’پاک-سعودی تعلقات کی گہرائی بڑھتی ہی رہی ہے‘

ثقلین امام - بی بی سی اردو سروس، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعودی عرب پاکستان تعلقات

Getty Images
اسلام آباد کے افق پر فیصل مسجد پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک معنی خیز حیثیت رکھتی ہے

اسلام سرزمینِ حجاز سے پھیلا جو اب سعودی عرب کا ایک اہم صوبہ ہے۔ یہیں دینِ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ واقع ہیں۔

پاکستان کے مسلمانوں کی ان مقدس جگہوں سے وابستگی اب ان دو ممالک کے تعلقات میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس طرح اللہ کا گھر اور پیغمبرِ اسلام کا روضہ سعودی بادشاہت کی حفاظت کے لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک مخصوص جواز ہے۔

تاہم پاکستان جب بھی سعودی عرب کی حفاظت کی بات کرتا ہے تو یہ واضح نہیں کرتا کہ سعودی بادشاہت کو خطرہ کس ملک سے ہو سکتا ہے۔

کہا جا سکتا ہے کہ شاید امریکہ اور برطانیہ کے باہمی تعلقات کی نوعیت اتنی گہری نہیں جتنی پاکستان اور سعودی عرب کی ہے۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کسی مربوط دستاویزی شکل میں موجود نہیں تاہم ان ملکوں کے رشتے یا تعلقات کی تاریخ کے تناظر میں ایک بات قطعی طور ہر کہی جا سکتی ہے کہ ان کی بنیاد یا وجہ تو بدل سکتی ہے لیکن ان کی گہرائی بڑھتی ہی رہی ہے۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات

شاہ فیصل پاکستان کی آزادی سے پہلے کے زمانے سے پاکستان کے دوست بن چکے تھے

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا آغاز

سعودی عرب اُن چند اولین ممالک میں سے تھا جنھوں نے پاکستان کے وجود میں آتے ہی اسے تسلیم کیا۔ شاہ سعود، 1953 میں سعودی عرب کے دوسرے بادشاہ بنے۔ اُن کے زمانے میں پاکستان اور سعودی عرب کے گہرے تعلقات استوار ہوئے اور اُس کی وجہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کا سرد جنگ کے زمانے میں امریکی کیمپ میں شامل ہونا تھا۔

ایک امریکی خفیہ مراسلہ جو بعد میں منظرِعام پر آیا، اس میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 1950 کی دہائی میں سعودی عرب کے اُس وقت کے ولی عہد شہزادہ فیصل اور سوڈان کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی تھی جو بےسود رہی کیونکہ پاکستان اُس وقت کے افغان وزیرِ اعظم سردار محمد داؤد کی معزولی چاہتا تھا۔

تاہم امریکہ نے پاکستان کی اس خواہش کی حمایت نہیں کی اور سردار داؤد افغانستان کے وزیرِ اعظم سنہ 1963 تک رہے۔

اگرچہ پاکستان سنہ 1955 میں امریکہ کے فوجی اتحاد معاہدہِ بغداد میں شامل ہو گیا تھا لیکن شاہ سعود نے اس اتحاد کا حصہ بننے سے انکار کیا تھا۔ شاہ سعود پہلے عرب حکمران تھے جنھوں نے سنہ 1956 میں نہر سُویز کی جنگ کے موقع پر مغربی ممالک کو تیل کی برآمد روک کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔

سعودی عرب پاکستان تعلقاست

فیلڈ مارشل کا سعودی عرب میں فقیدالمثال استقبال کیا گیا

فیلڈ مارشل ایوب خان اور شاہ سعود

کہا جاتا ہے کہ اُس وقت سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کا آغاز ہوا۔ 1960 میں پاکستان کے اس وقت کے صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔ یہ غالباً کسی پاکستانی حکمران کا سعودی عرب کا پہلا دورہ تھا۔

صدر ایوب خان کا انتہائی پُرتپاک انداز میں استقبال کیا گیا تھا۔ انھوں نے مکہ میں عمرہ اور مدینے میں روضہِ نبی کی زیارت کی۔ اس کے علاوہ انھیں جنت البقیع میں بھی اُن کی خواہش پر لے جایا گیا۔

شاہ سعود کی معزولی کے بعد اُن کے بھائی شاہ فیصل بادشاہ بنے تو پاکستان سے تعلقات میں بہتری کا سلسلہ برقرار رہا۔ ادھر ایوب خان بھی ایک عوامی تحریک کی وجہ سے مستعفی ہوئے تو اُن کی جگہ پاکستانی فوج کے کمانڈر اِنچیف جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا۔

شاہ عبدالعزیز ابن سعود

شاہ عبدالعزیز بن سعود امریکی بحریہ کے جہاز یو ایس ایس کوئنسی پر امریکی صدر فرینکلین روز ویلٹ سے چودہ فروری سنہ 1945 میں مذاکرات کرتے ہوئے

جنرل یحیٰ خان اور یمن پر بمباری

صدر یحییٰ نے اُس وقت کے جنوبی یمن کے ساتھ سعودی عرب کی جنگ میں سعودی عرب کی مدد کے لیے پاکستانی فضائیہ کے پائلٹ بھیجے جنھوں نے ایک تیسرے ملک کے جہازوں کے ذریعے یمن پر بمباری کی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اُس وقت کے زیدی فرقے کے لوگ جو آج چوثی کہلاتے ہیں، سنہ 1969 کی جنگ میں سعودی عرب کے اتحادی تھے اور وہ جنوبی یمن میں مصر کی حمایت یافتہ بائیں بازو کی حکومت کے خلاف لڑے تھے۔

یحییٰ خان ہی کے زمانے سے پاکستانی افواج کی سعودی عرب میں تعیناتی کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اُسی دوران سنہ 1969 میں رباط میں ہونے والی اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس میں پاکستان نے شرکت بھی سعودی عرب کی خواہش پر کی۔

سنہ 1971 کی جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی فوجی اور مالی امداد بھی کی۔

ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب ذوالفقار علی بھٹو پاکستان میں برسرِ اقتدار آئے۔ اس وقت سعودی عرب میں دولت کی بےانتہا ریل پیل تھی جس کی وجہ سے ترقی اور تعمیرات کا ایک بے مثال دور شروع ہوا۔ شاہ فیصل اور بھٹو کے انتہائی گرمجوش اور قریبی ذاتی تعلق کی وجہ سے پاکستانی ہُنرمند اور غیر ہُنرمند مزدوروں کے لیے دروازے غیرمشروط طور پر کھول دیے۔

سعودی عرب پاکستان تعلقاست
سنہ ستر کی دہائی میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹوکے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل سے بہترین مراسم کی بدولت لاہور میں ایک کامیاب اسلامی سربراہوں کی کانفرنس منعقد ہوئی۔

سنہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں پاکستان نے نہ صرف عربوں کا ساتھ دیا تھا بلکہ اُس وقت کے پاکستانی فضائیہ کے پائلٹ اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے شام بھی گئے تھے۔ شاہ فیصل اور پاکستان کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی فہم و فراست میں ہم آہنگی اتنی زیادہ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کو اعتماد میں لے کر اہم تزویراتی (سٹریٹیجِک) فیصلے کرتے تھے۔

پاکستان میں سنہ 1974 منعقد ہونے والی دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں شاہ فیصل اور بھٹو کی سیاسی قربت دیدنی تھی۔ اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ تنظیم آزادئِ فلسطین یا پی ایل او کو فلسطینیوں کی واحد نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اور اسی کانفرنس کی قراردادوں کی روشنی میں پی ایل او کو اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ دلوانے میں مسلمان ممالک کامیاب ہوئے۔

یہی وہ وقت تھا جب ہندوستان نے پوکھران میں مئی سنہ 1974 اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کیا تھا۔ اُس وقت پاکستان کے وزیرِاعظم بھٹو نے چین سمیت کئی دوست ممالک سے رابطہ کیا۔ کئی محقیقین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے شاہ فیصل، لیبیا کے کرنل قذافی اور شمالی کوریا کے کِم اِل سونگ نے مالی اور تیکنیکی لحاظ سے پاکستان کو اپنی جوہری بم بنانے میں مدد دی۔ تاہم پاکستان سمیت دیگر ممالک اس امداد کی تردید کرتے ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو اور شاہ فیصل کو اُس زمانے کے مغربی بالادستی کے مخالف لیڈروں کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے۔ اور ان دونوں رہنماؤں کے قریبی تعلقات میں یہ پہلو بہت اہم تھا۔ دونوں اسلامی ممالک پر مشتمل ایک دولتِ مشترکہ، مسلمان ملکوں کی منڈیوں میں ایک دوسرے کو مکمل اور کھلی رسائی اور سرمایہ کاری کے کئی ایک مشترکہ منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔

ماہرینِ سیاسیات کے مطابق، مغربی طاقتوں کو ترقی پذیر ممالک میں یہ رجحان قابلِ قبول نہیں تھا۔ شاہ فیصل کو سنہ 1975 میں اُن کے ایک بھتیجے نے گولی مار کر ہلا کر دیا۔ یہاں سے پاکستان اور سعودی عرب کے مغربی بالادستی کی مخالفت کے دور کا آغاز ختم ہو جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو پاکستانی فوج ایک سیاسی تحریک کے بعد اقتدار سے الگ کر دیتی ہے اور جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو سعودی عرب میں شاہ فیصل نہیں تھے بلکہ شاہ خالد تھے۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات

جنرل ضیاالحق کے دور میں افغانستان میں سویت فوجوں کے آنے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب نے مِل کر امریکی مدد سے جہاد کا آغاز کیا

جنرل ضیاالحق: پاکستان-سعودی-امریکی اتحاد

پاکستانی فوج کے سربراہ جنھوں نے بھٹو کی حکومت ختم کی تھی، مارشل لا لگانے کے بعد اعلان تو کیا تھا کہ وہ 90 دن کے بعد انتخابات کرانے کے بعد واپس بیریکوں میں چلے جائیں گے لیکن عالمی بساط پرکچھ اور کھیل کھیلا جا رہا تھا۔

افغانستان میں سنہ 1978 میں نور محمد ترکئی کی قیادت میں بائیں بازو کا انقلابِ ثور آگیا اور اگلے برس یعنی 1979 میں ایران میں امام خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب برپا ہوگیا۔ یہ دونوں تبدیلیاں امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول تھیں۔

جنرل محمد ضیاالحق کے لیے اپنے اقتدار کو طول دینے کے یہی بہترین مواقع تھے۔ ایرانی انقلاب کے رہبر امام خمینی نے انقلاب برآمد کرنے کی بات کی اور اسی بات کو سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک نے اپنے وجود کے لیے ایک خطرہ قرار دے کر اس کے خلاف اتحاد بنانے شروع کر دیے۔

اس اتحاد میں پاکستان سرِفہرست تھا۔ ان تمام واقعات ہی کے دوران سوویت یونین کی فوجیں افغانستان میں اُس وقت کے افغان سربراہ ببرک کارمل کی دعوت پر ان کے ملک میں داخل ہوگئیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے سوویت فوجیوں کے افغانستان میں داخلے کو بےجا مداخلت اور فوجی قبضہ قرار دیا اور عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ یا کشیدہ تعلقات میں بہتر تعلقات کے حالات کا دور ختم ہوگیا۔

اور اس طرح پاکستان اور سعودی تعلقات میں ایک مغربی ممالک کی حمایت والا دور شروع ہوا۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک نے ایران کے خلاف اتحاد بنایا، افغانستان میں سوویت فوجوں کے آنے کے بعد سعودی عرب نے سب سے پہلے پاکستان کی مالی مدد کرنا شروع کی۔ امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادیوں نے سوویت یونین کے خلاف جہاد شروع کرنے کے لیے پاکستان کو ‘لانچنگ پیڈ’ کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔

پاکستان میں نہ صرف مغربی ممالک کی مالی اور فوجی امداد آنا شروع ہو گئی بلکہ سعودی عرب اور اس کے حامی عرب ممالک سے مالی امداد کے علاوہ ایک نظریاتی شدت پسندی بھی پاکستان کو برآمد کی گئی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں پھر مدرسوں کی مالی امداد اور شدت پسندی کے فروغ پر کوئی روک ٹوک نہ رہی۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات
جنرل ضیاالحق کے زمانے میں پاکستان۔سعودی عرب۔امریکہ کے درمیان مضبوط ترین تعلقات تھے

اسی پس منظر میں نومبر سنہ 1979 میں جب سعودی عرب میں خانہ کعبہ پر وہاں کے شدت پسندوں نے حملہ کیا تو اُن سے لڑنے کے لیے پاکستانی کمانڈوز بھی حرکت میں آئے اگرچہ اصل کارروائی فرانس کے کمانڈوز نے کی تھی۔ اُس وقت یہ سعودی عرب کے لیے مناسب تھا کہ وہ پاکستانی فوج کے کعبے میں کردار کو نمایاں کرے تاکہ فرانس کے ‘مسیحی’ دستوں کی کعبے میں فوجی کارروائی کی خبر دب جائے۔

جنرل ضیاالحق کے زمانے میں سب سے زیادہ تعداد میں پاکستانی فوجی سعودی بادشاہت کی حفاظت کے لیے جزیرہ نُما سرزمینِ عرب پر بھیجے گئے۔ بعض محققین کے مطابق یہ تعداد پندرہ ہزار سے زیادہ ہو گئی تھی۔ اسی دور میں جب شاہ خالد اور شاہ فہد سعودی عرب کے بادشاہ تھے، پاکستان جنرل ضیاالحق کی قیادت میں امریکہ کی ‘فرنٹ لائن سٹیٹ’ تھا۔

سنہ اسّی کی دہائی میں جب پاکستان امریکہ سے ایف سولہ لڑاکا طیارے خرید رہا تھا تو پاکستان کو ان طیاروں کی قیمت ادا کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی اور تقریباً پچاس کروڑ ڈالرز کم پڑے رہے تھے، جو سعودی عرب نے امریکہ کو ادا کیے۔

معروف دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کے مطابق، امریکہ سے فوجی طیارے خریدنے کے لیے اس طرح کی سعودی امداد پاکستان، امریکہ اور سعودی عرب کے سہ فریقی تعلقات کی نوعیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات
بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں سعودی عرب میں شاہ فیصل جیسا مغربی بالادستی کے خلاف مزاحمت کرنے والا حکمران نہیں تھا

بےنظیر بھٹو: فوج اور سعودی عرب

جنرل ضیا کی سنہ 1988 میں ایک طیارے کے حادثے میں ہلاکت کے بعد انتخابات ہوئے جس میں بےنظیر بھٹو کی جماعت پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی۔ ان کی جماعت کو قطعی اکثریت نہیں مل سکی تھی اس لیے انھیں ایک مخلوط حکومت بنانا پڑی تھی۔ بےنظیر بھٹو کو ایک تو پاکستان ملا جو اب مکمل طور پر سنہ 1973 کے آئین کے مطابق نہیں تھا، یعنی اب فوج کی اقتدار میں برتری بہت واضح طور پر نظر آرتی تھی۔

دوسرے یہ کہ سعودی عرب میں اب شاہ فیصل جیسا مغربی بالادستی کا مخالف مزاحمت کرنے والا حکمران نہیں تھا۔ بے نظیر بھٹو کے زمانے میں پاکستان کے سعودی عرب سے تعلقات میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا کیونکہ یہ وہ دور تھا جب تمام اہم تزویراتی فیصلے بالواسطہ طور پر فوج کرتی تھی اور اُس وقت کہ معمر ترین بیوروکریٹ غلام اسحاق خان پاکستان کے صدر تھے جو اسٹیبلشمنٹ کے اہم جُزو سمجھے جاتے تھے اور وہ بےنظیر بھٹو پر ‘نظر’ رکھنے کا کردار اد کرتے رہے۔

بےنظیر کے خلاف حزب اختلاف نے مسلسل دباؤ ڈالے رکھا۔ یہاں تک کہ بے نظیر کی مخلوط حکومت کے خلاف ایک تحریکِ عدم اعتماد بھی لائی گئی۔ بعد میں تحقیقی کام کرنے والے صحافیوں نے ایسی کچھ معلومات حاصل کیں جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ سعودی عرب اور اُسامہ بن لادن نے بے نظیر حکومت کو گرانے کے سلسلے میں پسِ پردہ رہ کر حزبِ اختلاف کی مالی معاونت کی تھی۔

بےنظیر بھٹو کے زمانے میں عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین نے دو اگست سنہ 1990 کو کویت پر حملہ کر کے قبضہ کرلیا تھا۔ کویت کے قبضے کے خلاف سعودی عرب نے دنیا بھر سے مدد مانگی۔ امریکہ میدان میں کود پڑا۔ تاہم بے نظیر بھٹو نے عراق کے خلاف فوجی کارروائی کی ابتدائی طور پر مخالفت کی تھی اور سفارت کاری پر زور دیا۔

تاہم سعودی عرب عراق کے خلاف فوجی کارروائی چاہتا تھا۔ کویت پر عراق کے قبضے کے چار دن بعد بے نظیر کی حکومت کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت صدر غلام اسحاق نے برطرف کر دیا۔

جنرل اسلم بیگ اور کویت پر عراق کا حملہ

بے نظیر کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ نے صدام حسین کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی پر ایک تبصرے میں کہا کہ عراق میں ایک اور قربانی کی جنگ ہونے والی ہے اور انھوں ‘سٹریٹجک ڈیفائنس’ کی تھیوری پیش کی تھی۔

عام تاثر یہ بنا کہ شاید جنرل اسلم بیگ کا پاکستان اس جنگ میں صدام حسین کا ساتھ دے گا، لیکن جب جنگ کے حالات واضح ہو گئے تو پاکستانی فوج کا ایک دستہ سعودی بادشاہت کی حفاظت کے لیے سعودی عرب روانہ کر دیا گیا۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات

نواز شریف نے جنرل ضیاالحق کے مشن کو جاری رکھنے کا عزم کیا

نواز شریف اور جنرل ضیا کی باقیات

اسی برس 24 اکتوبر کو اسلامی جمہوری اتحاد کے نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور نگراں وزیرِ اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کی جگہ پنجاب کے وزیراعلیٰ نوازشریف وزیرِ اعظم بنے۔

اُن کے زمانے ہی میں پاکستانی فوج کے دستے سعودی عرب بھیجے گئے۔ یہ فوجی دستے وہی ہیں جنھوں نے کویت پر عراق کے قبضے کے دوران سعودی بادشاہت کی حفاظت کی تھی۔

جنرل ضیاالحق کے قریب رہنے اور اُن کے رفقا اور مذہبی شدت پسندوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی وجہ سے نوازشریف سعودی عرب کے معتمد ساتھیوں میں شامل ہوگئے۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات

جنرل مشرف پاکستانی فوج کے سربراہ بنتے ہی سعودی حکمرانوں کے قریب ہوگئے تھے

جنرل مشرف: 9/11 اور سعودی عرب

جنرل مشرف کیونکہ خود فوج سے تعلق رکھتے تھے اس لیے انھیں سعودی عرب سے تعاون میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ 11 ستمبر سنہ 2001 میں نیویارک میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد امریکی پالیسی اس خطے میں ایک مرتبہ پھر بدلی، اور پاکستان اُس کی دہشت گردی کی جنگ میں دوبارہ ‘فرنٹ لائن سٹیٹ’ بن گیا۔

پاکستان امریکہ کا ‘نان نیٹو’ اتحادی بھی قرار پایا۔ ان وجوہات سے پاکستان جو کہ پہلے ہی سے سعودی عرب کا بہترین اتحادی تھا، اُس کی دوستی کو نئی جہت مل گئی۔

ایک بات عموماً نجی حلقوں میں کہ جاتی ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ کو سعودی عرب میں بادشاہ کے بھائی کے برابر کا پروٹوکول ملتا ہے۔ اس قسم کا پروٹوکول جنرل مشرف کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی ملا۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات

سعودی عرب کی سنہ 2016 کی وہ فوجی مشق جس میں کئی اسلامی ممالک کی افواج سمیت پاکستان کے فوجی دستوں نے بھی شرکت کی

آصف زرداری اور سعودی سردمہری

پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ نواز شریف پاکستان واپس آگئے۔ بے نظیر بھٹو سنہ دسمبر 2007 میں ایک خودکُش حملے میں ہلاک ہوگئیں۔ سنہ 2008 انتخابات میں کامیابی کے بعد پیپلز پارٹی کو ایسی کامیابی ملی کہ وہ پنجاب میں حکومت نہ بنا سکی۔ تاہم بے نظیر کے شوہر آصف علی زرداری پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے لیکن وکی لیکس میں امریکی خفیہ مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت سعودی عرب نواز شریف کو پاکستان میں ‘ہمارا آدمی’ کہتے تھے۔

زرداری کے سعودی عرب سے جس قسم کے تعلقات رہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وِکی لیکس میں شائع ہونے والے ایک امریکی مراسلے کے مطابق سعودی بادشاہ شاہ عبداللہ کی ترجیح تھی کہ پاکستان سے جنرل مشرف جیسا حکمران جائے کیونکہ وہ آصف علی زرداری سے شدید نفرت کرتے تھے۔ لیکن اس حکومت کے زمانے میں بھی سعودی عرب نے سیلاب زدگان کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز سے زیادہ کی امداد بھی بھیجی۔

آصف زرداری کے دورِ صدارت میں ایران-پاکستان گیس پائپ لائن کے باقاعدہ آغاز کا معاہدہ ہوا تھا۔ یہ گیس پائپ لائن بلوچستان کی سرحد تک پہنچ چکی ہے، لیکن پاکستان نے اپنے حصے کی گیس پائپ لائن تعمیر کرنا تھی۔ زرداری کا دور ختم ہوگیا اور نواز شریف کا دور آگیا۔ یہ پائپ لائن اب بھی نامکمل ہے۔

اب یہ عمران خان کی خارجہ پالیسی ثابت کرے گی کہ صدر زرداری کے زمانے میں طے پانے والے معاہدے والی ایران-پاکستان گیس پائپ لائن، امریکی پابندیوں کی وجہ سے مکمل نہ ہو سکی یا نواز شریف کے سعودیوں سے خصوصی مراسم کی وجہ سے۔

سعودی عرب پاکستان تعلقات
ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب کی دہشت گردی کے خلاف 41 ممالک کے اتحاد کی افواج کا سربراہ بنایا گیا

نواز شریف کی تیسری حکومت

پیپلز پارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب مسلم لیگ سنہ 2013 کے انتخابات میں فاتح بن کر ابھری تو اسے سعودی عرب کی پاکستان میں ایک بڑی کامیابی سمجھا گیا۔

اس طرح ان کے اقتدار میں آتے ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں جو پیپلز پارٹی کے دور میں سرد مہری تھی وہ ایک دم سے گرم جوشی میں بدل گئی اور نواز شریف کی حکومت کی مالی مدد کے لیے سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالرز دیے۔

جنرل راحیل شریف اور سعودی نوکری کی اجازت

جب نواز شریف کے دور میں ان کے نامزد کردہ چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ریٹائر ہوئے تو سعودی عرب نے انھیں فوراً دہشت گردی کے خلاف قائم کی گئی چالیس کے قریب اسلامی ممالک کی افواج کے اتحاد کی سربراہی کے لیے دعوت دی۔

پاکستانی حکومت نے جنرل راحیل شریف کو اس معاملے میں این او سی بھی جری کیا اور کسی اور جگہ نوکری کرنے کی دو برس تک کی پابندی سے استثنیٰ دے دیا۔ اس طرح کا استثنیٰ دوسرے ملکوں میں کم ہی ملتا ہے۔ امریکہ میں ایسا استثنیٰ جان میٹِس کو دیا گیا تھا، وہ بھی صدر ٹرمپ کا وزیر دفاع بننے کے لیے، نہ کہ بیرون ملک نوکری کرنے کے لیے۔

نیا پاکستان اور نیا سعودی عرب

حال ہی میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو سعودی عرب نے تقریباً چھ ارب ڈالرز کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کے دوران تقریباً 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔

لیکن دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی اس فراخدلی کے جواب میں کیا خدمات سر انجام دے گا۔ چین کی سرمایہ کاری کے بارے میں تاثر ہے کہ پاکستان نے چین کو مشرق وسطی تک براہ راست رسائی کے لیے سٹریٹیجک نوعیت کی راہداری مہیا کی ہے تاہم پاکستان سعودی عرب کو کس قسم کی سٹریٹجک مدد دے سکتا ہے، اس پر ابھی کچھ واضح نہیں ہے کیونکہ ان کے درمیان تعلقات کی دستاویزات کم ہی ہیں۔

سعودی عرب کے ایک سابق مشیر برائے دفاعی امور، نواف عبید نے پاکستان اور سعودی تعلقات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ‘ہم نے اِنھیں مالی امداد دی، اور انھیں کہا کہ جس طرح آپ کا دل چاہیں اسے خرچ کریں، ہم ان سے لین دین کی عموماً دستاویزات بھی تیار نہیں کرتے ہیں، لیکن اس کے پیچھے ایک خیال مضمر ہے اور وہ یہ کہ ہر معاملے میں، لیکن خاص کر سکیورٹی اور عسکری معاملات میں سعودی عرب کو جب بھی ضرورت ہو گی، پاکستان وہاں ساتھ دے گا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •