افسر حسین کا صبر
افسر حسین ٹیلی فون ایکسچینج میں بطور سینئر آپریٹر کام کرتا تھا۔ سارا دن وہ لوگوں کی شکایات سنتا اور انھیں ڈائری میں نوٹ کرکے متعلقہ افراد تک پہنچاتا رہتا۔ اپنے باقی ساتھیوں کے برعکس وہ جھنجھلاہٹ بھری ٹیلی فون کالز آسانی سے سن لیا کرتاتھا۔ کبھی کبھار اسے بہت سخت باتیں بھی سننے کو مل جاتیں، مگر وہ اپنی آواز کی مٹھاس برقرار رکھتا۔
بچپن سے وہ ایک بہترین سامع تھا۔ اُس کا باپ جب کبھی اداس ہوتا تو اسے گھرسے باہر لے جاتا اور سارا راستہ دکھوں کی پٹاری کھولے بین بجاتا رہتا۔ پھر وہ اسے بتاتا کہ بڑا بیٹا ہونے کے ناطے یہ سب کچھ اسے جلد از جلد سمجھ لینا چاہیے۔ ماں اکثر اسے اپنی جٹھانیوں اور نندوں کے ظلم کی داستانیں سناتی اور دھاڑیں مار مار کر روتی چلی جاتی۔ دادی رات کو کہانی سنانے سے پہلے یہ بتانا نہ بھولتی کہ کس طرح سکھ بلوائیوں نے اس کے والدین کو کرپانوں اور تلواروں سے شہید کر دیا اور کس طرح وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ کماد کی فصلوں میں چھپتی چھپاتی ہوشیار پور سے لاہور پہنچی۔ و ہ کچھ بھی نہ بولتا بس درمیان میں ایک آدھ بار سر ہلا دیتا۔
پانچویں جماعت پاس کرنے تک وہ کافی سمجھ دار ہو چکا تھا۔ باقی بچوں کی طرح گلی محلے میں آوارہ پھرنے کی بجائے گھر کے چھوٹے موٹے کام نمٹا دیا کرتا اس لیے بزرگ اس کی تعریفیں کرتے نہ تھکتے۔ بھائی بھی اس پہ جان چھڑکتے تھے لہٰذا جب کبھی سکول سے پٹ کر آتے تو اس کے گلے لگ کر خوب روتے اور ماسٹروں کی برائیاں کیے جاتے۔ بہنوں کو گڑیا کی شادی کے لیے پیسے نہ ملتے تو اسی کی گود میں لیٹ کر آنسو بہاتیں۔
اسکول میں بھی اس کا شمار ایسے طلبا میں کیا جاتا تھا جو پڑھائی میں اوسط رہنے کے باوجود اساتذہ کے چہیتے ہوتے ہیں اس لیے وہ ہمیشہ اس بات سے بخوبی واقف رہا کہ اس کا کون سا اُستاد شوگر کا مریض ہے اور کس کی بیوی جوڑوں کے درد سے نڈھال رہتی ہے۔ ایف اے کے فوراً بعد اس نے پڑھائی چھوڑ کر نوکری کا فیصلہ کیا۔ ان دنوں وہ کئی ایسے بے روزگار نوجوانوں سے متعارف ہوا جو نظام بدلنے کی بات کرتے تھے۔ وہ نہایت انہماک سے ان کی گفتگو سنا کرتا۔
ڈیڑھ دو سال ادھر ادھر جوتیاں چٹخانے کے بعد بالآخر اسے نوکری مل ہی گئی۔ ٹیلی فون ایکسچینج میں بھی اس کی بردبار فطرت نے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ لائن مین اکثر اسے اپنی قلیل آمدن اور کشیدہ گھریلو حالات کے بارے میں بتاتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تو وہ ان کی طرف ٹشو پیپر کھسکاتا اور یوں ہاتھ باندھ کر بیٹھ جاتا جیسے وہ یہ سب کچھ جان کر بہت دکھی ہوا ہو۔ ٹیکنی شن اور سپروائزر بھی اسے اپنے خانگی معاملات کی الجھنوں میں شریک کرتے اور ( یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کنوارہ ہے ) مفید مشوروں کی توقع رکھتے۔
نو کری لگنے کے دو سال بعداس کی شادی ہو گئی۔ اس کی بیوی ایک قبول صورت عورت تھی جس کا رنگ تھورا سنولایا ہوا تھا۔ سہاگ رات کے باقاعدہ آغاز سے ذرا پہلے اس نے افسر حسین کو بتایا کہ وہ صرف دو برس کی تھی جب اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔ پھر وہ رو پڑی۔ افسر حسین نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور پوری رات اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ کر بیٹھا رہا۔
ہر روز، جب وہ آفس سے گھر لوٹتا تو اس کی بیوی بہت پیار سے اس کا سردباتی اور اپنے بچپن کی محرومیوں اور قریبی رشتے داروں کی سرد مہری کے قصے سناتی۔ صبح جب وہ سودا سلف لینے کے لیے بازار جاتا تو آس پاس سے گزرتے لوگوں کی باتیں سنتا جو عام طور پر لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے بارے میں ہوتیں۔ دفتر کا راستہ ٹریفک کا شور سنتے گزر جاتا۔ ویسے تو ایکسچینج زیادہ دُور نہیں تھی اور وہ ڈیوٹی سے ٹھیک پندرہ بیس منٹ پہلے گھر سے نکل پڑتاتھا مگر جس روز کوئی بڑا وزیر یا سرکاری عہدے دار شہر کے دورے پر ہوتاتو گھنٹوں لگ جاتے۔ لوگ سیاست دانوں کو کوستے، اپنے افسروں کی بددماغی پہ کڑھتے، وراثتی نظام کو گالیاں دیتے، اور سگنل کھلنے کا انتظار کرتے :وہ سنتا ہی رہتا۔ بعض اوقات انتظار اتنا طویل ہوجاتا کہ ہجوم میں اشتعال کی لہر دوڑنے لگتی۔ مجبوراً پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑتا۔ پھر وہ سڑک پر گرے ہوئے لوگوں کی کراہیں سنتا۔
جب وہ آفس پہنچتا تو صارفین کی شکایتیں سنتا۔ واپسی کار استہ موبائل ایف۔ ایم پر گانے سنتے گزر جاتا۔ گھر پہنچتے ہی وہ ٹی وی آن کرتا، حالات حاضرہ کے پروگرام دیکھتا، رات نو بجے والی خبریں سنتا اور سو جاتا۔
ہفتے میں ایک آدھ بار وہ اپنی بیوی کو گھمانے کے لیے کسی پارک میں لے جاتا تو اسے کئی واہیات جملے سننے کو ملتے۔ وہ نظریں جھکائے چلتا رہتا۔ کبھی پلٹ کے جواب نہ دیتا۔
کئی بار وہ بم دھماکوں کی آوازیں سن کر بیدار ہوا۔ اس روز وہ ایکسچینج سے چھٹی کر لیتا اور اگلی صبح افسران بالا کی ڈانٹ سنتا۔
کسی روز وہ زیادہ کھالیتا تو واک کے لیے نکل جاتا۔ اس دوران وہ کسی کھلنڈرے لڑکے کو قہقہاتے سن لیتا تو چونک جاتا۔
شادی کے تقریباً آٹھ سال بعد بھی افسر حسین اولاد سے محروم تھا اور یہ احساس اندر ہی اندر اسے کچوکے لگاتا رہتا۔ یہی وجہ تھی کہ جس روز اسے معلوم ہوا، وہ باپ بننے والا ہے تو اس کا جی چاہا وہ اتنے زور سے چلائے کہ اس کا گلا پھٹ جائے (مگراس نے صرف مسکرانے پہ ہی اکتفا کیا) ۔
گائناکالوجسٹ نے تفصیلی معائنے کے بعد سیزیرین کا فیصلہ کیا اور اس کی بیوی آپریشن تھیٹر میں منتقل کر دی گئی۔
آپریشن غیر متوقع طورپر کافی طویل ہوگیا تھا۔
جوں جوں وقت گزرتا گیا افسر حسین کی حالت غیر ہوتی گئی۔
”بی نیگیٹوخون کی دو بوتلوں کا ارینج منٹ چاہیے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فوراً۔ “ اس نے ایک نرس کی کرخت آواز سُنی اور بلڈ بینک کی طرف دوڑ پڑا۔ کاؤنٹر پر ایک لمبی سی قطار اس کا منہ چڑا رہی تھی۔ وہ سرجھکائے اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔
اسی اثناء میں ایک ہٹا کٹا آدمی اسے دھکیلتا ہوا آگے نکل گیا۔ یہ کوئی شریفانہ حرکت نہ تھی۔ اسے غصہ تو بہت آیا مگر وہ ضبط کر گیا۔
جیسے ہی اس کی باری آئی، اس نے ہاتھوں میں پکڑے پیسے کاؤنٹر پر پٹخے اورتیزی سے بولا، ”دو بوتل بی نیگیٹو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پلیز، ذرا جلدی۔ “
”سوری سر! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ بی نیگیٹو کی آخری پِنٹ تھی۔ “ افسر حسین نے انتہائی بے چارگی سے کاؤنٹر بوائے کو دیکھا۔ پھر وہ حسرت بھری نگاہوں سے اس ہٹے کٹے آدمی کو دیکھے گیا جو اسے دھکیل کر قطارمیں داخل ہوا تھا اور اب بی نیگیٹو خون کی آخری بوتل لیے، پرچی کٹوا رہا تھا۔
” تو، اب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب میں کیا کروں؟ “ وہ ایک طرف ڈھے سا گیا۔
” ہسپتال کی دوسری جانب ایک پرائیویٹ بلڈبینک ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دوڑتے ہوئے جائیں۔ “ ایک مہربان آواز نے اس کی ہمت بندھائی۔
وہ تیزی سے باہر لپکتا، ہسپتال کا گیٹ پار کرتا، روڈ پہ آنکلا جہاں ایک تیز رفتار گاڑی نے اسے کچل ڈالا اور وہ مرگیا۔


