یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا


”ہمیر جی ڈھانی“ تحصیل ڈیپلو کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جس میں ضلع تھر پارکر کا ایک بڑا شاعر اور قانوندان پریت پال سنگھ راجپوت رہتا ہے، جس سے میری شناسائی جنموں کی سی ہے، شاعر اور شاعری کے موضوع پر میری اور اُس کی بہت ساری فنی و فکری نشستیں ہوتی رہتی ہیں۔ شاعری کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ”شاعری ہوا کی لہروں کی مانند ہے، پیڑ سے گرتے ہوئے پتے کو زمین تک پہنچنے سے پہلے ردہم سے نیچے آنا پڑتا ہے، اس میں جو آپ کو جو ترنم محسوس ہوتا ہے وہ شاعری ہے“۔

یہ تو ہیں وہ باتیں جو شاعر حضرات شاعری کی تعریف میں کہتے ہیں لیکن شاعری اپنی تعریف خود کرتی ہے، جو شاعری زمانے سے زمانوں تک چلتی ہے وہ شاعری کبھی نہیں مرتی، لیکن جو شاعری ایک زمانے میں چل کر ایک زمان میں محدود ہوتی ہے وہ شاعری گمنامی کی غفاؤں میں سوجاتی ہے۔ اردو شاعری کے بہت سارے نام ہیں جن کی شاعری کا چرچہ ایک زمانے سے لے کر آج کے زمانے تک ہے اور آنے والی کئی زمانوں تک ہوگا۔ ایسے ہی ایک شاعر جون ایلیا ہیں، جون ایلیا امروہہ میں علامہ شفیق حسن ایلیا کے گھر میں پیدا ہوئے، ان کے والد فلسفہ و فلکیات میں ماہر سمجھے جاتے تھے۔

جنگ اخبار کے صفحات پر قطعات سجانے والے رئیس امروہی اور سید محمد تقی ان کے بھائی تھے، جون کی معنی وضع اور بھیس کے ہیں، اور ایلیا فنکاروں اور دانشوروں کی اساطیری بستی تھی۔ بٹوارے کے کافی عرصے بعد وہ پاکستان چلے آئے لیکن یہاں آنے کے بعد بھی ان سے اپنا وطن امروہہ نہ بھولا گیا، جون کی شاعری میں امروہہ کی خوشبو باقی رہی، ان کی شاعری میں امروہہ کا ذکر ایسے کیا گیا ہے۔

جون بڑا ہرجائی نکلا، پر وہ تو بیراگی تھا
ایک رسیلی، ایک انیلی، البیلی امروہن کا

یہ انسانی تاریخ کا المیہ ہے کہ انسانی ذات کی تاریخ خون سے لت پت رہی ہے، خدا کے بندوں نے خدا کے نام پر بہت خون بہایا ہے، وحشی انسانی قبائل سے لے کر آج کے مہذب سمجھے جانے والے انسان نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، پہلے تلوار کی دھاریں اور اب ایٹم بم انسانی احساسات کا خون کر رہے ہیں، اور انسانیت کسی کونے میں بیٹھ کر ماتم کر رہی ہے، ہر کوئی اپنی بات منوانے پہ تلا ہے، اختلاف رائے رکھنا ایک جرم سا ہوگیا ہے، جون اپنی نثر کی شاہکار کتاب ”فرنود“ میں لکھتے ہیں کہ ”ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کے سوا اور کچھ نہیں کر رہے“ جون ایلیا کے یہ الفاظ بہت سی باتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ایک ہی تو حادثہ ہے، اور وہ یہ کہ آج تک
بات نہیں کہی گئی، بات نہیں سنی گئی

اردو میں ان کی خدمات صرف شعر وشاعری اور نثر تک محدود نہ رہیں، وہ کم و بیش پانچ سال اسماعیلی ایسوسی ایشن میں بطور تحقیق و تصنیف کے شعبہ کے سربراہ رہے، یہاں پر انہوں نے بہت کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا، جن میں اسلامی تاریخ کی مشہور جماعت اخوان الصفا کے وہ رسائل بھی تھے، جن میں عشق، فلسفہ، ریاضی سے لے کر بہت سے موضوعات پر لکھا گیا ہے، علی عباس جلالپوری اپنی کتاب ”خرد نامہ جلالپوری“ میں اخوان الصفا کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”عباسی دور میں ایرانی عالموں کی ایک خفیہ انجمن کے ارکان تھے، ان کا تعلق فرقہ باطنیہ سے تھا، انہوں نے مل کر دسویں صدی کے اواخر میں 51 رسائل تصنیف کیے، گویا اس زمانے کے مروجہ علوم کی انسائیکلوپیڈیا مرتب کی“۔ ان کے دوسرے کیے ہوئے تراجم میں ”کتاب الطواسین، اخبار الحلاج، جوہر صقلی اور دوسری کتابیں شامل ہیں۔

انہوں نے انشا نامی ڈائجسٹ کا اجرا بھی کیا، جس کا نام بعد میں عالمی ڈائجسٹ رکھا گیا، جو 1988 تک چلتا رہا۔ بعد میں ان کے دوست معراج رسول کے اسرار پر سسپنس ڈائجسٹ کے لیے بھی اداریے لکھے۔ اردو ترقی بورڈ کی طرف سے لغت کبیر کی تدوین کے سلسلے میں جون ایلیا سے خدمات حاصل کی گئیں۔ بڑی سی بڑی دقیق الفہم بات کو اسیر الفہم بنانے والے اس شاعر کی صرف شاعری ہی نہیں نثر بھی اپنی مثال آپ ہے، چاہے وہ (انشا) عالمی اور سسپنس ڈائجسٹ میں لکھے گئے وہ انشائیے ہوں یا ان کے تراجم۔

جون ایلیا اردو شاعری میں اپنے منفرد انداز بیان کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، بات کتنی ہی پیچیدہ ہو لیکن جون کی شاعری میں آکر وہ بالکل سادہ ہوجاتی ہے، کسی فلسفی نے خوب ہی کہا کہ ”شاعر کے پاس اتنی طاقت ہوتی ہے کہ فلسفے کی 100 کتابوں کا جواب دو سطور میں دے سکے“ وہ اس فلسفی کی بات کا ثبوت تھے اور ان کے کئی اشعار ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے کہ:

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا

جو گزاری نہ جاسکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھی
ہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں

جس طرح جدید سندھی شاعری کی امام سمجھے جانے والے شاعر شیخ ایاز کلاسیکی شاعری میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کو چھوڑ کر باقی کلاسیکی شعرا کو چند سطور کا شاعر کہتے ہیں، اسی طرح اردو میں جون ایلیا بھی اردو شاعری کے معتبر نام مرزا غالب کو پچیس اشعار کا شاعر کہتے ہیں، عرفان جاوید کے بقول وہ اپنے آپ کو برتر سمجہتے تھے، اور اپنے والد کو آپ سے بھی برتر۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ”شاید“ کے نام سے 1990 میں منظر عام پر آیا، جس میں لکھا گیا نیازمندانہ بہت ساری باتیں بتاتا ہے مثلا کہ شاعری کا مجموعہ اتنی دیر کہ بعد کیوں چھپا؟ اور بہت سارے سوال، بہت سارے جواب۔

2002 میں ان کی وفات کے بعد محترم خالد احمد انصاری نے ان کی شاعری کی بکھری شاعری اور مضمامین چھپوانے کا عہد کیا، اور 2004 میں ”گمان“ 2006 میں ”لیکن“ 2008 میں گویا اور حال ہی میں ”راموز“ جیسے شعری مجموعے جون کے پرستاروں کے نظر کیے، جون کی نثری شاہکار کتاب ”فرنود“ کو بھی انصاری صاحب نے ترتیب دیا ہے، اب ذرا ان کی نثر کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں :

”آج ہر وہ شخص دانشور، شاعر اور نقاد ہونے کا مدعی ہے، جو سماج کا سب ہے زیادہ نالائق فرد ہو“
”سچ سب سے بڑا جھوٹ ہے، اور انسان بہت سچا ہے کہ اس نے یہ جھوٹ کبھی نہیں بولا“
”سارا مسئلہ پیٹ کا ہے، اگر پیٹ خالی ہے تو نہ فن کی کوئی معنی ہیں اور نہ فکر کی“

Facebook Comments HS