الکیمسٹری اور متاری پر آیا جن


پورے محلے میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی تبھی تو مجھ تک کیسے نہیں پہنچتی۔ اصل خبر یہ تھی کہ متاری پہ جن آگیا تھا۔ اس جن کا وہ مجھ سے بارہا ذکر کر چکی تھی۔ میں انتظار کررہی تھی کہ پروفیسرمغز مار بلا بھیجیں تو جاؤں۔ ایساہی ہوا اور میں پرس اور کتاب لے کے باہر نکل آئی۔

جن آنے والی بات تو ان پڑھ لوگ ہی کرتے ہیں پڑھے لکھے لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ نفسیاتی مسئلہ ہوتا ہے۔ میں نے نفسیات کی ایک کتاب پڑھ رکھی تھی۔ مجھے یقین تھا میں متاری کا علاج کرلوں گی۔ یقینا اسے جو بچپن میں محرومی ملی تھی اور لاشعورمیں موجود تھی وہ شعور میں آکر گڑ بڑ کررہی تھی۔

متاری کے گھر پہنچ کے کیا دیکھتی ہوں کہ جس جگہ متاری بیٹھ کر ٹیوی دیکھتی تھی ابھی وہاں پروفیسر ریموٹ کنٹرول لئے بیٹھے ہیں۔ ٹی وی میں ہم ٹی وی کا کوئی ڈرامہ چل رہا تھا۔ وہاں ایک سوٹیڈ بوٹیڈ شخص لمبے سفید بالوں والاخاموشی سے ایک صوفے پر بیٹھا ہوا متاری کی حرکات و سکنات کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پروفیسر مغز مار نے میرے آنے سے پہلے ہی ماہر نفسیات کو بلا لیا تھا جو ٹکر ٹکر متاری کو دیکھے جارہا تھا اور تجزیہ کرنے کے بعد ہی علاج کرتا۔

متاری تو بالکل ہی بدل گئی تھی وہ لیڈی گاگا کی طرح اٹھلا کے ادھر اُ دھر چل پھر رہی تھی کبھی وہ باورچی خانے میں کوئی کام کرنے لگتی۔ ایسا سب کچھ تو میں نے یہاں کم کم ہی دیکھا تھا۔

ٹیوی دیکھتے ہوئے تو اچانک ہی وہ رونے لگ گئے۔ نہ جانے میری معصوم سی گڑیا کو کسی کی نظر کھاگئی۔ میں نے دیکھا کہ ٹیوی میں جو ڈرامہ چل رہا تھا وہیں ایک معصوم سی گڑیا ایسی لڑکی بلک بلک کر روہی تھی۔ میں نے پروفیسر مغزر مار سے پوچھا کہ یہ قسط تو بہت دکھی جارہی ہے معصوم سی گڑیا کے ساتھ آخر کیا مسئلہ دکھارہے ہیں۔

پروفیسر نے خونخوار انداز میں مجھے دیکھا اور کہا میں ٹیو ی والی کی نہیں اپنی متاری کی بات کر رہاہوں۔ اوہ میرے منہ سے بے اختیار نکلا۔ متاری میرے قریب آکر بولی نہ جانے کیا بات ہے دو اجنبن تو پہلے ہی موجود تھے اب یہ اجنبی بھی آن پہنچی ہے۔ ان کے انداز میں اس بات کا شائبہ تک نہیں تھا کہ وہ مجھے پہچانتی ہے ہم بھی کبھی آشنا تھے۔

ویسے یہ دکھ کی بات تھی لوگ جانے انجانے بنتے دیرنہیں کرتے۔ اب مجھے پروفیسر مغز مار کے دکھ کا احساس گہرائی میں جاکے محسوس ہوا تھا۔ پروفیسر نے ٹیوی بند کرکے مجھ سے راز دارانہ انداز میں پوچھا کہ اب ان حالات میں جب متاری ہمیں پہچان نہیں پارہی تو کوئی ایسا گانا جو متاری نے گایا ہو تو وہ میں گاکے اس کو ماضی یاد دلاسکتی ہوں یا نہیں۔ میں نے پروفیسر کو بتایا کہ متاری ان خواتین میں سے نہیں جو گنگناتی رہتی ہیں پر میں نے نفیسات کی ایک کتاب پڑھ رکھی ہے۔ اس لئے وہ چاہے تو میں بخوبی متاری کا نفسیاتی علاج کرسکتی ہوں۔

پروفیسر کو میری بات سمجھ میں آگئی تھی اس نے متاری کو بلا یا آواز دی سنتیا گن او سنتیا گن ذرا یہاں آکے بیٹھ پروفیسر نے متاری کو سنتیا گن کہہ کے بلایا یہ سب کچھ میرے لئے حیرت انگیز تھا میں تو الجھن میں ہی پڑگئی تھی جس کو محسوس کرکے پروفیسر نے بات کو صاف کیا کہ متاری نے اپنا نام بدل کے سنتیا گن رکھ لیا ہے اگر متاری کہو تو برا مان جاتی ہے۔ متاری آکے ہمارے قریب ہی بیٹھ گئی میں نے اس کے انداز میں بے رخی کو بہت محسوس کیا جو وہ روا رکھ رہی تھی۔

اچھا تو آپ سنتیا گن ہیں آپ کو کیسے معلوم پڑا کہ آپ کا نام اب سنتیا گن ہے؟ یہ میری طرف سے پہلا سوال تھا اس طرح کے ڈھیروں سوال کرکے تو مجھے مرض کی نوعیت تک پہنچنا تھا کتاب میں بھی لکھا تھا۔ مجھے تاجر کے کالی آنکھوں والے لڑکے نے بتایا کہ میں سنتیا گن ہوں۔ اس کے انداز میں تجاہل عارفہ تھا۔ کون تاجر کا لڑکا؟ یہ میری طرف سے دوسرا سوال تھاوہی تاجر کا لڑکا جو اندلس میں ہوتا ہے۔ پھر وہ اپنے آپ سے کہنے لگی یہاں تو ہر دن ہی گذشتہ دن جیسا ہوتا ہے نہ جانے اس سے اس کا مطلب کیا تھا۔

میں سوچ ہی رہی تھی کہ متاری کے لاشعور تک پہنچنے کے لئے اگلا سوال کون سا کروں تو وہ خودہی بول پڑی۔ اس بڈھے کو بولو مجھے بھیڑیں لے کے دے۔ اس نے پروفیسر کی طرف ہی اشارہ کیا حالانکہ سوٹیڈ بوٹیڈ لمبے سفید بالوں والا بھی موجود تھا۔ یہ فرمائش سن کر تو میں گھبرائی اور پوچھا کہ وہ بھیڑوں کا کیا کرے گی؟ اصل میں متاری کے جن کو بھیڑیں چاہیے تھیں۔ پروفیسر بیچ میں بول پڑا وہ متاری کو ترس بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔ جان من تمہیں میں بھیڑیں لے کے دوں گا۔ میں نے پنشن میں سے کچھ پیسے بچاکے رکھے ہوئے ہیں۔

میں نے متاری سے پھر پوچھا کہ وہ بھیڑوں کا کیا کریں گی۔ اصل میں اب میں آہستہ آہستہ اس کے لاشعور کے قریب پہنچ رہی تھی۔ متاری نے ایک گھری سانس لی اور گویا ہوئی کہ وہ گڈریا بننا چاہتی ہے۔ بھیڑوں کا ریوڑ لے کے تو کچھ وقفے سے کہا دیکھتی نہیں کہ اندلس میں کتنی بہترین چراگاہیں ہیں۔

یہ سن کر تو پروفیسر رونے لگا اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا۔ میں نے متاری سے پھر پوچھا کہ اتنے چھوٹے سے گھر میں بھیڑوں کو وہ کہاں رکھیں گی۔ میں بھیڑوں کو لے کے سفر پہ نکلوں گی اور جو خواب میں خزانہ دیکھا ہے وہ تلاش کروں گی ابانے تو یہی کہا تھا کہ محلے کے بچوں کو بائبل پڑھا دیا کرو ہم تمہارے والدین خوش ہوجائیں گے پر میں تو سفر کرنا چاہتی ہوں تاکہ خزانہ تلاش کر سکوں۔

خزانے کا نام سن کر پروفیسر بے اختیار اچھلا اس کی آنکھوں میں چمک آگئی تھی۔ متاری نہیں نہیں او سنتیا گن جلد اپنے جن سے خزانے کی ایڈریس معلوم کر وہ سرعت سے اٹھا اور پین کاپی لے آیا تھا۔ خزانہ تو صحرا کے اس پارہی ملے گا۔ وہ اطمینان سے مسکرائی۔ اچھا۔ وہ خوشی سے بولا میں ابھی کرائے پہ ٹیکسی لے آتا ہوں ہم ابھی تھر چلتے ہیں خزانہ تلاش کرنے پر پہلے تو پراپر ایڈریس تو معلوم کر۔ متاری یعنی سنتیا گن نے ایڈریس والی بات ان سنی کردی اور بتایا کہ وہ بھیڑوں والی اون اچھے سے پیسوں میں بیچاکر لے گی۔

میں نے نفسیات کی کتاب کھول لی اور طریقہ دیکھنے لگی کہ مریض سوال کا جواب ہی صحیح نہ دیتا ہو تو کیا کرتے ہیں لکھا تو مریض کے ماضی کو کریدنا۔ اب میں سیدھی ہوکہ بیٹھی اور متاری سے سنجیدگی سے سوال کیا کہ یاد کرکے بتائے کہ اس کو بچپن میں کیا احساس محرومی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ احساس کمتری کا شکار ہوگئی ہے۔ متاری سوچنے لگی پھر ذرا توقف سے کہا کہ اسے کچھ یاد نہیں بس یہ یاد ہے کہ بھیڑ کے بال پیچھے سے آگے کی طرف تراشنے ہوتے ہیں۔

اب تو میں گھبرائی میں متاری کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہورہی تھی۔ مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اگلا سوال یہ کیا کہ اس کی کون سی شدید خواہش پوری نہیں ہوسکی ہے۔ اس نے مجھے جو اب دینے کے بجائے پروفیسر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ دیکھو جو بھیڑیں تم میرے لئے لوگے ان میں سے کوئی لنگڑی ناہو لنگڑی کو لے کے چلنا مشکل ہوگا۔ بھیڑیں سب سمجھتی ہیں اور ہاں مجھے ایک کتاب بھی لے کے دینا۔

پروفیسر خوش ہونے لگا کہ وہ اس کو اپنا سمجھ کے اس سے ہی فرمائش کررہی ہے۔ میری پیاری سنتیا گن تم کتاب کا کیا کروگی؟ متاری نے جواب دیا کہ وہ سوتے وقت کتاب کا تکیہ بنالیا کرلے گی۔ پروفیسر نے کہا گھر میں بہت تکیے پڑے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی لیتی جانا۔

متاری جو ہانڈی چڑھا کے آئی تھی اس کے جلنے کی بو پھیلنے لگی تو وہ چیک کرنے کے لئے اٹھتے ہوئے بولی یہ ایک غیبی اشارہ ہے پروفیسر نے بے بسی سے مجھے دیکھا۔ واپس آکے اس نے ہم سے پوچھا کہ اس کے یورم اور تھوم کہاں رکھے ہیں۔ یہ کیا ہوتے ہیں؟ اب پروفیسر نے اپنے چشمے کو کچھ اور پر نیچے کرکے اسے دیکھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2