عمران خان کی تبدیلی میں نیا کیا ہے؟


اندھیر نگری چوپٹ راج۔ پڑھتے جائیے اور سر پیٹتے جائیے۔ گذشتہ پندرہ برسوں میں ملک بھر میں پاکستان ریلوے کی زمین 33مختلف مقامات پر پٹرول پمپوں کے لئے گیارہ ارب اٹھائیس کروڑ اور چوہتر لاکھ روپوں کے عوض سرکاری چہیتوں کو لیز پر دی گئی۔ 33سال کیلئے لیز پر دی گئی اس اراضی کی کل قیمت میں سے ابھی تک صرف نوے کروڑ اور پچپن لاکھ روپے وصول کئے جا سکے ہیں۔ یعنی سوا گیارہ ارب سے زائد رقم میں سے ایک ارب بھی پورا نہیں۔

آگے چلئے۔ گوجرانوالہ میں ایک ایماندار اور شریف سیاستدان کے پاس 1985 سے اپنے پٹرول پمپ کی اراضی کی کوئی لیز ڈیڈ یا کسی قسم کا کوئی اورسرکاری اجازت نامہ نہیں۔ کس میں ہمت تھی جو تگڑوں کے اس پٹرول پمپ سے کوئی اجازت نامہ پوچھ سکتا۔ گوجرانوالہ کا اوور ہیڈ برج بہت سمجھدار ثابت ہوا۔ اس نے اس پٹرول پمپ سے اجازت نامہ طلب کرنے کی بجائے خود ہی اس سے ایک فاصلے پر رک جانا مناسب سمجھا۔ اپنی اسی سمجھداری کے باعث اس کی تعمیر مکمل ہو سکی۔ ایک صاحب پوچھنے لگے۔ کیا اس زمین کے 1985 سے لے کر اب تک کے سرکاری واجبات وصول کئے جائیں گے ؟ کالم نگار کا جواب تھا کہ وہ ایسے بیہودہ سوالات کا جواب دینا تو درکنار، انہیں سننے کا بھی روادار نہیں۔

عمران خان سے گذشتہ پچیس برسوں کا گند پانچ چھ ماہ میں صاف کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کے لئے ایک خبر۔ اس سے نوکر شاہی کے بگڑے تگڑے مزاج اور اثر رسوخ کا بھی پتہ چلتا ہے۔ پنجاب میں تعینات 800 کرپٹ اور بدعنوان اعلیٰ افسروں کی ایک فہرست وزیر اعظم کی جانب سے حکومت پنجاب کو بھجوائی گئی۔ یہ فہرست اس حکم کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی تھی کہ وہ اس پر غو رو خوض کر کے نظر ثانی کریں۔ تاکہ صوبہ کی انتظامی مشینری میں کرپشن کا خاتمہ اور غیر جانبداری یقینی بنائی جا سکے۔ اس سلسلہ میں 21جنوری تک کا وقت دیا گیا تھا۔ کیا غور و خوض ہونا تھا اور کیا فہرست پر نظرثانی، یہ فہرست ہی غائب کر دی گئی۔ اب 22جنوری کو چیف سیکرٹری پنجاب نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر بتایا ہے کہ آپ کے آفس سے چیف منسٹر پنجاب کے نام بھجوائی گئی چٹھی کا کوئی سراغ پتہ نہیں لگ رہا۔ فہرست دوبارہ بھجوائی جائے تاکہ اس سلسلے میں کوئی کارروائی ممکن ہو سکے۔

اس ملک میں کیا کیا تماشے نہیں ہوئے۔ مال روڈ لاہور پر واقع ایک پنج ستاروں والے ہوٹل کی داستان سنےے۔ اس کی دس ارب سے زیادہ مالیت کی زمین کی مالک وفاقی گورنمنٹ ہے۔ ذرائع کے مطابق 1947میں اس اراضی کا مالک گوپال بہادر داس نامی ایک ہندو تھا۔ 1962میں اس رقبہ کا حق ملکیت وفاقی گورنمنٹ کے نام پر ہوا۔ بعد ازاں اس میں ملی بھگت سے ہوٹل کا نام بھی شامل کر لیا گیا۔ پہلے اس ہوٹل کا نام کچھ اور تھا۔ اب اسے تبدیل کر کے کوئی دوسرا رکھ لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رقبہ کی ملکیت کے متعلق دستاویزات طلب کرنے پر ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے کچھ پیش نہیں کیا جا سکا۔اس پر ہوٹل انتظامیہ اور ایل ڈی اے کے متعلقہ افسران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

اب اور آگے چلتے ہیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے لوکل گورنمنٹ کشمور میں کرپشن کے ایک مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیئے۔ جس شخص کو سرے سے لکھنا ہی نہیں آتا، وہ کرپشن کے مقدمہ کی تحقیقات کیسے کرے گا؟ عدالت نے مزید کہا کہ نیب کے بیشتر تفتیشی افسران، تفتیش کے بنیادی قواعد سے لاعلم ہیں۔ عدالت نے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ نیب میں ایسے افسران بھرتی کئے گئے ہیں جو سٹیٹمنٹ بھی نہیں لکھ سکتے۔ کوئی شہری بھی حکومت کی کارکردگی کا اندازہ جان مال کے تحفظ، شہری سہولتوں کی فراہمی اور اشیائے ضرورت کی ارزانی سے ہی لگا سکتا ہے۔ان دنوں گیس بلوں میں اضافہ کا بہت شور و غوغا ہے۔ادھر عمران خان بتا رہے ہیں کہ گیس سیکٹر پر 157ارب روپوں کا قرضہ ہے۔ اوپر سے پچاس ارب روپے سالانہ کی گیس چوری ہوتی ہے۔ حکومت ہر روز چھ ارب روپے سود کی مد میں ادا کر رہی ہے۔ ان حالات میں حکومت کی مجبوریاں واضح ہیں۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ بیس بائیس کروڑ آبادی والا ملک تو کیا ایک گھر کا نظام بھی محض قرض پر نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن کیا کیا جائے، ہم چلاتے رہے ہیں۔ اک ننھی منی کرن سے ہی ویرانے کی شام جی اٹھتی ہے۔بری خبروں کے اس ہجوم میں پچھلے دنوں اخبار کے صفحہ کے ایک کونے میں ایک مختصر سی خبر زندگی اور امید کا پیغام تھی۔ محکمہ اینٹی کرپشن گوجرانوالہ نے رواں برس کے ابتدائی پانچ ہفتوں میں دو ارب پچیس کروڑ روپوں سے زائد ریکارڈ ریکوری کر لی ہے۔ یہ رقم بلڈنگ فیس اور کمرشلائزیشن فیس کی مد میں افراد اور نادہند ہاﺅسنگ سوسائٹیز سے وصول کر کے سرکاری خزانے میں جمع کروائی گئی ہے۔

محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران نے خاکوانی کلاتھ مارکیٹ کا دورہ کر کے اس کے کرایوں کا بھی جائز لیا۔ میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ کی ملکیتی ان باسٹھ دکانوں کا کرایہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہوار ہونا چاہئے۔ لیکن دریا دلی سے صرف بارہ سو روپے ماہوار وصول کیا جا رہا ہے۔ کالم نگار نے ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن گوجرانوالہ شیخ فرید احمد سے پوچھا۔ آپ کا محکمہ عام آدمی کے خلاف کارروائی کیسے کر سکتا ہے؟ کیا آپ صرف سرکاری اہل کاروں کے خلاف کاروائی کرنے کے مجاز نہیں؟ انہوں نے اس کے جواز میں Beneficiaryکو پکڑنے کا اختیار رکھنے کا فلسفہ پیش کیا۔ کالم نگار کی سمجھ میں Beneficiaryوالا ان کا یہ فلسفہ نہیں آیا۔

اگر اسے درست مان لیا جائے تو پھر کھیل کے میدانوں سے محروم کئے گئے ون ویلنگ کرتے ہوئے سڑکوں پر مرتے نوجوانوں کے قتل کا مقدمہ کن کے خلاف درج کیا جائیگا؟بہر حال اب تک محکمہ اینٹی کرپشن کی سالم کہانی محض اتنی تھی کہ لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا۔ لیکن اب انہوں نے گوجرانوالہ میں ٹیکس ریکوری کے سلسلے میں اپنی غیر معمولی کارکردگی سے جیسے عمران خان کی تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے۔

Facebook Comments HS