عمران خان میرا سُپر ہیرو


انسان کی فطرت بھی عجیب ہے اُسے خود سے بہتر لوگ متاثر کرتے ہیں مگر ”دور“ سے اور اگر قریب ہوں تو محترم حسد کرنے لگتے ہیں۔ خیر گزرے جملے کا دوسرا حصہ ایک علیحدہ معاشرتی رویہ ہے اور کسی علیحدہ مضمون میں اسے موضوع بنائیں گے۔ فی الحال ہم خود سے بہتر لوگوں پہ ”دور“ سے غور کرتے ہیں۔ مثلاً میں موٹر سائیکل پہ ویلی نہیں مارسکتا وجہ صرف یہ ہے کہ مجھے احمقانہ کام کرنا پسند نہیں، لیکن اگر کوئی ویلی مارتا ہوا پاس سے گزرے تو میری نگاہیں اُس کا تعاقب کرتی ہیں، گرنے تک یا کم ازکم آنکھوں سے اوجھل ہونے تک۔

اور اگر کبھی موت کے کنویں کا منظر دیکھ لوں تو آنکھیں اور منہ دونوں کھلے رہ جاتے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ دل اندر ہی اندر کہتاہے ”ابے یار کمال کردیا“۔ شائقین کے دلوں کی یہی آواز زبان تک لانے کے لئے فلم والوں نے ٹارزن کا مضبوط جسم والا خوبرو کردار متعارف کروایا۔ سب کو پسند بھی آیا بِنا یہ سوچے کہ ٹارزن بھائی صاحب کی جنگل میں روز اتنی صفائی سے شیو کون بنا کے جاتا ہے؟ سُپر مین، بیٹ مین، اسپائیڈر مین، ایک دو ”وومین“ بھی، ہلک، ایونجرز، مسٹر انڈیا، کِرش اور مولا جٹ وغیرہ وغیرہ۔

مولاجٹ کا نام اس لئے شامل کیا ہے کہ ہمیں اسے سُپر ہیر و ماننا ہوگا کیونکہ وہ بھائی صاحب اکیلے چالیس سے پچاس غنڈوں کی چٹنی بنا نے کا ہنر جانتے ہیں جبکہ میٹرکس والے نے تو تعداد سات سو تک کردی تھی۔ خیر قصہ مختصر ہمیں سُپر ہیروز متاثر کرتے ہیں۔ یا شاید ہم قحط الرجالی کا شکار ہیں کبھی اسامہ میاں کے امریکی عمارتیں گرانے سے متاثر ہوکر ہم اپنے بچوں اور دکانوں کے نام ان کے نام پہ رکھنے لگتے ہیں جیسے اسامہ کلاتھ ہاوس، اسامہ ہارڈ ویئر وغیرہ وغیرہ۔

کبھی احمدی نژاد کی سرِ راہ نماز کی ادائیگی ہمیں خیرہ کرتی ہے تو کبھی طیب اردگان کی کوئی سوشل سرگرمی ہمارا لہو گرماتی ہے۔ غرضیکہ ہم بہت جلد متاثر ہوتے رہتے ہیں جبکہ مہمند ڈیم کے گردونواح میں کوئی جھونپڑی ابھی تک دریافت نہ ہوسکی۔ ایسے ہی الیکشن 2018 میں قوم نے عمران خان کو سپر ہیرو بنانے کا فیصلہ کیا، لیکن یہ سُپر ہیرو ابھی تک وہ شعبدہ بازیاں نہیں دکھا سکاجس کی قوم توقع فرمارہی تھی۔ سُپر ہیرو عمران خان کے پاس دو راستوں کے لئے دو محاورے تھے پہلا ”ہتھیلی پہ سرسوں جمانا“ جبکہ دوسرا ”سہج پکے سو میٹھا“۔

جب پی ٹی آئی کی حکومت بنی تب سرسوں کا موسم تو تھا لیکن وزیرِاعظم نے ”کچھ میٹھا ہوجائے“ کی کاپی کو کاپی کیا۔ اس بات کو کم پڑھی لکھی عوام نے تو سمجھ لیا کہ ”کچھ وقت لگے گا یا ابھی تو آیا ہے“ لیکن نہ سمجھ سکے تو پڑھے لکھے دانشور۔ حکومت بنتے ہیں ایک صحافی صاحب نے مائیک پکڑا اور میرے کپتان کی صدا بلند کرتے تبدیلی ڈھونڈنے نکل پڑے، ایک رات میں تبدیلی آئی ہوتی تو انہیں ملتی۔ شاید ان کا خیال تھا کہ قوم کے سُپر ہیرو عمران خان نے کافی رقم جوڑ رکھی ہے اور حکومت میں آتے ہی منہ دکھائی میں کم ازکم ملکی قرضے تو اُتار ہی دیں گے، لیکن شاید وہ بھول گئے کہ عمران خان نے جو کچھ بھی جوڑا ہوگا وہ سب تو اپنی تین بار کی عروسی مہمات میں لُٹا چکے ہوں گے۔

نتیجتاً سُپر ہیرو کی سوشل میڈیا ٹیم نے صحافت کے اس پیلے پن کو دور کرنے کے لئے محترم صحافی صاحب کی خوب دھلائی کی۔ تیس سال میں تیسیوں دفعہ لوٹے گئے تیسری دنیا کے ملک پاکستان کے مسائل کی گنتی کم ازکم ارشمیدس کے ریاضی اور ہندسوں کے بس کی بات تو ہے نہیں چنانچہ سُپر ہیرو کہاں کہاں ہاتھ ڈالے؟ یوں باقی ماندہ دانشوروں کے لئے عمران خان جیسے تن آور درخت کی جڑوں میں بیٹھ کر فاضل پانی ڈالنا آسان کام ہے۔ سو کوئی مائیک لئے پشاور میٹرو بس میں سوار ہوگیا تو کوئی کراچی میں گرتی ناجائز تجاوزات کو کاندھا دینے پہنچ گیا، مقصد صرف یہ تھا کہ عوام کے منہ سے وہ سُنا جائے جو سُپر ہیرو کی ٹانگیں توڑ کررکھ دے کیونکہ ٹارزن سے لے کر مولاجٹ تک سبھی کی دو ٹانگیں ہونا لازم ہیں، وجہ صرف یہ ہے کہ لنگڑا سُپر ہیرو زیادہ لمبی چھلانگ نہیں لگا سکتا۔

عوام اپنے مسائل سے دوچار تھی مجبوراً وہ بیان نہ دے سکی جو صحافیوں کودرکار تھے آخرکار تھکے ہارے صبح کے بھولے دانشور شام کو اسٹوڈیوز میں آبیٹھے۔ اب وہاں ہلکی پھلکی موسیقی سے اپنا اور ناظرین کا دل بہلاتے ہیں ساتھ میں ایک آدھ تان اپوزیشن کے قدرے سُریلے کی بھی شامل کرلیتے ہیں۔ الیکٹرونک اورپرنٹ میڈیا اب پہلے جیسے پابند نہیں جبکہ سوشل میڈیا مادر پدر آزاد ہے، اس صورتحال میں انڈورائیڈ موبائل فون والی دل جلی عوام سُپر ہیرو اور اُسکی کابینہ کی حرکات و سکنات پہ وقفہ وقفہ سے ”جگت پانی“ کرتی رہتی ہے اور یقینا حق بھی رکھتی ہے۔

لیکن عوام میں ایک تبدیلی ضرور آئی ہے کہ کئی کئی باریاں لینے والی اپوزیشن پارٹیوں اور ان کے مذہبی پیشواوں کے لگائے کسی نعرے کو ”کاپی پیسٹ“ تک نہیں کررہی۔ شاید عوام سُپر ہیرو سے ابھی ”بور“ نہیں ہوئے یا پھر یہ ”شٹ اپ کال“ ہے کہ تمھیں بھی دیکھاہوا ہے۔ میں خود ایک مڈل کلاس ہونے کے ناطے سُپر ہیرو کی چند حرکتوں کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوں مگر اس کا ذمہ دار بھی میں اپوزیشن والوں اور لنڈے کے دانشوروں کو سمجھتا ہوں۔

ایک بار نگران وزیرِ اعظم معین قریشی کا ان کے دور میں انٹرویو سُننے کا اتفاق ہوا۔ سوال پوچھا گیا کہ محترم نگران وزیرِ اعظم صاحب پاکستان جیسے ملک کو ترقی کرنے کے لئے کتنا عرصہ درکار ہے؟ انہوں نے جواب دیا ترقی کی جانب ”یو ٹرن“ لینے کے لئے پندرہ سال لگیں گے۔ سُپر ہیرو عمران خان نے بھی شاید یہ انٹر ویو سُنا ہو چنانچہ وہ آگے سے ”یو ٹرن“ لینا چاہتے تھے مگر کہاں؟ تھڑے باز دانشوروں اور ناکام حکومتیں کرنے والوں کو ابھی کے ابھی فوراً ایک کروڑ نوکریا ں اور پچاس لاکھ گھر چاہیے وغیرہ وغیرہ۔ بس پھر کیا عمران خان نے ارادہ اور گیئر دونوں بدلے اور گاڑی ریورس کرتے ہوئے پچھلے ”یو ٹرن“ کو ہو لئے۔ اب کوئی کتنا بھی ماہر، سچا اور پُر عزم سپُر ہیرو ڈرائیور ہو۔ بھائی ریسورس کرتے ہوئے تھوڑے بہت جھٹکے تو لگیں گے۔

Facebook Comments HS