مار نہیں پیار ۔ سدرہ کی کہانی
مجھے جواب طلبی کا تحریری نوٹس موصول ہوا تو میں برداشت نہ کر سکی۔ اس سے پہلے دوبار زبانی کلامی مجھے وارننگ دی جا چکی تھی۔ مجھے یہ کہا گیا تھا کہ میرا ڈسپلن نہیں۔ کلاس پر میرا کنٹرول نہیں۔ میری کلاس کے بچے اودھم مچاتے ہیں۔ شور کرتے ہیں۔ کلاس روم سے نکل کر ونگ میں بھاگے پھرتے ہیں۔ میں ان بچوں کو تمیز نہیں سکھا سکی۔ ان کو قواعد و ضوابط کی پابند نہیں بناسکی۔ یہی حال رہا تو آپ کی سالانہ ترقی روک لی جائے گی۔
میں نے پرنسپل کو بتایا کہ دو سال پہلے میں اس کلاس کی انچارج بنی تھی۔ دو سال پہلے اس کلاس کے نوے فیصد بچے ڈی اور ای گریڈ لیتے تھے، اسی کلاس کے اب نوے فیصد بچے اے اور بی گریڈ میں آگئے ہیں۔ اسی کلاس نے امسال سکول بزم ادب میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس کلاس کے دو بچے سکول کرکٹ ٹیم میں شامل کر لئے گئے ہیں اور ایک بچے نے اپنے گریڈ کے تمام سیکشنز میں ٹاپ کیا ہے پھر بھی آپ نے میری جواب طلبی کی ہے۔ پرنسپل ابھی نیا آیا تھا۔ ریٹائرڈ فوجی تھا۔ کیڈٹ سکول میں پڑھاتا رہا تھا۔ اس نے میرے جواب کی ریکارڈ سے تصدیق کی اور مجھے وارننگ جاری کردی۔
مجھے چونکہ پہلی بار وارننگ ایشو ہوئی تھی اس لئے میں پریشان تھی۔ میں نے اپنے بابا سے بات کی جو ایک بڑے افسر تھے۔ میری بات سن کر مسکرانے لگے۔ مجھے افسوس ہوا کہ میرے اپنے بابا بھی اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ اس سے پہلے میں نے یہ بات اپنی ایک سینیر دوست سے کی تھی تو اس نے بڑی لا پرواہی سے جواب دیا تھا کہ وارننگز ملتی رہتی ہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اب بابا نے بھی وہی رویہ اپنایا تو دل کو ٹھیس سی لگی۔
بابا کچھ دیر میری پریشانی کو انجوائے کرنے کے بعد بولے! بیٹا آپ کی عمر ایک سال کی تھی جب آپ کو پہلی بار بخار چڑھا تھا۔ میں سفر سے واپس آیا تھا۔ آپ کو روتے دیکھ کر گود میں اٹھا لیا۔ آپ کو بخار چڑھا ہوا تھا۔ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ خاموش نہیں ہو رہی تھیں۔ اس وقت کوئی ڈاکٹر نہیں مل رہا تھا۔ میں صبح تک آپ کو گود میں اٹھائے ادھر سے ادھر ٹہلتا رہا۔ میں اور تمہاری ماں دونوں ساری رات جاگتے رہے۔ فجر کی اذان کے وقت میری ہمت جواب دے گئی تو میں تمہیں اپنے دوست ڈاکٹر نعیم کے گھر لے کر پہنچا۔
اس نے مجھے مایوس نہیں کیا۔ آپ کو چیک کیا اور مسکرانے لگا۔ مجھے غصہ آرہا تھا وہ مسکرا رہا تھا۔ نسخہ لکھنے سے پہلے مجھے کہنے لگا یہ آپ کی پہلی بیٹی ہے ناں اور یہ پہلی بار بیمار ہوئی ہے ناں؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو اس نے کہا بہت معمولی بیماری ہے ذرا گلہ خراب ہوا ہے۔ ایک دو دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔ میں آپ کو ناشتہ کراتا ہوں۔ آپ کی پہلی بار جواب طلبی ہوئی ہے اطمینان رکھو کچھ نہیں ہوگا۔ میں پرنسپل سے بات کروں گا۔ ویسے یہ ضابطے کی کارروائی ہے۔ نارمل سی بات ہے۔
دو سال پہلے مجھے اس کلاس کا انچارج بنایا گیا تھا۔ اس سے پہلے یہ کلاس میری دوست آمنہ کے پاس تھی۔ کہنے لگی شکر ہے میری اس کلاس سے جان چھوٹی۔ بہت ہی بد تمیز اور خود سر بچے ہیں اس کلاس کے۔ کہنا مانتے ہی نہیں۔ ہوم ورک نہیں کرتے۔ کسی کو ڈانٹ دو تو اگلے ہی دن والدین جھگڑا کرنے آجاتے ہیں۔ میری جان کھائی ہوئی تھی ان بچوں نے۔
مجھے بگڑے ہوئے بچے سنبھالنے کا کوئی خاص تجربہ تو نہں تھا پھر بھی میں نے اپنے طور کوشش شروع کردی۔ میں نے تمام بچوں کی جائزہ رپورٹ نکالی اور ان کا بغور جائزہ لینا شروع کیا۔ روزانہ دو بچوں کی رپورٹ ان بچوں کو کلاس سے علیحدہ بٹھا کر ڈسکس کرنے لگی۔ ایک ماہ میں مجھے ہر بچے کے کمزور پہلو کا پتہ چل گیا۔ کمزور مضمون کی ٹیچرز کے ساتھ میں نے میٹنگز لینی شروع کی۔ زیادہ بچے میتھ میں کمزور تھے۔ پتہ چلا مس نگہت بچوں کی پٹائی کرتی تھی۔
وہ ہر بچے کے ساتھ سختی سے پیش آتی۔ کچھ بچوں نے مار کھانا اپنا معمول بنا لیا۔ کچھ بچے انگلش میں کمزور تھے۔ وجہ مس نادیہ بچوں کی کاپیاں لفظ بہ لفظ چیک نہیں کرتی تھیں۔ میں نے دونوں ٹیچرز کو ان کی کمزوریاں بتائیں تو وہ میری مخالف ہو گئیں۔ وہ دونوں ونگ انچارج مس انجم کی چہیتی تھیں۔ سکول میں ٹیچرز کے دو گروپ بنے ہوئے تھے۔ میری مس انجم کے ساتھ بنتی نہیں تھی۔ دراصل وہ روز مجھ سے لفٹ مانگا کرتی تھی۔ میرے بابا نے مجھے گاڑی اس لئے تو نہیں لے کر دی تھی کہ میں روزانہ ڈرائیور بن کر مس انجم کو گھر سے پک اینڈ ڈراپ کیا کروں۔ میں آہستہ آہستہ مس رضیہ کے گروپ میں شامل ہوتی گئی۔ یہ گروپ ذرا کمزور تھا لیکن اس گروپ میں شال تمام ٹیچرز کھاتے پیتے گھروں سے تھیں اور ٹی سی کی مخالف اپنے کام سے کام رکھنے والی تھیں۔
میں اپنی کلاس کے بچوں کی ماں بن گئی۔ ان کے ساتھ دوستی کر لی۔ فارغ وقت نکال کر ان کو گراونڈ لے جاتی اور کرکٹ کھیلتی آہستہ آہستہ شیراز اور ارسلان اتنا اچھا کھیلنے لگے کہ سکول کی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن گئے۔ ہم ہر ہفتے اپنی کلاس میں بزم ادب کرنے لگے تو امسال میری کلاس سکول بزم ادب کمپیٹیشن میں فرسٹ آئی۔ جس بچے کی میتھ اور انگلش میں کلاس پرفارمنس اچھی ہوتی اسے تفریح میں سموسے کھلاتی۔ اب بچے بڑھ چڑھ کر اپنی کار کردگی دکھانے لگے تھے۔
وہ بچے اب مجھے ٹیچرز کی شکائتیں لگاتے۔ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی کی تفصیل مزے لے لے کر سناتے۔ حتٰی کہ اپنے والدین کی لڑائی جھگڑے کی داستانیں مزے لے لے کر سناتے۔ میں تقریباً ہر بچے کے خاندان کو پوری طرح جان چکی تھی۔ ہمارے سکول میں سہ ماہی پی ٹی ایم ہوا کرتی۔ بعض والدیں میرے لئے ہر میٹنگ میں کچھ نہ کچھ تحفے تحائف لے کر آتے۔ چار بچے ایسے تھے جن کے والدین پورے سال میں ایک بار بھی نہیں آئے۔
نعمان کے والد معروف ڈاکٹر تھے۔ وہ فون پر ہی میٹنگ کر لیتے۔ نعمان تعلیم میں اچھا تھا لیکن بہت ہی شرمیلا بچہ تھا۔ میں نے سالان فنکشن کے موقع پر اسے تھانیدار کا کردار ادا کرنے کے لئے چن لیا۔ اس کی آواز میں گونج تھی اور وہ اپنی کلاس کے لڑکوں قد کاٹھ کے حساب سے بڑا تھا لیکن بہت شرمیلا۔ ریہرسل کے دوران سٹاف روم میں جب اس کو پتلون پہنانے لگے تو اس نے تمام سٹاف کو باہر جانے کا کہا۔ وہ نہیں مانا۔ کہنے لگا لڑکیوں کے سامنے کوئی کپڑے تبدیل کرتے ہیں۔
ساری ٹیچرز نے مل کر قہقہ لگایا تو اس کا منہ سرخ ہو گیا۔ ساجدہ کی والدین ٹیچر تھے اور اس کی والدہ کی جاب کسی اور شہر میں تھی۔ شاید شادی سے پہلے کی ہو۔ ساجدہ بہت ذہین اور سگھڑ بچی تھی۔ کبھی کبھی دیر سے آتی۔ اس کا باپ کالج میں لیکچرر تھا اور وہ خود اس کو ناشتہ اور لنچ بنا کے دیا کرتا جو دیر کا سبب بن جاتا۔ اس کے والدین نے چھٹی والے دن مجھ سے ملاقات کا وقت مانگا تو میں انکار نہ کر سکی۔ وہ میرے گھر کیک لے کر حا ضر ہوئے۔ ان کی اپنائیت اور محبت کی مثال دینا مشکل ہے۔
ارسلان کا باپ کسی فرم میں سیلز مین تھا۔ مجھے ارسلان پر خاص توجہ دینی پڑی۔ وہ کلاس میں کافی پیچھے تھا لیکن وقت کے ساتھ بہتر ہوتا چلا گیا۔ نازش کی مجھے بالکل سمجھ نہیں آئی۔ وہ خاموش لڑکی بالکل بات نہیں کرتی تھی۔ اس کے کپڑے اکثر میلے اور ناخن بڑھے ہوتے۔ میتھ کی ٹیچر سے مار کھانے والوں میں وہ بھی شامل تھی۔ کبھی اس کے پاس لنچ ہوتا کبھی نہیں۔ میں اس کو اپنے ساتھ لنچ کرانے لگی۔
اس کے ناخن تراشنے سے لے کر اس کے بالوں میں کنگھی اور جوئیں نکالا کرتی۔ آخر کار مجھے اس نے بتا دیا۔ اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ باپ نے دوسری شادی کرلی۔ اس کی دوسری ماں سے اولاد نہیں ہوئی تو اس نے تیسری شادی کرلی۔ اس کا باپ کسی اور شہر میں اس کی تیسری ماں کے ساتھ رہتا اور ہفتے میں ایک دوبار ان کے گھر آتا۔ وہ اگرچہ اپنی بیٹی کو خرچے کے پیسے دیتا۔ اس کی تعلیم کی فکر میں رہتا لیکن اس کی دوسری ماں کا برتاؤ اس کے ساتھ درست نہ تھا۔ پہلے وہ ہر ٹیسٹ میں فیل ہوا کرتی اب وہ بہتری کی طرف گامزن تھی۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


