عبوری صوبے کا معجزہ اور چند اہم سوالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مان لیا کہ کوئی چمتکار ہو جائے۔ کوئی معجزہ ہو جائے۔ تحریک انصاف کے تمام زخم بھول کر سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو پانچواں عبوری صوبہ بنانے کی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیتی ہیں۔ معجزہ اس لئے کہ بظاہر اس طرح کا کوئی ماحول نظر آرہا ہے کہ تحریک انصاف کے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رویے کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکیں کہ قومی اسمبلی یا سینٹ میں حکومت کوئی بھی بل پاس کرانے میں کامیاب ہو۔ اور نہ ہی وفاقی حکومت کی ایسی کوئی نیت ہے کہ گلگت بلتستان واقعی عبوری صوبہ بنے۔ اگر اس کی نیت درست ہوتی تو تمام سیاسی جماعتوں کو راضی کرنے کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیتی۔ خیر تحریک انصاف کو کیا غرض کہ گلگت بلتستان عبوری صوبہ بنتا ہے کہ نہیں اس نے تو گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کے لئے ایک سیاسی ڈرامہ کھیل کر عوام کو ٹرک کی بتی کی پیچھے لگانا ہے“

مان لیا کہ ہم جو کہہ رہے وہ سب جھوٹ ہے۔ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے اللہ کرے کامیاب ہو تو چند سوالا ت ایسے ہیں جن کا جواب گلگت بلتستان کے عوام کے لئے ضروری ہے۔

گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے تا تصفیہ کشمیر صوبہ بنایا جاتا ہے توپھر کیا اس متنازعہ حیثیت کی وجہ سے عوام کو جو سہولیات حاصل ہیں وہ برقرار رہیں گی؟ گندم سبسڈی ایک ایسا ایشیو ہے جس سے پیچھے ہٹنے کے لئے عوام کسی صورت تیار نہیں۔ کیا عبوری صوبے میں گندم سبسڈی برقرار رہے گی؟ اسی طرح نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی جو چھوٹ ہے وہ برقرار رہے گی؟ گلگت بلتستان اس وقت ٹیکس فری زون ہے کیا صوبہ بننے کی صورت میں ٹیکس کی چھوٹ برقرار رہے گی؟

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس وقت گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جہاں وفاق ریگولر اور ترقیاتی بجٹ آبادی پر فراہم نہیں کر رہا ہے بلکہ خصوصی رعایت کے ساتھ اضافی بجٹ دے رہاہے اس کے علاوہ ایک سو ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے مطابق صوبہ بننے کی صورت میں یہ تمام رعایتیں ختم ہوں گی۔ گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ تمام مالیاتی اداروں میں نمائندگی ملتی ہے تو ایسے میں گلگت بلتستان پر بھی وہی معاشی فارمولا لاگو ہوگا جو دیگر صوبوں کے لئے ہے۔

پاکستان کے معاشی قانون کے تحت یہ طے ہے کہ ہر صوبے کے لئے وسائل کی تقسیم اور بجٹ کی فراہمی آبادی کے تحت ہوگی۔ گندم سبسڈی کا خاتمہ۔ ٹیکس کٹوتی۔ این سی پی گاڑیوں کی سہولت چھین کر گلگت بلتستان کو آبادی کے مطابق بجٹ دیا جاتا ہے تو یہ بجٹ پونے تین ارب سے زیادہ نہیں ہوگا۔ اسی بجٹ میں ملازمین کی تنخواہیں بھی ہوں گی۔ دیگر اخراجات بھی اور ترقیاتی بجٹ بھی۔ جبکہ اس وقت گلگت بلتستان کا بجٹ 24 ارب ہے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو شامل کیا جائے تو یہ رقم سو ارب تک پہنچتی ہے۔ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی رقم کے بعد پونے تین ارب میں ایک صوبے کو چلانا ممکن ہو۔

باقی صوبوں کی بات کی جائے تو ان کے اپنے وسائل ہیں جہاں سے اپنے بجٹ کو پورا کر سکتے ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں اس وقت سوست بارڈر کے علاوہ انکم کا کوئی ذریعہ نہیں کہ جہاں سے کچھ آمدن حاصل ہو سکے۔ سوست سے حاصل ہونے والی رقم آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ٹیکس وصولی کا نظام رائج کر دیا جائے تو بھی پندرہ لاکھ آبادی سے اتنا حاصل نہیں ہو سکتا کہ جس سے نظام چلایا جا سکے۔ مستقبل میں دیامر۔ ڈیم اور بونجی ڈیم کی تکمیل اور دیگر بجلی کے منصوبوں سے معیشت درست ہو سکتی ہے لیکن اس کے لئے بھی گلگت بلتستان کا نیشنل گرڈ سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ ستم یہ کہ ابھی تک گلگت بلتستان میں ریجنل گرڈ نہیں تو نیشنل گرڈ سے منسلک ہونا تو ایک خواب ہے۔

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور صوبائی حکومت کی کوششوں سے سابق ن لیگ کی وفاقی حکومت نے ریجنل گرڈ کا منصوبہ رکھا تھا لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ بھی تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی بچت مہم کی نذر ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس خطے میں کسی شعبے سے تاحال ایسی کوئی آمدن وصول نہیں ہو رہی کہ جس سے صوبے کا نظام چلایا جا سکے تو کیا عبوری صوبے کے نام پر پہلے سے حاصل سہولتیں ختم ہوں گی تو اس سے عوام کا استحصال نہیں ہوگا؟

پاکستان کے معاشی قانون کے تحت تو یہی فارمولا ہے کہ صوبے کو آبادی کے حصاب سے بجٹ ملے گا۔ ٹیکس لگے گا۔ کسی قسم کی کوئی سبسڈی نہیں ہوگی۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی سہولت نہیں ہوگی۔ قانون تو یہی ہے جب تک اس میں ترمیم نہیں کی جاتی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے لئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں بل پیش کر کے آئینی ترمیم کے ساتھ ساتھ مالیاتی اداروں کے قانون میں بھی کوئی ترمیم ہوگی جس سے گلگت بلتستان عبوری صوبہ بننے کے بعد متنازعہ حیثیت کی سہولتیں بھی لے اور بجٹ بھی پہلے کی طرح اضافی ملے۔ اگر ایسا ہو سکتا ہے تو بہت اچھا نہیں تو قومی اسمبلی اور سینٹ میں کچھ سیاسی بے روزگاروں کو روزگار فراہم کر کے عبوری صوبے کا نام دینے سے عوام کے مسائل ختم نہیں ہو سکتے ہیں۔
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب گلگت بلتستان کے عوام جاننا چاہتے ہیں۔ جواب دینا وفاقی حکومت اور عبوری صوبے کے نام پر سیاسی ڈرامے کی شوٹنگ کرنے والوں کی ذمہ داری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •