ایک دن محبت کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات دیر تک جاگتا رہا۔ سونے سے پہلے یہ خیال ذہن میں تھا کہ بریڈ اور جام ختم ہے صبح بازار سے ناشتہ لانا ہو گا۔ پھر یوں ہوا کہ نیند گہری ہو گئی۔ آنکھ دیر سے کھلی شاید دس بجے کا وقت ہو گا۔ ممکن تھا کہ نیند کا خمار ابھی طاری رہتا لیکن پراٹھوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے یک لخت سارا خمار اتار دیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ بیوی تو ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر گئی ہے یہ کچن میں کون ہے؟ ہاں پڑوسیوں کے حقوق کا بہت سنا ہے شاید کوئی نیک دل پڑوسن ناشتہ بنانے آ گئی ہو۔ آنکھوں میں نمی سی آ گئی دنیا ابھی نیک لوگوں سے خالی نہیں ہوئی۔

اسی اثنا میں کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ ”اٹھ گئے آپ؟ اچھا جلدی سے فریش ہو جائیں، ناشتہ تیار ہے۔ “ بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”ہائیں ہنی! تم کب آئیں؟ “ میرے منہ سے یک دم نکلا۔ ”تو کیا آپ کو میرے آنے سے خوشی نہیں ہوئی؟ “ بیوی نے آنکھیں نکالیں۔ ”کیا کہہ رہی ہو، میں تو اتنا خوش ہوں کہ میری آنکھیں بھیگ رہی ہیں۔ “ میں نے فوراً کہا۔ ”آپ نے کل چاکلیٹ اور پھول بھیجے تھے کیسے نہیں آتی۔ ویسے بھی آج محبت کرنے والوں کا دن ہے اور مجھے پتہ ہے آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ “

تب یہ اندازہ ہوا کہ تبدیلی کیسے آئی۔ بہر حال ناشتہ کر کے باہر نکلا۔ ویلنٹائنز ڈے سرکاری طور پر منانے کا اعلان ہوا تھا۔ ملک میں عام تعطیل تھی۔ چناں چہ فرصت ہی فرصت تھی۔ میں نے سوچا بیوی کے لئے کوئی اچھا سا گفٹ خرید لوں۔ آج تمام گلیاں اور بازار سجے ہوئے تھے۔ عام طور پر دولہا کی گاڑی پھولوں سے سجائی جاتی ہے لیکن بہت ساری گاڑیاں سجی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ اکثر گاڑیوں کی بیک ونڈو پر سرخ پھولوں سے دل بنا ہوا تھا۔ ایک مشہور ریسٹورانٹ کے قریب سے گزرا تو دیکھا کہ اس کی سجاوٹ ہی نرالی ہے۔ دیواروں، میزوں اور کرسیوں پر بھی پھول چپکائے ہوئے ہیں۔ کئی نوجوان جوڑے اندر جا رہے ہیں۔

دروازے پر دو باوردی دربان ہر جوڑے کو گلاب کے پھول پیش کرتا ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ انہیں آج کے دن کے حوالے سے فری کافی سرو کی جاتی ہے۔ میں یہی دیکھتے دیکھتے دربان کے قریب پہنچا تو اس نے مجھے اکیلا دیکھ کر گلاب کا پھول فوراً پیچھے کر لیا۔ ”جناب کیا آپ سنگل ہیں؟ “ اس نے مودبانہ انداز میں دریافت کیا۔ ”نہیں میاں ہماری ایسی قسمت کہاں؟ شادی شدہ ہیں۔ فی الوقت اکیلے آئے ہیں“ میں نے ایک آہ بھر کہا۔

”سوری سر پھر یہ پھول اور کافی والا پیکیج آپ کے لئے نہیں ہے یہ صرف جوڑوں کے لئے ہے۔ “ دربان نے معذرت کی۔ خیر وہاں سے آگے گیا تو عبدالقدوس صاحب مل گئے۔ سلام دعا کے بعد میں نے پوچھا محترم اتنی جلدی میں کہاں جا رہے ہیں؟ مسکراتے ہوئے گویا ہوئے۔ ”اجی کیا بتاؤں عمر پچپن ہے مگر دل کے ارمان ابھی جواں ہیں۔ اس سے پہلے کہ دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ جائیں۔ آپ کی آنٹی کو فائیو سٹار ہوٹل میں ڈنر کرانا چاہتا ہوں۔ ویلنٹائن ڈے ہے ناں، رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے دستور بھی ہے۔ “

انہیں ’گڈ لک‘ کہہ کر میں آگے بڑھ گیا۔ ایک گاڑی جیسے جھومتی ہوئی میری طرف بڑھی۔ میں نے فوراً بائیں طرف چھلانگ لگا کر خود کو بچایا۔ گاڑی رکی اس کے اندر سے ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی گھبرائے ہوئے نکلے۔ ”آپ کوچوٹ تو نہیں لگی؟ “ دونوں نے پریشانی کے عالم میں سوال کیا۔ ”جی نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں۔ “

”سوری یہ سڑک سے زیادہ مجھے دیکھ رہے تھے اس لئے ایسا ہوا۔ “ لڑکی نے شرمندگی سے کہا۔ اتنے میں ٹریفک پولیس کا اہلکار بھی آن پہنچا۔ ”کوئی بات نہیں، بس ذرا دھیان سے گاڑی چلائیں۔ “ میں نے فوراً کہا کہ کہیں ٹریفک والا ان کے پیچھے نہ پڑ جائے۔ ٹریفک وارڈن نے ایک گلاب کا پھول نوجوان جوڑے کی طرف بڑھایا۔ ”ان صاحب کی طرف سے نصیحت اور میری طرف سے پھول لے جائیے، ہیپی ویلنٹائنزڈے“ اس نے مسکرا کہا۔ لڑکا لڑکی شکریہ ادا کرتے ہوئے چلے گئے۔

میں بھی آگے بڑھا ایک شاپنگ مال میں داخل ہوا تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ دکانوں میں ایسے ایسے خوبصورت گفٹ اور آفرز تھیں کہ جی چاہتا تھا ایک دو نہیں بیسیوں گفٹ خرید لوں۔ بہر حال ایک دکاندار نے ایک خوبصورت سی انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہا۔ انگلی میں انگوٹھی، انگوٹھی میں نگینہ۔ اسی انگوٹھی میں قید کر لیجیے گا اپنی محبت کو۔ ”براہِ کرم یہ مشورہ کسی اور کو دینا، مجھے پہلے ہی کوئی انگوٹھی میں قید کر چکا ہے، کچھ اور دکھاؤ“ میں نے منہ بنا کر کر کہا۔

ایک خوبصورت سا لاکٹ خرید کر کر باہر نکلا تو دیرینہ دوست شامی صاحب مل گئے۔ انہوں نے اپنی گاڑی میں لفٹ دے دی۔ ”اگر برا نہ مانیں تو میں پہلے درزی سے اپنی شیروانی اٹھا لوں، ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے بظور خاص سلوائی ہے۔ شام کو آپ کی بھابی کے ہمراہ پارٹی میں پہنوں گا۔ “ انہوں نے کہا۔ ”اجی ضرور اٹھا لیں۔ مجھے کوئی جلدی نہیں۔ “ میں نے فوراً کہا۔

شام کو ہم میاں بیوی جب تیار ہوکر باہر نکلے تو سارا شہر جیسے سڑکوں پر تھا۔ ہم ایک پارک میں ٹہلنے کے لئے چلے گئے۔ کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے چہل قدمی کر رہے تھے۔ چند ایک مختلف گوشوں میں بیٹھے شاید عہد و پیمان باندھ رہے تھے۔ کچھ درختوں پر نام لکھتے بھی پائے گئے۔ ہم دونوں کچھ وقت گذارنے کے بعد ایک ریسٹورانٹ میں پہنچے جہاں میں نے پہلے سے بکنگ کرائی ہوئی تھی وگرنہ کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہ ملتی۔ آرکسٹرا بڑی خوبصورت دھنیں بجا رہا تھا۔ باوردی ویٹر مشروبات سرو کر رہے تھے۔

ہم اپنی مخصوص میز تک پہنچے تو ویٹر نے پھول پیش کرتے ہوئے کھانے کا آرڈر لیا اور ڈرنک کے بارے میں پوچھا۔ میری بیوی نے سوفٹ ڈرنک بتایا۔ میں نے پوچھا کیا ڈرنک میں ہر قسم کی ورائٹی ہے۔ ”یس سر! اب تو حکومت نے اجازت دے دی ہے۔ “ ویٹر نے مسکرا کر کہا۔ ”تو پھر لے آؤ۔ “ میں نے خوش ہو کر کہا۔ میری بیوی نے میرا دیا ہوا لاکٹ چھوتے ہوئے کہا۔ ”مجھے یہ بہت اچھا لگا ہے۔ “ اس محبت بھرے دن میں یہ میری محبت کا حقیر کا نذرانہ ہے۔

میں نے شاید فلمی انداز میں کہا۔ ”آپ کیا جانیں دل سے دیے گئے تحفے کی قیمت۔ میرے لئے یہ کروڑوں روپے سے بڑھ کر قیمتی ہے۔ “ میری بیوی نے بھی 1960 کی دہائی کی ہیروئن کے انداز میں کہا۔ یوں تجدیدِ محبت کرتے ہوئے کافی خوشگوار وقت گزرا۔ ڈنر کے بعد باہر نکلے تو جیسے سارا شہر رنگ و نور میں نہایا ہوا تھا۔ گھر پہنچ کر ٹی وی آن کیا اور بیوی کو پہلو میں بٹھا کر سکرین پر نظریں جما دیں۔

خبریں چل رہی تھیں۔ ہر چینل پر ایک ہی خبر تھی۔ آج ملک بھر میں ویلنٹائن ڈے جوش و خروش سے منایا گیا۔ پھول، چاکلیٹ اور تحائف کا تبادلہ کیا گیا۔ دل مسرور تھا، دنیا مسرور تھی کہ اچانک جیسے کان پھاڑ دینے والی گھنٹی کی آواز سنائی دی۔ یک دم آنکھ کھل گئی۔ پہلو میں بیوی نہیں تکیہ تھا اور میں بیڈ پر دراز تھا۔ تب اندازہ ہوا کہ ’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا‘ ۔ دروازے کی گھنٹی بج رہی تھی شاید دودھ والا تھا۔

اس کے ساتھ ہی فون کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو شامی صاحب کی آواز سنائی دی۔ ”یار یہ کیا خرافات ہے، ویلنٹائن ڈے کے نام پر بے حیائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ہمارا معاشرہ اس قسم کے بے ہودہ ڈے کی اجازت۔ “ وہ نہ جانے کیا کہہ رہے تھے لیکن میں سمجھ گیا کہ ابھی تبدیلی نہیں آئی۔ مجھے ناشتہ لانے کے لئے بازار جانا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •