شاہد خاقان، خواجہ آصف، احسن اقبال، خرم دستگیر، پرویز رشید اور حاصل بزنجو سمیت نواز کابینہ کے 43 ارکان کو اسی مہینے گرفتار کر لیا جائے گا
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کابینہ کے ممبران کیخلاف کرپشن تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں جس کے نتیجہ میں ایک ماہ کے اندر اندر کابینہ کے تمام ممبران کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ خبر کے مطابق نواز شریف کابینہ کے ارکان پانچ سالوں میں کھربوں روپے کی کرپشن ، مالی بدعنوانیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔
نجی خبر رساں ادارے (آن لائن) نے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کابینہ کے ممبران کی مبینہ کرپشن کے خلاف تحقیقات ریاست کے اہم اداروں نیب اور ایف آئی اے نے شروع کر رکھی تھیں۔ یہ تحقیقات تحریک انصاف کی حکومت سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھیں۔ نواز شریف کابینہ کے بعض ممبران کی کرپشن کی نشاندہی آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے بھی اپنی رپورٹ میں کی تھی۔
نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف پہلے ہی کرپشن اور بد عنوانی کے الزامات پر جیل میں بند ہیں جبکہ اب دوسرے مرحلے میں نواز شریف کابینہ کے ممبران کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔ نواز شریف کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پہلے ہی ملک سے فرار ہو کر لندن میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ اسحاق ڈار پر احتساب عدالت میں کرپشن کا مقدمہ زیر سماعت ہے جس کا بہت جلد فیصلہ سنایا جائے گا۔
نواز شریف کابینہ کے اہم ممبر اور سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف پر نندی پور منصوبہ میں مبینہ کرپشن اور اقامہ رکھنے کا الزام ہے، انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ نواز شریف کابینہ کے اہم رکن اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال پر اربوں کی کرپشن کا الزام ہے،ان پر ملتان سکھر موٹروے کے علاوہ نارووال میں سٹیڈیم کے نام پر 6 ارب کی مالی کرپشن کا الزام ہے، احسن اقبال بھی بہت جلد گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔
نواز شریف دور کے وزیر مواصلات اور موجودہ سینیٹر حافظ عبدالکریم پر اربوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ ان پر ڈی جی خان میں واقع ذاتی یونیورسٹی میں طلباء سے بھاری فیسیں وصول کرنے کا بھی الزام ہے۔ نواز کابینہ میں وزیر تجارت کے عہدے پر فائز رہنے والے خرم دستگیر پر بھی ناجائز اثاثے بنانے اور شوگر ملوں کو 5ارب دینے کا الزام ہے جبکہ ان پر ملکی خزانے کو لوٹنے کا بھی الزام ہے۔
نواز شریف کابینہ کے ایک اور اہم رکن اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید او ر سابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب پر 15ارب روپے کے سرکاری اشتہارات میں مالی بدعنوانی کا الزام ہے، ان کے خلاف تحقیقات مکمل ہیں جبکہ پی ٹی وی 27 کروڑ روپے کے سکینڈل میں پرویز رشید گرفتار کر لیے جائیں گے۔ نواز کابینہ کے ممبر کامران مائیکل پہلے ہی 2ارب روپے کے سکینڈل میں گرفتار ہوچکے ہیں۔
حاصل بزنجو کے خلاف بھی بھاری کرپشن اور پنجاب کے پانچ شہروں میں بھاری جائیدادیں بنانے کا الزام ہے جن پر تحقیقات مکمل کرلی گئی ہیں۔ نواز کابینہ کے ایک اور ممبر اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما ،سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرام خان درانی پر وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس میں بھاری بد عنوانی کے الزامات ہیں جس کے تحت وہ بھی جلد گرفتار کر لئے جائیں گے۔
نجی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کابینہ کے وزیر مذہبی امور سردار یوسف پر حج کوٹہ میں مالی بدعنوانی کا الزام ہے جس کے تحت وہ بھی جلد ہی گرفتار کر لیے جائیں گے۔ نواز شریف کے بھانجے اور سابق وزیر مملکت عابد شیر علی پر توانائی میں مبینہ کرپشن کا الزام ہے جبکہ سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پہلے ہی کرپشن پر جیل میں موجود ہیں۔
سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بطور وزیر پٹرولیم اور سابق سیکرٹری پٹرولیم ارشد خان اس ماہ ایل این جی کرپشن سکینڈل میں گرفتار کرلیے جائیں گے۔ نجی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے مشیر امیر مقام نے کرپشن کے ذریعے 16 جائیدادیں بنائی تھیں جن کے ثبوت نیب کے پاس موجود ہیں، انہیں بھی جلد ہی گرفتار کیا جائے گا۔ سابق وزیر خوراک سکندر بوسن کے دور میں زیتون آگاؤ 13 ارب کرپشن سکینڈل کی تحقیقات بھی آخری مرحلہ میں ہیں۔


