دقیانوسی محبت : میں معمر ہوں اولڈ فیشنڈ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کاؤنٹر پر موجود لڑکی سے ساتھی نے پوچھا آج کیا بنا رہی ہو۔
لڑکی : کلاسک اولڈ فیشنڈ چائے۔
ساتھی: کیا فائدہ ویسے بھی آج سوموار ہے لوگ کم آنے والے ہیں۔

لڑکی: امید! ۔ میرے دوست
ساتھی: چلو لگی رہو!

گاہک کی آمد پر لڑکی اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے۔
لڑکی: کیا لیں گے؟
گاہک : سینڈوچ

لڑکی : جی آپ کا سینڈوچ
گاہک: شکریہ

لڑکی : کچھ اور چاہیے؟
گاہک : کیا ہے اور؟

لڑکی: اگر آپ تجربوں سے نہیں گبھراتے تو بہت کچھ۔
گاہک: وہ لاؤ جو مینیو میں نہیں۔

لڑکی : بہتر۔
لڑکی : کلاسک اولڈ فیشنڈ چائے۔

گاہک : میں عمر رسیدہ ہوں مگر اولڈ فیشنڈ نہیں۔
لڑکی: نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا آپ کو یہ چائے کا بلینڈ دینے کا۔ یہ میں ان گاہکوں کے لئے بناتی ہوں جو مجھے الگ لگتے ہیں۔
گاہک: اوہ

لڑکی: آپ ہمیشہ اکیلے آتے ہیں۔
گاہک: اکیلا؟ نہیں میں اپنا ساتھی خود بناتا ہوں۔

گاہک نے ایک خاکہ لڑکی کے سامنے رکھ دیا۔
لڑکی: یہ آپ نے یہیں بیٹھ کر بنایا۔ آرٹسٹ ہو۔

گاہک: آرکیٹکٹ انجییئر ہوں۔ سکیچ بنانا مشغلہ ہے۔
لڑکی : آپ یہاں اکیلے آتے ہیں۔ یا۔ اکیلے ہیں یا شادی شدہ۔

گاہک: میں سوال اس کے لئے تیار نہیں تھا۔
لڑکی : سوچ کر بتانا میں یہیں ہوں۔

گاہک: سنو! میں طلاق شدہ ہوں۔ اچھا یہ بتاؤ کہ تم ہمیشہ اتنا فرینڈزلی پیش آتی ہو یا گاہکوں کی کمی کی وجہ سے یہ خاص التفات ہے۔
لڑکی: کیوں! آپ کو مشکل ہو رہی ہے یہ ماننے میں کہ مجھے آپ میں دلچسپی محسوس ہو ئی۔

گاہک: میری عمر سے تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہو رہی۔
لڑکی: عمر ایک نمبر ہے اور دلچسپی کا عمر کی پختگی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ویسے بھی میرا خیال ہے کہ ہے تمہاری پختگی اچھی ہوئی ہے بالکل میری چائے کی طرح خوب جوش دے کر پکی ہوئی۔

گاہک : کافی بے باک ہو۔
لڑکی: ہاں۔ مگر کیا تم حیران ہو اس پر۔
گاہک: نہیں بالکل۔ نہیں بس مختلف ہو۔

لڑکی : ہاں زیادہ تر لوگوں کے لئے مگر میں انہیں کوئی الزام نہیں دیتی کیونکہ ہمیں بچپن سے یہی بتایا جاتا ہے کہ ایک لڑکا آئے گا۔ پسند کرے گا، پسند کرے گا، رشتہ مانگے گا اور ہاں وہی ہماری حفاظت کرے گا۔ فلموں میں کہانیوں میں ہمارے گھروں میں ہمیشہ یہی بتایا جاتا ہے ناں۔ مجھ جیسی لڑکیوں پر کوئی فلمیں نہیں بناتا۔

گاہک: تم مجھے میری ماں کی یاد دلاتی ہو۔
لڑکی: گفتگو میں یہ موڑ میں نے نہیں سوچا تھا۔

گاہک: نہیں تم سمجھی نہیں۔ سنو 1975۔ میری ماں ایک دن میرے باپ کے گھر پہنچ کر انہیں پرپوز کر دیتی ہے ایک ہنگامہ ہو گیا۔ کہ ایک لڑکی تو پیار کرتی ہے ٹھیک ہے مگر رشتہ بھی مانگ لیتی ہے۔
لڑکی : پھر؟

گاہک: پھر کیا۔ بس لڑکی کی اور اس کے خاندان کی جانچ پڑتال ہوتی ہے اور اچھے کردار کا سرٹیفکیٹ ملنے پر ماں اور بابا کی شادی۔ میری ماں تھی۔ جس نے پہلا قدم اٹھایا تھا۔
لڑکی: دیکھا جائے تو اتنے سالوں میں کیا ہی بدلا ہے، لڑکی بات نہ کرے تو نخریلی ہے بات کرے تو بے شرم ہے۔ شادی کے لئے بے قابو ہو کر چلی ہے۔

اصل میں لوگ ڈرتے ہیں ہر اس لڑکی سے جو ڈرتی نہیں۔
گاہک :میں نہیں۔

لڑکی: دس منٹ میں یہاں سے چلی جاؤں گی۔ اگر میں کہوں کہ میں تمہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے رہی ہوں تاکہ تمہیں اپنے گھر والوں سامنے پرپوز کر سکوں تو تم میرے بارے میں اندازے تو نہیں لگانے لگ جاؤ گے؟
گاہک: جیسا کہ میں نے بتایا تھا کہ میں معمر ہوں اولڈ فیشنڈ نہیں۔ ۔ ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •