پاکستان کے راجہ گدھ
آرٹیکل ’راجہ گدھ کے مطابق قوم کی دیوانگی کا سبب‘ بانو قدسیہ کے ناول راجہ گدھ سے منسوب تھا، جس میں رائٹر نے بڑی خوبصورتی سے معاشرے کے اس طبقے پر روشنی ڈالی جو حرام مال پر پل رہا ہے۔
یہ آرٹیکل بھی اسی کڑی کا ایک تسلسل ہے، اس آرٹیکل میں پاکستان کے ’راجہ گدھ‘ جن کے بارے میں ہم جانتے تو ہیں لیکن کبھی بات نہیں کی، یہ وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے ملک برباد ہوا بھی اور ہو بھی رہا ہے، اور ہوتا بھی رہے گا۔ یہ لوگ کیسی گدھ سے کم نہیں ہیں، لالچ، خودغرضی، آلسی پن، نا اہلی، کاہلی، آنا اتی ہے کہ قدم زمین پر نہیں ٹکتے، مردار کھانے میں بھی یہ لوگ گدھ سے پیچھے نہیں ہیں ہاں البتہ یہاں مردار صرف کھانا نہیں اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔
اپ سوچ رہے ہوں گے کہ ان لوگوں میں ہم یعنی عوام نہیں ہیں تو اپ غلط سوچ رہے ہیں، ان لوگوں میں سیاستدان، بیوروکریسی، پولیس، ڈکٹیٹرز، عدلیہ عوام ہم سب ملوث ہیں شاید جتنا عوام ملوث ہے اتنا یہ باقی لوگ نہ ہوں،
جس معاشرے میں گدھے کا گوشت قصاب کی دکان پر ملتا ہے، منرل واٹر کی جگہ ہمیں زہر دیا جاتا ہے، جہاں چینی، آٹا، دودھ، گھی، تیل، سب کچھ جو ہم کھانے میں استعمال کرتے ہیں وہ ملاوٹ زدہ ہے، وہاں حرام بہت معمولی چیز ہے،
دوسروں کو درس دینے والے خود حرام خوری سے محل بنا کہ بیٹھے ہیں، ابھی کچھ زور پہلے ایک دوست نے اپنے علاقے کے ایک آدمی کی بات سنائی کہ وہ آدمی سودے کرواتا ہے، دلال کہ لیں، جھوٹ، دھوکہ دہی، فریب کی حرام کمائی کھاتا ہے، اس آدمی سے کیسی نے بڑی عید پر پوچھا کہ تم نے کوئی جانور نہیں لیا قربانی کے لیے تو اس نے کہا جیب میں حرام کی کمائی ہے قربانی جب قبول ہی نہیں ہونی تو لوگوں کو دکھانے کے لیے قربانی کا کیا فائدہ، اس نے اپنی حرام کی کمائی کو تسلیم کر لیا ہے اور انجام بھی پتا ہو گا، لیکن یہاں تو لوگ حرام کی کمائی سے ہر سال دیکھاوے کے لیے سیکنڑوں جانور قربان کرتے ہیں،
یہاں تو نسلیں اتنی ناپاک ہو چکی ہیں یا گندی عادت پڑ چکی ہے کہ نوکری حاصل کرنے سے پہلے رشوت کے پیسوں اور سفارش کے لیے کیسی آفسر کو تلاش کرتے ہیں۔ کوئی پولیس والا ناکے پر روکے تو ہمارا ہاتھ جیب میں ہوتا ہے، رشوت کو چائے پانی کا نام دے دیا گیا ہے، پولیس ایک گالی بن چکی ہے اج جو بندہ حرام اور حلال کے اثر کا انکاری ہے وہ ایک پولیس اہلکار اور ایک فوجی جوان میں فرق محسوس کرے، ایک کو کم گالی دیتے ہیں تو ایک کو سلوٹ کرتے ہیں۔
ہم پوری قوم غلط راستے پر گامزن ہیں، قانون سارے ہیں لیکن یہاں تو قانون بنانے والے بھی قانون پر عمل نہیں کرتے، یہاں قانون طاقتور کی حفاظت کرتا ہے، نظام ہمارا اتنا کھوکھلا ہے کہ ایک سیاستدان کو ایمرجنسی میں پیرول پر رہا کر دیا جاتا ہے کیا کبھی کیسی غرب کو اس طرح رہا کیا؟
چرچل نے کیا خوب صورت بات کی تھی کہ اگر برطانیہ کی عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو سمجھو برطانیہ ترقی کر رہا ہے، ہمارے ہاں تو سالوں کیس چلتا ہے سیشن، ہائی کورٹ سزائیں سناتی ہیں اور سپریم کورٹ بری کر دیتی ہے، یہاں ایک عام پاکستانی جو اس فیصلے کے خلاف ہو وہ سیشن اور ہائی کورٹ کو اہمیت دیتا ہے اور جو اس فیصلے کے حق میں ہو وہ سپریم کورٹ کو اہمیت دیتا ہے، کوئی طریقہ کار نہیں ہے،
پندرہ مرغیوں کا مبینہ چور سال سے جیل میں بند ہے اب اس کا کیس سپریم کورٹ میں سنا گیا ہے تو ضمانت ملی ہے، اور دوسری طرف وہ لوگ جو اس ملک کو لوٹ کر کھا گئے ان کے خلاف ثبوت نہیں ملتا، یہاں تو انصاف کو بھی ہنسی اتی ہو گی، شاہ رخ جتوئی اج تک جیل میں بند ہے کیا مقتولین کو انصاف مل، کوئی دوبئی میں ٹاور بنا کر برطانیہ سے واپس ہی نہیں آ رہا۔
فحاشی کے اڈوں پر زیادہ نہیں لکھوں گا بس معاشرے کی برائی ہے بات تو کرنی ہے تھوڑی سی، بس معاشیات کی زبان میں اتنا کہنا چاہوں گا کہ جب طلب (ڈیمانڈ) ہوتی تو ہی رسد (سپلائی) بڑھتی ہے ہمیں طلب کو کم کرنا ہو گا اصلاح، کتاب، حلال خوراک اور زنا کی بجائے نکاح سے یہ طلب ختم ہو سکتی ہے، جب طلب کم ہو جائے گی سپلائی خود ہی ختم ہو جائے گی۔ یاد رکھیں گندی مچھلی سے ہی اگے گندگی مچھلی پیدا ہوتی ہے۔
اگر حرام کھانے سے خون میں منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں تو حرام جنسی خوراک سے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے معاشرے میں لولے، لنگڑے، نا اہل، نا امید، دو سروں والے، تین ٹانگوں والے پیدا ہوتے ہیں، میں اس بات کا پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ زنا اور نکاح میں جسمانی تعلق بدل نہیں جاتا، اثرات کا فرق ہوتا ہے۔
جس اسلامی ملک کی پارلیمٹ میں اقلیتوں کے لیے شراب کی پابندی کا بل مسترد ہو جاے وہاں اقلیتوں کو مشیر بنانے پر لوگوں کو اسلام یاد آجاتا ہے، ہم ہر لال بتی کے پیچھے لگ کر ملک میں ہیجان کی سی کیفیت پیدا کر لیتے ہیں،
ہم اتنے نا امید، بے منزل لوگ ہیں ہیں کہ کوئی بھی سیاستدان آجاے ہم اسی کو لیڈر کہنا شروع کر دیتے ہیں، بیوروکریسی کی بات ہی کچھ اور ہے غریب ملک کی غریب عوام پر لوگ جاگیردار بیٹھا دیے ہیں جو شہزادوں کی طرح رہتے ہیں، چار چار گاڑیاں، سرکاری خرچے، ہاوسنگ سوسائٹی ان افسروں کے پلاٹوں سے بھری پڑی ہیں، مجھے کیسی کی جائداد بنانے سے اختلاف نہیں ہے لیکن بناؤ تو اپنی حلال کی کمائی سے غریب کی جیب کیوں کاٹتے ہو۔
سیاستدانوں کی سوچ اس حد تک منافق ہو چکی ہے کہ انہیں پتا ہے کہ یہ قوم چور، ڈاکو، قاتل سب کو منتخب کر لیتی ہے، اس لیے وہ جو مرضی کر لیں پانچ سال بعد پھر ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں،
یہ کچھ اثرات جو ہم میں بشمول پوری قوم میں مرتب ہوئے جن کا موجب کہیں نا کہیں حرام خوراک، حرام جنسی تعلقات، رشوت، دھوکہ دہی، فریب، اور یہ ہمارا سودی نظام جس میں قرض کا سود چکانے کے لیے نسلیں کنگال ہو جاتی ہیں، اسلام میں سود حرام ہے، اور پھر ہم اسلامی ملک کہ کر بھی خود دے جھوٹ بولتے ہیں۔


