ماسٹر کیا تھا۔ وہ کیمیکل انجینیر تھا۔ اس کو سکالرشپ مل گیا تھا۔ اس نے ایم فل کرلیا تھا۔ اسے اب اسلام آباد بیس جاب مل گئی تھی۔ شادی کے دن قریب تھے۔ میں نے چھٹی کی درخواست دی۔ میں شادی کی تیاری اور ہنی مون کے لئی ایک ماہ کی چھٹی لینا چاہ رہی تھی۔ مس انجم دشمنی نے میرے ارمانوں پر اوس ڈال دی۔ صرف دس دن ملے۔
ہم نے چونکہ بیرون ملک ہنی مون کرنا تھا۔ شادی سے ایک دن پہلے تک سکول آتی رہی۔ شام کو گھر میں خوب رونق لگا کرتی۔ میری فرینڈز اور کلاس کے سارے بچے شام کو میرے گھر آجاتے۔ لڑکیاں ڈھولکی بجاتیں۔ لڑکے لڈی ڈالتے۔ ڈانس کرتے۔ اس شہر میں میری سکول کی کچھ دوستوں کے علاوہ میری کلاس کے بچے ہی میرے رشتے دار تھے۔ میری شادی میں بھی ان بچوں اور ان کے والدین نے بھرپور شرکت کی تھی۔
ہنی مون تتلیاں پکڑتے، جھرنے اور آبشاروں کا ترنم سننے اور سمندر کی لہروں کے زیروبم کی نذر ہوا۔ وہ سارے خواب جو شادی سے پہلے دیکھے تھے پورے ہوتے نظر آئے۔ زندگی روشنیوں میں نہا گئی۔ ہر طرف پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھی۔ چاند راتیں تھیں اور رات دیر گئے ساحل کی رونق برقرار رہتی۔ کاش وقت ٹھہر جاتا۔ چھٹیاں پلک جھپکتے گزر گئیں۔ واپسی کا دن آگیا۔ ہماری فلائیٹ ایک دن لیٹ ہو گئی۔ واپسی پر کچھ اداسی اور کچھ طبیعت کی خرابی سے میں دو دن سکول نہ جاسکی۔
تیسرے دن سکول پہنچی تو ایک شوکاز نوٹس میرا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے نوکری سے جان بوجھ کر غیر حاضر رہنے پر شو کاز دیا گیا تھا۔ میں نے پرنسپل کو بتانے کی کوشش کی مگر مس انجم نے انہیں میرے خلاف بری طرح بھڑکایا ہوا تھا۔ میں نے طرق سے مشورہ کیا اور نوکری سے استعفٰی دینے کا فیصلہ کرلیا۔ نہ جانے کیوں پرنسپل نے فوری طور پر میرا استعفٰی منظور کر لیا۔ میں دلبرداشتہ اپنی کلاس میں گئی۔ میں نے بچوں کو بتایا کہ میں اب ان سے نہیں مل سکوں گی۔ کہ میں یہاں سے کسی اور شہر جارہی ہوں۔ میری بات سن کر بچوں نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔
وہ رو رہے تھے اور کچھ بچے دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ شور و غل سن کر کئی ٹیچرز بشمول مس انجم کلاس میں آگئیں۔ میں باہر اپنی گاڑی کی طرف چل پڑی۔ مس انجم کے منع کرنے کے باوجو بچے روتے ہوئے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے میرے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ ان کے پیچھے پیھے باقی کلاسوں کے بچے بھی نکل آیے۔ پرنسپل دور کھڑا یہ تماشا دیکھتا رہا۔

