اسلام آباد کے چڑیا گھر میں جانوروں کا ارادی قتل


 پاکستان میں اگر چہ کرپشن کے خلاف مہم جاری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کرپشن اس مہم سے زیادہ شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا جو تصور دیا تھا، اس کے مطابق اختیارات تو نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوسکے البتہ کرپشن کا زہر سر سے پاؤں تک سرائیت کیا ہوا واضح نظر آتا ہے۔

وفاقی دارالحکومت کے چڑیا گھر نے بھی اس سلسلے کو کافی آگے بڑھایا ہے۔ گزشتہ روز وزارت موسمیات کی وفاقی وزیر زرتاج گل نے ایک کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ چڑیا گھر کے شیر کو دوکلو شیور مرغی کا گوشت کھلا کر ٹرخادیا جاتا ہے اور شیر کے لئے آنے والا آٹھ کلو گوشت چڑیا گھر کے ملازمین اپنے گھروں کو لے جاتے ہیں۔ محترمہ زرتاج گل کا یہ انکشاف سن کر کچھ دیر کے لئے مجھے ایسے ایسے محسوس ہوا جیسے چڑیا گھر کے شیر کو مسلم لیگ (ن) کا انتخابی نشان ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔

یہ محض اتفاق ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا تاحیات قائد میاں نواز شریف بھی سلاخوں کے پیچھے ہے اور اس کا انتخابی نشان شیر بھی لوہے کی سلاخوں والے پنجرے میں قید ہے اور یہ بھی اتفاق ہی کہا جاسکتا ہے کہ میاں نواز شریف کو بھی کھانوں کے حوالے سے اعتراضات ہیں اور ان کا شیر بے زبان ہونے کی وجہ سے ”پریس کانفرنس“ کرکے یہ اعتراضات کرنے سے عاری ہے۔ اس وقت چڑیا گھر کے شیر اور میاں نواز شریف کی صحت بھی حیرت انگیز طور پر ملتی جلتی ہے۔ اہم سوال تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف کی بدولت ان کے بچے کھرب پتی ہیں اور پارٹی کے پاس بھاری ووٹ بنک بھی ہے اس لئے ان کی قیدوبند کی صعوبتیں تو سمجھ میں آتی ہیں لیکن بے زبان شیر کا کیا قصور ہے؟

جو ظلم چڑیا گھر کے شیر کے ساتھ کیا جارہا ہے اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی چڑیا گھر کی نگرانی ”انصاف پسند“ ملازمین کو دیدی گئی ہے، لہٰذا ان کے نزدیک مسلم لیگ (ن) کے انتخابی نشان شیر پر ہر طرح کا ظلم جائز اور قانونی ہے کیونکہ محبت، سیاست اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔

مگر چڑیا گھر کے ملازمین نے اپنے ظلم کے لئے صرف شیر کو ہی ”تختہ مشق“ نہیں بنایا بلکہ چڑیا گھر میں موجود 7 نیل گائے بھی پر اسرار طور پر جان کی بازی ہار چکی ہیں اور ایف آئی اے کی تحقیقاتی ٹیم کو یہ شواہد ملے ہیں کہ ان جانوروں کو زہر دے کر مارا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی اس ابتدائی رپورٹ سے معلوم ہوتاہے کہ چڑیا گھر کی نگرانی کرنے والے ملازمین نریندر مودی اور ہندوؤں سے بھی ذاتی دشمنی کا اظہار کر رہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ کچھ ملازمین نے ان بے زبان نیل گائے کی جان صرف اس لئے لے لی ہو کہ بھارت میں گائے ذبح کرنے والے مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے لہٰذا پاکستان میں گائے کا قتل عام کرکے ہندوؤں کی ”ماں“ مار دی جائے۔ چڑیا گھر کے ملازمین نے اس اقدام سے دو ”اہداف“ حاصل کیے ہیں۔ اول گائے کو زہر دے کر مرنے سے پہلے ذبح کرکے مسلمانوں کے لئے گوشت حلال کرلیا اور نریندر مودی اینڈ کمپنی کو بھی کرارا جواب دیدیا۔ کرارا اس لئے کہ گائے کا گوشت ہوتا ہی بہت کرارا ہے۔

چڑیا گھر کے ملازمین اپنے فن میں بہت بڑے ”کاریگر“ ثابت ہوئے ہیں، لوگ چڑیا گھر میں جنگلی جانوروں اور پرندوں کو دیکھنے جاتے ہیں تاکہ ان کے بچے بھی جانوروں کو دیکھ کر جنگلی حیات سے واقفیت حاصل کریں لیکن چڑیا گھر دراصل ملازمین کے لئے شکارگاہ ہے کیونکہ یہ بھی اطلاعات ملی ہیں کہ چڑیا گھر کے ہرنوں کو بھی یہ ملازمین ”شکار“ کرکے بہت اہم شخصیات کو ان کا گوشت تحفے کے طور پر بھجواتے ہیں۔ بڑا گوشت ملازمین خود کھاتے ہیں جبکہ ہرنوں کا گوشت اعلیٰ سیاسی شخصیات اور بیوروکریٹس کو پیش کرکے اپنی آئندہ کی ”سرکاری منزلیں“ آسان کرلیتے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے چڑیا گھر کی ہاتھی (سہیلی) محض اس لئے موت کی وادی میں اتر گئی کہ اس کی دیکھ بھال کے لئے مہاوت نہ مل سکا۔ حالانکہ یہ ایک بہانہ تھا جبکہ حقیقت یہ تھی کہ چڑیا گھر کے سرکاری ”کاریگر“ اس اصول سے بخوبی واقف تھے کہ زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے۔ اس ہاتھی کی کھال کتنے میں فروخت ہوئی اوردانتوں کی قیمتیں کیا لگیں؟ یہ سارے حقائق ایف آئی اے اکٹھے کرنے میں مصروف ہے اور چھ ملازمین کو ذمہ دار ٹھہرایا جاچکا ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایف آئی اے تمام ثبوت اور شواہد اکٹھے کرنے کے باوجود کچھ بھی نہ کرسکے کیونکہ چڑیا گھر کے ان ”سرکاری شکاریوں“ نے جن بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو قیمتی ہرنوں کا گوشت کھلایا ہے آخر وہ کب کام آئے گا؟

وفاقی دارالحکومت کا چڑیا گھر کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماتحت ہے اور سی ڈی اے کو اسلام آباد میں سب لوگ ”کرپشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی“ کے نِک نیم سے پکارتے ہیں۔ میرے ذاتی خیال میں اگر کسی طالبعلم نے کرپشن پر مقالہ تیار کیا تو اس کو سی ڈی اے سے اتنا مواد مل جائے گا کہ اسے کسی دوسرے ادارے میں جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ کیونکہ سی ڈی اے وہ واحد ادارہ ہے جس میں کرپشن کی تمام اقسام بدرجہء اتم موجود ہیں۔ شہر میں آوارہ کتوں کو مارنے میں کرپشن، ڈینگی اور دیگر مچھر مار سپرے میں کرپشن، پانی کی سپلائی میں کرپشن، پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں کرپشن اور بے زبان جانوروں کی خوراک میں کرپشن اور بے زبان جانوروں کو مار کر ان کا گوشت تقسیم کرنے میں کرپشن، سی ڈی اے کی کرپشن کے ”شاہکار“ ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ سی ڈی اے اور اس کے ماتحت اداروں کو کرپشن کے حوالے سے لاعلاج قرار دے کر ان کے باہر ”کرپشن کے عجائب گھر“ کی تختیاں لگا دے۔ تحریک انصاف کی حکومت کو اب یہ بھی یقین دلانا پڑے گا کہ وہ صرف انسانوں کے حقوق کے ہی ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ بے زبان جانور اور پرندوں کی حفاظت بھی اسی حکومت کا کام ہے۔

Facebook Comments HS

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 105 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat