ماسٹر عبدالعزیز : لٹل ماسٹر (حنیف محمد) کے بڑے استاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1947 میں جونا گڑھ سے ایک خاندان کراچی آن بسا۔ ہجرت سے پہلے ان کے یہاں خوش حالی کا دور دورہ تھا لیکن نئے ملک میں معاشی دشواریوں نے گھیر لیا۔ خاندان کے سربراہ شیخ اسماعیل 1949 میں کینسر سے انتقال کر گئے تو بچوں کی تربیت اور دیکھ ریکھ کی ذمہ داری خاتون خانہ امیر بی پر آ گئی۔ اس باہمت عورت نے بیٹوں کو پائوں پر کھڑے ہونے میں بڑی مدد دی۔

کرکٹ اس خاندان کے خون میں شامل تھی۔ امیر بی نے اس کھیل میں ترقی کے لیے بیٹوں کی خوب حوصلہ افزائی کی۔ بیٹوں نے بھی ماں کا بھرم رکھا۔ حنیف محمد، وزیر محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد نے کرکٹ میں بلند مرتبہ پایا۔ ہر ذرہ اپنی جگہ آفتاب ہے لیکن حنیف محمد کا رتبہ دوسروں سے سوا ہے۔ وہ پاکستان کے پہلے عظیم بیٹسمین تھے۔ پاکستانی بیٹسمینوں میں عالمی سطح پر سب سے پہلے ان کے نام کا ڈنکا بجا، جس میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹرپل سنچری کو بھی دخل تھا جو ٹیسٹ کرکٹ میں طویل ترین اننگز اورمزاحمت کی بہترین مثال تھی۔

حنیف محمد سترہ سالہ ٹیسٹ کیرئیر کے دوران پاکستانی بیٹنگ لائن اپ میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند رہے۔ پاکستان کے پہلے ستاون میں سے پچپن ٹیسٹ کھیلے۔ حنیف محمد کے کرکٹ میں کارنامے تو اور بھی بہت ہیں، لیکن ہم نے سردست ان کا ذکر اس معتبر ہستی کے تعلق سے کرنا ہے جس نے انھیں دریافت کرکے تراشا۔ یہ صاحب ماسٹر عبدالعزیز ہیں۔ حنیف محمد کے استاد۔ انھی نے سب سے پہلے حنیف محمد کا ٹیلنٹ پہچان کر ان کے روشن مستقبل کی پیش گوئی کی۔

کمسن حنیف محمد مہربان استاد کے ہمراہ

قصہ کچھ یوں ہے کہ حنیف محمد نے کلب میچ میں ناقابل شکست 75 رنز بنائے، اس اننگز سے ماسٹر عبدالعزیز متاثر ہوئے۔ میچ کے بعد ہونہار بیٹسمین سے ملے، اس کے کھیل کی تعریف کی، نام پتا اور والدین کے بارے میں پوچھا۔ ماسٹر عبدالعزیز نے اس موقع پر ان سے کہا: “تم نیچرل کرکٹر ہو، تم کوئی اور کھیل مت کھیلو، اگر تم صرف کرکٹ کے ہو رہو تو اس میں بڑا نام کمائو گے۔” ماسٹر عبدالعزیز نے حنیف محمد کو یہ بتا کر کہ وہ سندھ مدرسۃ الاسلام میں کرکٹ کوچ ہیں، انھیں اس سکول کا حصہ بننے کی تحریک دی اور کہا کہ وہ ان کو پرنسپل سے متعارف کروا کر ہر ممکنہ سہولت دلانے کی کوشش کریں گے۔

ماسٹر عبدالعزیز کی تحسین سے اس مہاجر لڑکے کا حوصلہ بڑھا۔ جذبوں کو مہمیز ملی۔ گھر میں والدہ اور بھائیوں سے سکول بدلی کے معاملہ پر بات کی تو انھیں اس کا اذن مل گیا کہ وہ سب کرکٹ میں انھیں فروغ پاتے دیکھنا چاہتے تھے۔ ماسٹر عزیز نے پرنسپل سے حنیف محمد کی ملاقات کرائی اورانھیں بتایا کہ اس لڑکے میں نادر ٹیلنٹ ہے، ایک دن یہ بڑا کرکٹر بنے گا۔ پرنسپل نے حنیف کو اپنے سکول میں داخلہ لینے کی پیشکش کی جو قبول کرلی گئی۔ اس زمانے میں کراچی میں نائوں مل جیومل اور جیکب ہیرس جیسے اچھے کوچ بھی تھے لیکن ماسٹر عزیز کی بات ہی اور تھی۔ لڑکوں کا کھیل بہتر بنانے کے لیے جان مارنے والے۔ مخلص۔ ساری کمائی لڑکوں پر خرچ کردیتے۔ انھیں جوتے، گلوز، پیڈ، بیٹ، الغرض ہر وہ چیز جس کی ضرورت ہوتی، دلاتے۔ اس شاہ خرچی پر یہ نوبت بھی آتی کہ ان کے پلے ایک دھیلا نہ رہتا اور وہ شاگردوں سے کچھ کھانے پینے کے واسطے خرید لانے کا تقاضا کرتے۔

حنیف، مشتاق اور صادق محمد ماسٹرعبدالعزیز کے ہمراہ

حنیف محمد کے بقول “جب انھیں بھوک لگتی تولڑکوں سے بن اور چائے کے لیے کہتے، کھانے میں بس یہی چیزیں انھیں پسند تھیں۔ بڑے مست آدمی تھے۔” معروف مصنف قاضی محمد اختر جونا گڑھی نے اپنے مضمون میں ایک واقعہ بیان کیا ہے جس سے ماسٹر عزیز کے اندازِ زیست کا پتا چلتا ہے: “ایک دن ماسٹر عبدالعزیز مدرسے کے احاطے میں تالپور ہائوس کی بلندو بالا چھت کے نیچے کسی کھلاڑی کو کرمچ کی گیند سے بولنگ کرتے ہوئے بیٹنگ کے دائو پیچ سکھانے میں مصروف تھے۔ میں بھی وہیں ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک ماسٹر صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے اور بولے “بیٹا! ذرا جاکر میرے کمرے سے ایک بیٹ تو لے آ۔” میں حیران پریشان، سوالیہ نشان کی صورت انھیں دیکھنے لگا۔ مجھے بھلا کیا معلوم کہ ماسٹر صاحب کا کمرا کہاں ہے؟

بہرحال ایک ساتھی نے نشان دہی کرتے ہوئے بتلایا کہ ماسٹر صاحب کا کمرا فلاں جگہ ہے۔ خیر میں سرپٹ دوڑتا ہوا ان کے کمرے تک پہنچ گیا۔ کمرے کا دروازہ چوپٹ کھلا تھا۔ وہاں تھا کیا جو ترا غم اسے غارت کرتا! ایک پلنگ پر میلا سا بستر، میلی چادر، ایک گندا، میلا چیکٹ تکیہ اور بدبو! یہ تھی ماسٹر عبدالعزیز جیسے عظیم کرکٹر کی کل کائنات! دروازے کی چوکھٹ سے جراب کے اندر رکھی کرکٹ گیند ایک رسی کی مدد سے لٹک رہی تھی جسے بالعموم کرکٹ بیٹ کا اسٹروک لگانے کی غرض سے استعمال کیا جاتا تھا۔ سامنے دیوار کے سہارے ایک بلا رکھا تھا۔ میں نے فوراً وہ بلا پکڑا اور بھاگتے ہوئے واپس آکر ماسٹر صاحب کے حوالے کردیا۔”

ماسٹر عبدالعزیزسب کو پیار سے بیٹا کہتے۔ ایک کوٹ جسے سپورٹس کی زبان میں بلیزر کہیں گے، زیب تن کیے رہتے اور یہ ایک طرح سے ان کی شخصیت کا حصہ بن گیا تھا۔ ماضی میں فرسٹ کلاس کرکٹر رہے تھے اور برصغیر کے اچھے وکٹ کیپروں میں گنے جاتے۔ نواں نگر، سندھ، راجھستان اور مہاراشٹر کی ٹیموں کا حصہ رہے۔ 1936 میں انڈیا کی طرف سے آسٹریلیا کے خلاف ان آفیشل ٹیسٹ میچ کھیلے۔ کرکٹ چھوڑنے کے بعد، اس کھیل سے وابستگی کے لیے، انھوں نے اپنے لیے کوچ کی صورت میں نیا رول ڈھونڈ لیا۔ حنیف محمد کے ٹیلنٹ اورلگن کی وجہ سے ماسٹر عزیز ان پر خاص توجہ دیتے۔

ایک دن وہ سکول میں آدھی چھٹی کے دوران ان سے ملے اور کہا کہ آخری پیریڈ میں ٹیچر کو گُگلی کروا کر آجانا۔ پہلے تو یہ بات ان کے اوپر سے گزر گئی لیکن جلد وہ بات کی تہہ تک پہنچ گئے کہ استاد محترم کلاس سے حیلے بہانے کھسکنے کی راہ دکھا رہے ہیں۔ اس کے بعد گگلی کرانا ان کا معمول بن گیا اور کلاس سے سیدھے استاد جی کے پاس آجاتے جو انھیں گالف بال سے ہک اور پل کی پریکٹس کراتے۔ اگلے اور پچھلے قدموں کے بہتر استعمال کا طریقہ بتاتے۔ تکنیک بہتر بنانے میں رہنمائی کرتے۔ حنیف محمد نے ان کی نگرانی میں اپنی بیٹنگ تکنیک اس قدر بہتر بنالی کہ جب انگلینڈ میں کرکٹ کوچ الف گوور کے مشہور کوچنگ سکول میں گئے تو وہ ان سے بڑے متاثر ہوئے اور رائے دی کہ اس نوجوان کو گائیڈ کرنے کے لیے میرے پاس نیا کچھ نہیں کیونکہ اس کی تکنیک پہلے ہی بہت اچھی ہے۔

ماسٹر عبدالعزیز امپائرنگ بھی کرتے تھے، حنیف محمد بیٹنگ کر رہے ہوتے تو ان کا آئوٹ پی جاتے۔ ایل بی ڈبلیو کا رواج تو اس زمانے میں یوں بھی کم تھا، لیکن کیچ کی صورت میں بھی وہ نو بال کا آوازہ بلند کرکے بولر کی محنت خاک میں ملا دیتے۔ مخالف ٹیم واویلا کرتی پر وہ ٹس سے مس نہ ہوتے۔ حنیف محمد نے اس بے ایمانی کی وجہ پوچھی تو انھوں نے بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے شاگرد بہترین کھلاڑی بنیں اور تجربے کے لیے انھیں زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں کیونکہ یہی تو سیکھنے کے دن ہیں۔

اس دور میں کراچی میں انٹر سکول روبی شیلڈ ٹورنامنٹ ہوتا، اس میں سب سے کانٹے کا میچ سندھ مدرسۃ الاسلام اور سینٹ پیٹرک کے درمیان ہوتا جسے دیکھنے کے واسطے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد آتی۔ حنیف محمد بیٹنگ کے ساتھ وکٹ کیپنگ بھی کرتے تھے، (پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے تین ٹیسٹ میچوں میں وہی وکٹ کیپر تھے لیکن بعد ازاں یہ ذمہ داری چھوڑ دی) رفتہ رفتہ ماسٹر عبدالعزیز کی محنت برگ وبار لانے لگی۔ کرکٹ کےحلقوں میں ان کے شاگرد کا چرچا ہونے لگا۔ سکول کی سطح پر کرکٹ میں ان کی کارکردگی کی معراج کرسچن مشن سکول کے خلاف میچ میں ظاہر ہوئی، انھوں نے میٹنگ وکٹ پر ٹرپل سنچری بنائی، اس کا فائدہ انھیں یہ ہوا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کے لیے رستہ کھل گیا۔

ماسٹر عبدالعزیز کے حقیقی صاحبزادے سلیم درانی

1950 میں فلڈ ریلیف میچ میں پنجاب کی ٹیم کے خلاف کراچی کی نمائندگی کی۔ اس میچ کی دوسری اننگز میں انھوں نے 93 رنز (ناٹ آئوٹ) بنائے، مخالف ٹیم میں خان محمد اور امیر الہیٰ جیسے عمدہ بولر تھے، وہ اپنے کھیل سے مخالف ٹیم کے کپتان عبدالحفیظ کاردار کو متاثر کرنے میں کامیاب رہے، اس اننگز کی وجہ سے ہی انھوں نے ایم سی سی سے میچ میں پاکستان ٹیم میں حنیف محمد کی شمولیت پر بطور کپتان اصرار کیا۔ ایم سی سی کے خلاف عمدہ کارکردگی کی وجہ سے پاکستان کو ٹیسٹ اسٹیٹس مل گیا۔

1952 میں پاکستان ٹیم نے ہندوستان میں تاریخ ساز پہلا ٹیسٹ کھیلا تو حنیف محمد ٹیم کا حصہ تھے، اس کے بعد لٹل ماسٹر نے مڑ کر نہیں دیکھا اور ریٹائرمنٹ تک ٹیم کی بیٹنگ کا بوجھ اٹھائے رکھا۔ حنیف محمد نے خود نوشت میں لکھا ہے کہ ماسٹر عبدالعزیز نے محمد برادران کو کامیابی کی راہ پر گامزن کیا۔ 1979 میں اپنی وفات تک ان کی حیثیت محمد برادران کے لیے شجرسایہ دار کی رہی۔ وہ برابر انھیں مشورے دیتے رہے۔ مشتاق محمد کے بقول، انھوں نے دس منٹ کے سیشن میں ان کا سٹانس درست کیا جس سے انھیں اپنی بیٹنگ بہتر بنانے میں مدد ملی۔ ماسٹر عبدالعزیز نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے جونئیر لیول پر بطور کوچ کام کیا۔ کوچنگ کے سلسلے میں سابقہ مشرقی پاکستان میں بھی رہے۔

کسی عوامی جگہ پر آخری بار انھیں کراچی میں نومبر 1978میں پاکستان اور انڈیا کے ٹیسٹ میچ کے دوران سٹیڈیم میں دیکھا گیا۔ وفات سے پہلے علیل ہوئے تو معروف کرکٹ مبصر عمر قریشی نے انھیں ہسپتال داخل کرایا اور تمام اخراجات اٹھائے۔ ماسٹر عبدالعزیز سے حنیف محمد کے دوسرے بھائیوں نے بھی کوچنگ لی، ان کے کئی اور شاگرد بھی کرکٹ میں نمایاں ہوئے لیکن ان کی شہرت کا سبب حنیف محمد ہی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سچن ٹنڈولکر کے کوچ رماکانت اچریکر کے اور بھی شاگرد ٹیسٹ کرکٹر ہوئے لیکن ان کا شہرہ لائق ترین شاگرد کی وجہ سے ہوا۔ دونوں استادوں میں یہ قدرمشترک بھی ہے کہ دونوں نے کبھی شیخی نہیں بگھاری، یہ ان کے شاگرد ہیں جنھوں نے نہایت محبت سے ان کی کاوشوں کا اعتراف کیا۔

29 ٹیسٹ کھیلنے والے سلیم درانی نے ایک فلم میں بھی جوہر دکھائے

معروف برطانوی لکھاری رچرڈ ہیلر اور پیٹر اوبورن نے پاکستان کرکٹ پر اپنی عمدہ کتاب ’وائٹ آن گرین‘ میں ماسٹر عبدالعزیز کے بارے میں پورا باب لکھا ہے۔ اس میں ان کی اور حنیف محمد کے تعلق کی کہانی بھی بیان ہوئی ہے اور ماسٹر عبدالعزیزکے حقیقی بیٹے سلیم درانی کا ذکر بھی، جن کے پیدا ہوتے ہی انھوں نے اسے ٹیسٹ کرکٹر بنانے کا تہیہ کرلیا تھا اور بہت چھوٹی عمر میں اس کی کوچنگ شروع کردی تھی، اس منصوبے میں کھنڈت دو وجہ سے پڑی، ایک تو بیوی سے ازدواجی تعلق ختم ہوگیا، دوسرے ہندوستان تقسیم ہو گیا اور انھیں ہجرت کرکے پاکستان آنا پڑا۔ بچے ہندوستان میں ماں کے پاس رہے۔ یوں بیٹے کو ٹیسٹ کرکٹر بنانے کاخواب بکھر گیا۔ نئے وطن میں حنیف محمد کی روپ میں انھیں بیٹا مل گیا جسے کرکٹ میں بڑھانے چڑھانے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔

ادھر سلیم درانی نے باپ کے پاکستان چلے جانے کے بعد بھی کرکٹ سے ناتا جوڑے رکھا اور ہندوستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کرلیا۔ وہ 29 ٹیسٹ کھیلے۔ ان کی شہرت دھواں دھار بیٹنگ کے حوالے سے ہوئی۔ لیفٹ آرم سپنر بھی تھے۔ باپ بیٹے کی تقسیم کے بعد ملاقات 1961 میں ہندوستان اور انگلنیڈ کے درمیان کلکتہ ٹیسٹ کے دوران ہوئی۔ ماسٹر عبدالعزیز نے اس موقع پر بیٹے کو ٹپس دیے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلیم درانی نے آٹھ کھلاڑی آئوٹ کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا، خاص طور پر کین بیرنگٹن کی اہم وکٹ والد کے مشورے پر عمل کے نتیجے میں حاصل کی۔ سلیم درانی نے 1973ء میں پروین بابی کے بالمقابل ایک فلم میں بھی کام کیا۔

معروف کرکٹ رائٹر نجم لطیف کے بقول، ماسٹر عزیز کے لبوں پر جب بھی بیٹے کا نام آتا آنسو ان کی آنکھوں سے رواں ہوجاتے۔ ادھر بیٹے کا حال بھی سن لیں۔ 2007میں ممتاز صحافی قمر احمد کی ہندوستان میں سلیم درانی سے ملاقات ہوئی تو انھیں بتایا کہ وہ ماسٹر عزیز کے زیر نگرانی کوچنگ کیمپ میں شریک رہے ہیں تو وہ یہ جان کربہت خوش ہوئے اور والد کے بارے میں ان سے سوال پوچھتے رہے۔ قمر احمد کا نوجوان کھلاڑی ہی نہیں صحافی کی حیثیت سے بھی ماسٹر عبدالعزیز سے ملنا جلنا رہا۔ وائٹ آن گرین میں شامل مضمون میں زیادہ تر معلومات کا ماخذ نجم لطیف اور قمر احمد ہی ہیں۔ حنیف محمد اور سلیم درانی دونوں دسمبر 1934 میں پیدا ہوئے۔ حنیف محمد 11اگست 2016 کو انتقال کر گئے۔ ماسٹر عبدالعزیز کی زندہ نشانی سلیم درانی کی صورت میں آج بھی جام نگر میں موجود ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •