فہمیدہ ریاض: اس ڈھلی شام کا حاصل کیا ہے؟
غم و غصّے کے اظہار کے ساتھ انہوں نے اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات کہی۔ ”تم سے میں لڑنا نہیں چاہتی۔ “ انہوں نے میری طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا، انہوں نے زندگی بھر کے لیے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ یہ نہیں کہ اختلاف کے موقع نہیں آئے، کئی بار تیزم تیزی ہوئی۔ کرشن چندر پر ان کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں میرے مضمون پر وہ سر محفل خفا ہوئیں اور انتظار حسین سے میری شکایت کی، جو اس تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ مگر انہوں نے اپنی وضع نہیں بدلی اور میں بھی اپنی عادت سے باز نہیں آیا۔ ترقی پسند ادب کی پرستش کی حد تک بڑی ہوئی ستائش اور وطن کی سیاستِ دوراں پر ہمارا اختلاف آخر تک قائم رہا۔ اس سب کے باوجود، یا شاید اسی کے سبب، ان سے تعلّق گہرا ہوتا گیا۔ میری طرف سے کمی بیشی ہوتی رہتی تھی اور ان کو شکایت کا موقع ملتا رہتا تھا مگر انہوں نے مرتے دم تک اس تعلق کو بڑے سلیقے سے نبھایا۔
روزمرہ کے ملنے جلنے میں جیسی گرم جوشی اور خلوص ان میں تھا، اس کی کوئی اور مثال ملنا مشکل ہے۔ مگر میں ان کی ایک اور خصوصیت کا ذکر کروں گا جس کا ہر بار نئے سرے سے احساس ہوتا تھا۔ وہ سراسر تخلیقی شخصیت تھیں، پوری شاعر۔ وہ زندگی کا کوئی بھی کام کرتی تھیں، کسی بھی مرحلے سے گزرتی تھیں، ان کا روّیہ شاعرانہ ہوتا تھا۔ کام وہ بے تحاشہ کرتی تھیں مگرکام کے نظم وضبط سے بڑھ کر تخلیقی اظہارکا جذبہ ان کے احساسات میں پکتا رہتا۔ کوئی کتاب پڑھنا ہو یا علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا، ان کا روّیہ تخلیقی رہتا۔ اس لیے وہ سیدھی بات کا بھی شاعرانہ جواب دیا کرتیں۔ شاعری نے ان کے اندر ایک سرخوشی اور سرشاری سی بھر دی تھی۔ بے اندازہ تکلیفیں اٹھانے کے باوجود یہ سرخوشی، زندگی سے ان کی محبّت سے پھوٹی پڑتی تھی۔ ان کی نظم میں آدمی کا یہ دلکش روپ ان کا اپنا ہی تو تھا۔
اس ڈھلی شام کا حاصل کیا ہے
دانشِ دل کیا ہے!
کیسے انسان کو دلدار کیا انساں نے
عجب اقرار کہ ہر بار کیا انساں نے
زندگی! تجھ سے بہت پیار کیا انساں نے!
زندگی سے آدمی کے اس بے بایاں عشق کا اظہار ان کی تحریروں کی بُنیاد ہے، ان کا ادبی سرمایہ۔
حُسن اتفاق سے ان کی تخلیقی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ نیویارک میں مقیم ہندوستانی مشاعرہ مینا الیگزینڈر سے میرا تعارف ان کی بدولت ہوا۔ مجھے وہ نظمیں اچھی لگیں، پھر فہمیدہ ریاض نے ان میں سے ایک نظم کا ترجمہ میرے حوالے کیا اور میری الٹی سیدھی باتوں کو ایک باقاعدہ شکل دے کر تجویز پیش کی کہ ایک ادبی مجلّہ شائع کیا جائے، یہ ترجمے اس میں چھپیں۔ وہ اس طرح اپنے دوستوں کے لیے فیصلے کر لیتی تھیں اور ظاہر ہے کہ دوسروں کا فرض تھا کہ وہ ان فیصلوں پر پورا اُتریں۔ مجلّے کی بات پروف ریڈنگ میں فہمیدہ ریاض کی فراغ دلانہ مدد کی پیش کش کے باوجود اتنی سیدھی نہ تھی۔ مگر ان کو اپنی بات منوانا بھی آتا تھا۔
”دنیازاد“ نام کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور اس میں شروع دن سے انہوں نے دل چسپی لی۔ وہ اس کو باقاعدہ کرنے کے لئے کُڑھتی رہتی تھیں اور مندرجات پر تبصرے بھی کرتی جاتی تھیں۔ ان کا پڑھنا، لکھنا ایک عجیب سرشاری سے عبارت تھا۔ جو کتابیں پڑھتی تھیں، ان کی ادبی لذّت میں دوسروں کو شریک کرنے کے لیے تُل جاتی تھیں۔ نجیب محفوظ سے لے کر اسماعیل کادارے تک، کئی لکھنے والوں کا تعارف انہوں نے ”دنیا زاد“ کے صفحات پر اپنے مخصوص انداز میں کرایا۔ ٹولسٹوئے کو بھی یاد کیا اور دوستوفیسکی کو آخری دنوں تک پڑھتی رہیں۔ زندگی کے تجربات جیسے ان کے اندر ایک گنگناہٹ سی بھر دیتے اور وہ اپنے آپ سے باتیں کرتی ہوئی، ہوا میں اُڑتی ہوئی چلی جاتیں۔
انہوں نے ”جھنّو کو چٹھی ملی“ اور ”ڈھولی تارو ڈھول باجے“ جیسی اسی کیفیت میں لکھیں اور اپنے مخصوص انداز میں پڑھ کر سنائیں۔ اس پورے عرصے میں انہوں نے شاعری کم کی (کہیں ان کی نثر اس سے آگے تو نہیں نکل گئی تھی؟ ) مگر مجھے وہ شام کیسے بھول سکتی ہے، جب انہوں نے آنسوؤں میں ڈوبے چہرے کے ساتھ ”تم کبیر“ کا پہلا ڈرافٹ میری طرف پڑھنے کے لیے بڑھایا تھا۔ وہ اسے خود نہیں پڑھتی تھیں، پہلے پہل چھپوانا بھی نہیں چاہتی تھیں۔ اس کو کہیں ادھر ادھر پھینک دینا چاہتی تھیں۔ مگر غم کا تیر تو کلیجے کے پار ہو چکا تھا۔
ان کا تخلیقی انہماک بڑھتی ہوئی بیماری کے باوجود آخری زمانے تک جاری رہا۔ وہ ایک اشاعتی ادارے کے لئے بچّوں کی کتابیں تیار کر رہی تھیں اور ان کے لیے کام کرتی رہتی تھیں۔ پھر دوستوئیفسکی کے ناول پڑھنے لگتیں اور ان کے بارے میں خود کلامی کے سے انداز میں نوٹ بک، رجسٹر کے صفحات، پرانی ڈائریوں کے سادہ صفحات پر لکھتی جاتیں۔ بیماری کی وجہ سے فیس بک پر متواتر خامہ فرسائی کا سلسلہ بھی بند ہوگیا مگر ”بیماری کی تحریریں“ جاری رہیں۔ اور اس وقت تک جاری رہیں جب تک انجام رسیدہ ہونے کی خواہش زندگی سے محبّت پر حاوی نہ ہوگئی۔ وہ بار بار موت کا ذکر کرتیں، جیسے وہ اس کے لئے تیار ہوں۔ زندگی کی بے محابا لگن کا محور بدل گیا تھا۔ موت کی دستک دروازے پر سنائی دے رہی تھی۔ فہمیدہ ریاض نے طے کر لیا تھا کہ موت کے لیے دروازہ کھول دیں گی اور اسی پیار سے اس کا استقبال کریں گی جس والہانہ پن سے وہ زندگی سے بات کیا کرتی تھیں۔


