ہم اپنا پورا سچ کیوں نہیں لکھ پاتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اپنی زندگی میں نجانے کتنے شاعروں‘ ادیبوں اور دانشوروں سے مل چکا ہوں جنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ کبھی بھی اپنا پورا سچ نہیں لکھ پائے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کہیں

کسی کے جذبات مجروح نہ ہو جائیں

انہیں شہر بدر نہ کر دیا جائے

انہیں جیل میں نہ ڈال دیا جائے

اور یا انہیں سولی پر نہ چڑھا دیا جائے۔

ان ادبی دوستوں کے بارے میں سوچتے ہوئے مجھے اپنی ایک غزل کے دو اشعار یاد آ رہے ہیں

کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا

ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا

اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں

نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوں کہ جب ایک بچہ کسی خاندان‘ سکول اور معاشرے میں پلتا بڑھتا ہے تو وہ ماحول اس کی تعلیم و تربیت کرتے کرتے اس کی

Social, religious and cultural conditioning بھی کر رہا ہوتا ہے۔ وہ معاشرہ اسے بتاتا ہے کہ وہ کیا

سوچ سکتا ہے

کہہ سکتا ہے

لکھ سکتا ہے۔

وہ معاشرہ بعض چیزوں کو مقدس سمجھتا ہے اور اسے بتاتا ہے کہ اگر اس نے ان مقدس چیزوں پر اعتراض کیا یا سوال اٹھایا تو اسے اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اسی لیے اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔

میں اپنی زندگی کے تجربے‘ مشاہدے‘ مطالعے اور تجزیے سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسان بنیادی طور پر آزاد ہے۔ اس کی آزادی کے دو بنیادی حوالے ہیں۔ ایک حوالہ روحانیت ہے اور دوسرا محبت۔ ایک روایتی معاشرہ روحانیت کے پرندے کو مذہب کے پنجرے میں اور محبت کے پرندے کو شادی کے پنجرے میں بند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ پرندے کچھ عرصہ پنجرے میں زندہ رہتے ہیں پھر پھڑپھڑانے لگتے ہیں اور اکثر اوقات پنجرے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں اور بہت سے انسان اور شادی شدہ جوڑے برس ہا برس ان پرندوں کی لاشوں کو محفل محفل لیے پھرتے رہتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ دیکھنے والے سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں۔ اس سچ کو مشرق و مغرب کے بہت کم لوگ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ

Religion can kill spirituality and marriage can kill love.

ایک ہیومنسٹ ہونے کی حیثیت سے میرا یہ موقف ہے کہ روحانیت انسانیت کا حصہ ہے اور روحانی تجربات مخصوص حالات میں ایک دہریے کو بھی اسی تواتر سے ہو سکتے ہیں جس تواتر سے کسی سنت‘ سادھو اور صوفی کو کیونکہ

Spirituality is part of humanity not divinity.

جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہر دور اور ہر معاشرے میں دو طرح کے انسان بستے ہیں۔ ایک گروہ اکثریت میں ہوتا ہے جو روایت کی شاہراہ پر چلتا ہے۔ میں اسےTraditional Majority کہتا ہوں۔ دوسرا گروہ اقلیت میں ہوتا ہے جو اپنے من کی پگڈنڈی پر چلتا ہے۔ میں اسے Creative Minority کا نام دیتا ہوں۔

ہر نسل اور ہر عہد میں اکثریت کا ایک سچ ہوتا ہے ایک تھیسسThesis ہوتا ہے جو روایت کہلاتا ہے۔اسی طرح اقلیت کا ایک سچ ہوتا ہے ایک اینٹی تھیسس ہوتا ہے جو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ روایت اور بغاوت، تھیسس اور اینٹی تھیسس‘ کچھ عرصے تک ٹکراتے ہیں پھر آہستہ آہستہ مل کر ایک سنتھیسس Synthesisتخلیق کرتے ہیں جس کی کوکھ سے دانائی جنم لیتی ہے۔ یہ دانائی اگلی نسل کی روایت بن جاتی ہے اور ارتقا کا یہ سلسلہ نسل در نسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ ایک نسل کے باغی دوسری نسل کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں۔ایک نسل کی پگڈنڈیاں اگلی نسل کی شاہراہیں بن جاتی ہیں۔

بہت سے ادیب‘ شاعر اور دانشور آزادیِ اظہار و گفتار کی بات کرتے ہیں لیکن بہت کم آزادیِ افکار پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جس کے لیے کسی خارجی آزادی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ سورن کرکیگارڈ نے اپنی ڈائری میں اس داخلی آزادی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے

Man almost never avails himself of his freedoms, freedom of thought, for instance, instead he demands freedom of speech

کرکیگارڈ زندگی کے اس راز سے واقف تھے کہ جب کوئی انسان اندر سے آزاد ہو جائے تو اسے کوئی خارجی طاقت پابند نہیں کر سکتی۔ ہر معاشرہ اظہار کی آزادی کے ساتھ ساتھ سوچ پر بھی پابندی عاید کرتا ہے۔ جب لوگ ان شجرِ ممنوعہ موضوعات کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں تو وہ جلد ہی احساسِ گناہ‘ احساسِ ندامت اور احساسِ خجالت کا شکار ہو جاتے ہیں جو جلد یا بدیر نفسیاتی مسائل کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔

جب ہم آزادانہ طور پر سوچ نہیں سکتے محسوس نہیں کر سکتے تو ہم اپنے خیالات اور جذبات کو اپنے لاشعور میں دھکیل دیتے ہیں Repress کر دیتے ہیں۔ لاشعور میں جانےکے بعد وہ جذبات اور خیالات خطرناک بن جاتے ہیں۔ وہ ذہن میں ایک تہلکہ مچاتے ہیں۔ ایک طوفان کھڑا کر دیتے ہیں۔ اور بعض دفعہ ایسے انسان اپنی زندگی کا توازن قائم کرنے کی کوشش میں ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور ان کے عزیز انہیں کسی پاگل خانے داخل کروا آتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ ایسے دیوانے کے ساتھ نہیں رہ سکتے کیونکہ

دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے قیامت

دیوانے کو تنہا بھی تو چھوڑا نہیں جاتا

دیوانہ ایسا سچ بولتا ہے جسے ’مہذب معاشرہ‘ برداشت نہیں کر سکتا۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے میں نے نفسیاتی ہسپتالوں میں جب سکزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر کے مریضوں کا انٹرویو لیا تو مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ ان میں سے ایک بھاری اکثریت کیHallucinations and Delusions کا تعلق یا جنس سے تھا یا مذہب سے۔

کئی ذہنی مریض عورتوں نے عالم ِ دیوانگی میں مجھ سے کہا

 I am virgin Mary بعض نے کہا I am a whore

کئی ذہنی مریض مردوں نے عالمِ مجزوبیت میں کہا I am a queer

ان مریضوں نے مجھے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے بزرگوں سے اپنا سچ بیان کرنا چاہا تو انہیں گناہ و ثواب میں الجھا دیا گیا۔ انہیں ایسے حل بتائے گئے جن سے مسائل سلجھنے کی بجائے اور الجھ گئے۔

کسی معاشرے میں لوگوں کے پاگل پن سے بچنے کا ایک طریقہ اپنے انفرادی اور اجتماعی سچ کے تخلیقی اظہار میں ہے۔ شاعر‘ ادیب‘جرنلسٹ اور دانشور اپنے عہد کے ماہرینِ نفسیات‘ ریفارمر اور Visionariesہوتے ہیں جو انسانیت کو فردا کے خواب دکھاتے ہیں۔ وہ اپنے لوگوں کے جذبات، خیالات اور تضادات کا اظہار کرتے ہیں اور جب لوگ ان کی تحریریں پڑھتے ہیں تو انہیں ان کے اشعار میں اپنے خیالات اور جذبات کی گونج سنائی دیتی ہے اور ان کے افسانوں کے آئینے میں اپنی کہانی کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے انہیں خوشی ہوتی ہے انہیں سکون ملتا ہے۔ ان کا کتھارسس ہوتا ہے ان کیHealing ہوتی ہے اور ان کے زخموں پر مرہم لگتا ہے۔ انہیں مسائل سے نبدرآزما یونے کی ہمت ملتی ہے اور ان کی آنکھوں میں امید کی کرن ابھرتی ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ اس سچ کی ان دانشوروں کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ کیونکہ حبیب جالب جیسے شاعر اور سعادت حسن منٹو جیسے افسانہ نگار اصحابِ بست و کشاد کو ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ سعادت حسن منٹو کی طرح اوسکر وائلڈ اور برٹرنڈ رسل بھی اپنے عہد میں معتوب ٹھہرے اور میری تقی میر اور سارا شگفتہ کی طرح سلویا پلاتھ اور ارنسٹ ہیمنگوے بھی نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئے۔ ونسنٹ وین گو نے دیوانگی کی حالت میں اپنا کان کاٹ لیا اور ورجینیا وولف نے ڈیرپریشن کی حالت میں اپنے کوٹ کی جیبوں میں پتھر ڈال کر سمندر میں چلنا شروع کر دیا اور خود کشی کو گلے لگا لیا۔ ہر شاعر‘ ادیب اور دانشور کے خوابوں اور عذابوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عارف عبدالمتین لکھتے ہیں

میری عظمت کا نشاں‘ میری تباہی کی دلیل

میں نے حالات کے سانچوں میں نہ ڈھالا خود کو

ہر انسان اور ہر عہد کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ کتنا سچ کہہ سکتا ہے‘ لکھ سکتا ہے‘ برداشت کر سکتا ہے، قبول کر سکتا ہے اور ہضم کر سکتا ہے۔

جہاں تک میری ذاتی اور ادبی زندگی کا تعلق ہے جب میں نے اپنی نظموں‘ غزلوں‘ افسانوں اور سوانح عمری کے خاکوں میں اپنا سچ لکھنا شروع کیا تو میری والدہ نے کہا ’ سہیل بیٹا جو باتیں چھپانے کی ہوتی ہیں وہ آپ چھاپ دیتے ہیں۔‘

یہ میری خوش بختی ہے کہ جب میں سچ کی تلاش میں نکلا تو مجھے راستے میں بہت سے ہم خیال ہمسفر مل گئے۔ وہ میرے دوست بن گئے اور انہوں نے مجھے اتنی محبت دی کہ میں ان کی محبت کی بارش سے اندر تک بھیگ گیا۔

ایک ماہرِ نفسیات ہونے کے ناطے اب میرا موقف ہے کہ دنیا میں اتنے ہی سچ ہیں جتنے انسان۔ اس سچ میں ہماری خواہشیں‘ ہماری آرزوئیں‘ ہمارے آدرش اور ہمارے خواب سبھی شامل ہیں۔ اور ایک ہیومنسٹ ہونے کے ناطے میں ایسے معاشرے کا خواب دیکھتا ہوں جہاں ہر شخص کی بنیادی ضروریات پوری ہوں گی اور اسے موقع ملے گا کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے جائز خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کر سکے۔ وہ ایک باعزت زندگی گزار سکے۔

ہمیں ایسا معاشرہ تعمیر کرنا ہے جہاں ہر انسان اپنا پورا سچ بیان کر سکے اور لکھ سکے۔ ہم آج تک صرف ادھورے انسان کی ادھوری کہانی رقم کر پائے ہیں کیونکہ ہم ادھورا سچ لکھ پاتے ہیں۔ ہمیں پورے انسان کی پوری کہانی لکھنی ہے اور یہ کام ہر دور اور ہر قوم کے ادیبوں‘ شاعروں اور دانشوروں کی سماجی ذمہ داری ہے۔تا کہ انسانیت روایت‘ بغاوت اور دانائی کی منزلیں طے کر کے ارتقا کا سفر طے کر سکے۔ ہمیں ایک دن اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم سب دھرتی ماں کے بچے ہیں اور ہمارے دشمن بھی ہمارے دور کے رشتہ دار ہیں۔

میں پاکستان کے شاعروں‘ ادیبوں‘ جرنلسٹوں اور دانشوروں کا عمومی اورMother Language and Literature Festival کی نصرت زہرا کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے یہ سیمینار منعقد کیا اور مجھ جیسے درویش کو سات سمندر پار دعوت بھیجی۔ مجھے آپ سب کے خوابوں‘ آدرشوں اور قربانیوں کا دل کی گہرائیوں سےاحساس ہے۔ میں آپ کی خدمت میں اپنے تین اشعار پیش کر کے اجازت چاہتا ہوں

رات تاریک ہوئی جاتی ہے

ایک مہتاب سلامت رکھنا

راستے تنگ ہوئے جاتے ہیں

دل میں اک باب سلامت رکھنا

وہ تمہیں دار پہ لے جائیں گے

آنکھ میں خواب سلامت رکھنا

(یہ مضمون فروری 2019 میں اسلام آباد کے ایک سیمینار میں پیش کیا گیا۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 278 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail