پاک سعودی دوستی تاریخ کے آئینے میں
روئے زمین کی مقدس ترین سرزمین عالم اسلام کا ڈھرکتا ہوا دل سعودی عرب کی عزت وشرف کسی ذی ہوش مسلمان پرمخفی نہیں۔ کیوں نا ہو، وہاں مسلمانوں کے دو متبرک ومقدس روحانی و تاریخی مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی صورت میں موجود ہیں۔ دنیا میں موجود ہرمسلمان کی دلی خواہش ہے کہ حرمین شریفین کی زیارت اسے نصیب ہو۔ پاکستان اور سعودی عرب کا دوستانہ رشتہ اور تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی ان ملکوں کی تاریخ۔ سعودی عرب نے ہر کڑے اور مشکل حالات میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا پاکستان نے بھی ہمیشہ دوستی کا بھرم رکھتے ہوئے حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کے دفاع کے لئے لبیک کہا۔
سعودی عرب اپنی ترقی کے ابتدائی دنوں سے ہی پاکستان کے خیرخواہ نظرآتے ہیں شاہ سعود وہ پہلے فرمانروا تھے جنہوں نے پاکستان کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا جو وقت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط ترہوتے گئے۔ 1951ء میں پہلی مرتبہ شاہ سعود پاکستان تشریف لائے اور پاکستان کے ساتھ پہلا معاہدہ کیا۔ شاہ سعود کے بعد شاہ فیصل شہید نے اس دوستی کومزید فروغ دیا۔ 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کے موقع پرسعودی عرب نے بڑے پیمانے پر پاکستان کی مددکی ساتھ ہی مسئلہ کشمیر پر تمام تردباؤ کومسترد کرتے ہوئے سعودی عرب نے کھل کر عالمی میدان میں پاکستان کی موقف کی تائید کی۔ عالم اسلام کے اتحاد کے داعی اور عالم اسلام کے محبوب ترین لیڈر شاہ فیصل 1966ء میں پہلی مرتبہ پاکستان تشریف لائے آپ نے اس دورے میں جہاں ملکی مفادمیں اور بہت سے معاہدہ کیے پاکستان کے مسلمانوں کو جامع مسجد شاہ فیصل کی صورت میں دیدہ زیب دلفریب مسجد کا تحفہ دیا جو کہ فن تعمیر کا نایاب شاہکار ہے۔
1967ء میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان پہلا فوجی معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کی افواج کوسونپاگیا۔ 1968 ء میں سعودی عرب نے معاہدہ کے عین مطابق برطانوی ہوابازوں اورفنی ماہرین کورخصت کر کے پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کیں۔ 1973 ء میں جب ملک خداداد میں سیلاب آیا اور سوات سمیت خیبرپختونخوا کے کئی علاقے تباہ ہوگئے اس مشکل وقت میں شاہ فیصل نے پاکستان کی بھرپور مالی مدد کی، بعد ازاں سوات کے زلزلہ زدگان کی بحالی تعمیر وترقی کے لئے ایک کروڑ ڈالرکاعطیہ دیا۔
دوسری اسلامی سربراہی کانفرس 1974 ء میں پاکستان میں منعقد ہوئی، دوسری اسلامی سربراہی کانفرس کا پاکستان میں انعقاد سعودی بادشاہ شاہ فیصل شہید ہی کی فیاضانہ مالی تعاون اور سرپرستی کانتیجہ تھا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے دوران پاکستانیوں کی جانب سے شاہ فیصل کاعقیدت سے بھرپور پرتپاک استقبال تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ شاہ فیصل کے شہادت کے بعد بھی تعلقات کی گہرائی بڑھتی ہی رہی، جنرل ضیاالحق مرحوم کے ساتھ سعودی فرمانروا اور ولی عہد کے تعلقات مثالی رہے دین سے قربت ہونے کی وجہ سے جنرل صاحب کی عرب کے دینی طبقہ خاص کر کے حرم شریف کے اماموں کے ساتھ غیرمعمولی مراسم قائم تھے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں محمد نواز شریف کے ادوار میں بھی پاک عرب تعلقات مستحکم رہے۔ 2006 ء میں جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کاپاکستان میں پاکستان میں والہانہ استقبال اسی مثالی دوستی کی کڑی ہے۔ میاں محمدنواز شریف سے سعودی حکومت اور شاہی خاندان کی دوستی و تعلقات کاقصہ ہرخاص وعام کے زبان پر عام ہے۔ سعودی عرب نے اس لازاول دوستی کو ہمیشہ عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار اداکرتے رہے پاکستان کی تعمیروترقی اور خوشحالی کے لئے درجنوں مرتبہ سعودی عرب نے تیل کم سے کم قیمتوں میں یاپھر تحفۃً دیے تاکہ پاکستان ملکی بحران سے نکل سکے۔ ہم اس حقیقت کوبھی فراموش نہیں کرسکتے کہ اگرآج ہم مسلم دنیاکی واحد ایٹمی طاقت ہیں تواس کے پیچھے بھی کہی ناکہی سعودی عرب کا اہم ترین کردار ہے۔ 28 مئی 1998 میں پاکستان کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے بعدجب دنیائے کفرنے پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کی تو سعودی عرب نے دستِ بازو بن کر پاکستان کوسہارادیا۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ سعودی عرب کے تمام بادشاہ اورشہزادے پاکستان کے خیرخواہ ہیں اور تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمدبن سلمان کا حالیہ دورہ انتہائی اہمیت کاحامل ہے اس سے قطعی نظر کہ ڈیل کس حکومت نے کی اور معاملات کب طے پائے، اس دورے سے دونوں ملکوں کی بنیادی اور اقتصادی تعلقات مزیدمضبوط ہوں گے اور ملکی معیشت کو پنپنے کا بھرپورموقع ملے گا۔ اللہ تعالٰی پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کوتاقیامت قائم ودائم رکھیں یقیناً اس کافائدہ عالمِ اسلام کو بھی ہوتا رہے گا۔


