سعودی ولی عہد کا دورہ: توقعات اور تحفظات


سعودی علی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنا دو روزہ دورہ پاکستان مکمل کر کے اپنے وطن واپس روانہ ہو چکے ہیں۔ ولی عہد کا دورہ، دورے کی تیاریاں، معمول سے زیادہ جوش و خروش اور بھاری سرمایہ کاری کے اعلانات کے یہ چند روز قومی سطح پر ہیجان سے بھرپور گزرے۔ دورے کی تیاریوں پر تنقید بھی کی گئی۔ کسی ولی عہد کو سربراہ مملکت کے درجے کا پروٹوکول دینے کی اس سے پہلے نظیر نہیں ملتی۔

میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ بسا اوقات مشکل صورتحال میں آپ کو ایک قدم آگے بڑھ کر تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اس تناظر میں یہ غیر معمولی اقدامات کافی حد تک جائز معلوم ہوتے ہیں، بالخصوص اس وقت جب سفارتی سطح پر سرمایہ کاری کے معاملات طے ہو چکے تھے جو ظاہر ہے کہ حکومتِ وقت کی بڑی کامیابی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی کوششیں یقیناً قابلِ تحسین ہیں، اور اس عمل میں ان کی شخصیت کا بڑا دخل ہے تاہم اس پورے عمل میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سعی کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔

خورشید محمود قصوری کے بعد پہلی بار پاکستان نے خارجہ محاذ پر بہتر پرفارم کیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں۔ سی پیک اور چین جہاں اس کی اہم کڑیاں ہیں، وہیں افغان امن عمل اور امریکہ کے لئے پاکستان کے مطلوبہ کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ خوش قسمتی سے اس وقت امریکہ کو پاکستان کے مثبت کردار کی ضرورت ہے، وگرنہ پلوامہ حملے کے بعد ایک بہت مختلف صورتحال دیکھنے میں آتی۔ خارجہ محاذ پر یقیناً حکومت نے بہتر پرفارم کیا ہے۔

اس دورے کے موقع پر بعض حلقوں کی جانب سے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کو خوب اچھالا گیا۔ جس کے ڈانڈے ظاہری طور پر سعودی ولی عہد سے ملتے ہیں۔ ہمیں کیونکہ ہر معاملے میں امہ کا ٹھیکیدار بننے کا شوق ہے تو ہم ہر اس معاملے میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں جس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہم سعودی ولی عہد یعنی مستقبل کے بادشاہ سے تعلقات اس لئے خراب کر لیں کہ اس نے ایک صحافی کو مبینہ طور پر قتل کروایا ہے؟

کیا ہم نہیں جانتے کہ دوست ممالک سعودی عرب، چین اور ایران میں مخالف نکتہ نظر کے اہل قلم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ جمال خشوگی اس لئے لائم لائٹ میں ہے کہ اسے مغربی میڈیا کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اور دوست ممالک پر ہی کیا موقوف، اہلِ صحافت کے ساتھ ہمارا اپنا سلوک کتنا مثالی ہے وہ دنیا جانتی ہے۔ اس لئے کسی دوسرے ملک کے ایسے معاملے میں ٹانگ اڑانا جس کا ہم سے لینا دینا نہیں، محض دل پشوری کے سوا کچھ نہیں۔ سعودی شہزادے کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں یا نہیں یہ فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں۔ اگر صدام حسین، قذافی، بشارالاسد، اور حسنی مبارک کے سُرخ ہاتھوں سے ہمارے ہاتھ گندے نہیں ہوئے تو خاطر جمع رکھیے کہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں سے بھی کچھ نہیں ہو گا۔

ہمارا مطمح نظر وہ سرمایہ کاری ہونی چاہیے جس کے معاہدے کیے گئے ہیں۔ بیس ارب ڈالر، قریب اٹھائیس کھرب روپے آپ کی معیشت میں داخل ہوں گے تو یقیناً معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، آئل ریفائنری کے قیام سے زرِمبادلہ کی بچت ہو گی، وغیرہ وغیرہ۔ تاہم یہ ضرور اہم ہو گا کہ معاہدوں کی تفصیلات سے پارلیمان کو آگاہ کیا جائے۔ سی پیک اور ایل این جی ڈیل کی طرح معاہدوں کی تفصیلات کے اخفا سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ اور آئندہ حکومتوں کو کیڑے نکالنے کا موقع ملتا ہے۔ تحریک انصاف سے زیادہ یہ کوئی نہیں جانتا ہو گا۔

پرجوش ماحول میں ہونے والے دورے کے دوران بعض زبردست مناظر دیکھنے میں آئے۔ سعودی شہزادے کی انگریزی میں تقریر خوش کن تھی۔ سعودی عموماً عربی میں بولنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اس سے پہلے امریکہ کے دورے کے دوران محمد بن سلمان کا انگریزی انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، تاہم انگریزی میں خطاب کی توقع نہیں تھی۔ ایک اور چیز دلچسپ تھی کہ شہزادے نے باکستان کی بجائے پاکستان کہا۔ جس پر حاضرین داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔

سعودی شہزادے کے اس جملے کہ آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کو سفیر سمجھیں، نے باقاعدہ طور پر میلہ لوٹ لیا۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کی درخواست اور سعودی حکام کی جانب سے فوری قبول کیے جانے کو بھی خوب سراہا گیا۔ دورے سے پہلے پیدا کی جانے والی ہائپ اور تشہیر پر بعض تحفظات کے باوجود اس دورے کو ہر لحاظ سے کامیاب قرار دیا جانا چاہیے۔

ایک اور مثبت پہلو اپوزیشن کا رویہ تھا۔ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت تحریک انصاف کی نسبت کافی میچور اور تجربہ کار ہے۔ شاید آپ کو یاد ہو کہ چینی صدر کے دورے کے حوالے سے عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ جھوٹو، چینی صدر تو آ ہی نہیں رہا تھا، جس پر چینی سفارتخانے کو وضاحت دینا پڑی تھی۔ پھر ترک صدر طیب اردگان کے دورے پر پارلیمان میں ہنگامہ آرائی سے قوم کی جگ ہنسائی ہوئی تھی۔

تحریک انصاف کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ دورہ تحریک انصاف کے لئے نہیں پاکستان کے لئے تھا، سعودی گرم جوشی کے پیچھے افغان امن عمل، عسکری ضروریات اور سرمایہ کاری پر نفع کمانا ہے، نہ کہ پاکستان کی مدد کرنا۔ مشترکہ مفادات ملکوں کو قریب لاتے ہیں۔ ملکوں کی سفارتکاری میں کوئی کسی کا دوست دشمن نہیں ہوتا۔ بہرطور اس دورے کے دوران مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی سطح پر کوئی امیچور رویہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ایک ستم ظریف دوست کہنے لگے کہ اپوزیشن میں رہ کر تحریک انصاف نے حکومت کرنے کی تیاری تو نہیں کی، لیکن حکومت میں رہ کر یہ ضرور سیکھ لیا کہ اپوزیشن کیسے کرتے ہیں!

میرے بہت سے قارئین اور دوست یہ گلہ کرتے ہیں کہ میں تحریک انصاف پر بہت تنقید کرتا ہوں۔ یقین کیجئے اس ملک میں تحریک انصاف پر تنقید کرنا مشکل ترین کام ہے۔ ن لیگ کے دور میں ہمیشہ ان کی خامیوں اور اندازِ حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ اور ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ کوئی ایک پوزیشن لے کر سیاہ کو سفید ثابت کرنے کی بجائے ایشو ٹو ایشو رائے دی جائے۔ حکومت کی ناپختگی، بلنڈرز کی سطح کو چھوتی ہوئے غلطیوں کی نشاندہی کی جائے اور کسی بھی مستحسن اقدام کی تعریف کی جائے۔ ہم میں سے کسی کا سچ بھی آفاقی نہیں ہو سکتا، لیکن اپنی اپنی سمجھ کے مطابق رائے قائم کی جا سکتی ہے۔

Facebook Comments HS